حدیث نمبر: 26038
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ , وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ , فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ قِرَاءَتَهُ , فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ , فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ كَثُرُوا , فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ , وَإِنْ قَلَّ , قَالَتْ : وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کردیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔
حدیث نمبر: 26039
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا , وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا , وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا , رَكَعَ جَالِسًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 26040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ , قَالَ : قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ : وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23 , وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 قَالَتْ : أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا , فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَاكِ جِبْرِيلُ " , لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ , سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے ؟ " انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 26041
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ , لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَاتِ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولا سورة النساء آية 47 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کے طعنوں کا خوف کر رہے تھے۔ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے "۔
حدیث نمبر: 26042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " قَدْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ , وَصَلَاةَ الْفَجْرِ , لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا , قَالَ : وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی ہوجاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26043
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ طَيْرٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , حَوِّلِيهِ , فَإِنِّي إِذَا رَأَيْتُهُ , ذَكَرْتُ الدُّنْيَا " وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ يَلْبَسُهَا , تَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ ! اس پردے کو بدل دو ، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح کی ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں۔
حدیث نمبر: 26044
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ , حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللَّهِ الْمُبَرَّأَةُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ , فَلَمْ أُكَذِّبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ مجھ سے صدیقہ بنت صدیق، حبیب اللہ علیہ السلام کی چہیتی اور ہر تہمت سے مبرا ہستی نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اس لئے میں ان کی تکذیب نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 26045
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26046
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ , عَنْ كَهْمَسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " عَائِشَةُ , قُلْتُ : فَمِنْ الرِّجَالِ ؟ قَالَتْ : " أَبُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی ؟ انہوں نے بتایا عائشہ سے کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ مردوں میں سے ؟ انہوں نے فرمایا عائشہ کے والد سے۔
حدیث نمبر: 26047
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ مَكَّةَ وَلَا الْمَدِينَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سگے گا۔
حدیث نمبر: 26048
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُرَقِّعُ الثَّوْبَ , وَيَخْصِفُ النَّعْلَ , أَوْ نَحْوَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے ہر کوئی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور کپڑوں پر خود پیوند لگا لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26049
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا عَلِمْنَا أَيْنَ يُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي , مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ " , قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَالْمَسَاحِي : الْمُرُورُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔
حدیث نمبر: 26050
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي لَيْثٍ , عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينِ الْبَغِيضِ النَّافِعِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّهُ يَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ " , وَقَالَتْ : كَانَ إِذَا اشْتَكَى مِنْ أَهْلِهِ إِنْسَانٌ , لَا تَزَالُ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , وَقَالَ : يَعْنِي رَوْحٌ بِبَغْدَادَ , كَانَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ شَيْئًا لَا تَزَالُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے نیز اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے کوئی بیمار ہوجاتا تو آگ پر ہنڈیا مسلسل چڑھی رہتی، یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک کام (موت یا صحت مند) ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 26051
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ وَالضَّحَّاكُ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ : " وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ , قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ , وَقُمْتُ وَرَاءَهُ أَنْظُرُ فِيمَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ , وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ " , قَالَ عَطَاءٌ : فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ , وقَالَ ابْنُ عُمَيْرٍ : هُمْ حَبَشٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
حدیث نمبر: 26052
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ , فَقَالَتْ : لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا , فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ , وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
بنانہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ان کے یہاں ایک بچی آئی جس کے پاؤں میں گھونگھرو تھے اور ان کی بجنے کی آواز آرہی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے پاس اس بچی کو نہ لاؤ، الاّ یہ کہ اس کے گھنگھرو اتار دو ، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، بنانہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور ایسے قافلے کے ساتھ بھی فرشتے نہیں جاتے جس میں گھنٹیاں ہوں۔
حدیث نمبر: 26053
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ , وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ , وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ , وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے ہی رکھتے رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26054
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَاصِمٍ مَوْلًى لِقُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ قُرَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ , فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " أَنَا لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ , إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 26055
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ , عَنْ قُرَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 26056
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , حَدَّثَنَا أَوْفَى بْنُ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيُّ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26057
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمِ , وَلَا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ , وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا , وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو، کشمش اور کجھور کو ملا کر یا کچی اور پکی کجھور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔
حدیث نمبر: 26058
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ , أَنَّ أَبَا نَهِيكٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ , فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ , فَأَخْبَرُوهَا , فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ , فَيُوتِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ لوگوں سے تقریر کے دوران فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو صبح کا وقت ہوجائے اور اس نے وتر نہ پڑھے ہوں تو اب اس کے وتر نہیں ہوں گے، کچھ لوگوں نے یہ بات جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بعض اوقات صبح ہونے پر بھی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26059
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ بن معاذ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْلُتُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الْإِذْخِرِ , ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ , وَيَحُتُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا , ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنے کپڑوں سے مادہ منویہ کو " اذخر " گھاس کے عرق سے دھو لیا کرتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اگر وہ مادہ خشک ہوگیا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھرچ دیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26060
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ حَزْمٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا , فَأَطْعَمْتُهَا تَمْرَةً , فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا , وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ : " مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ , فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ , كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کجھور دی، اس نے کجھور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
حدیث نمبر: 26061
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ , قَالَ : سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا لَبَّتْ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
حدیث نمبر: 26062
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , عَنْ خَيْثَمَةَ , عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي بَعْدَ ذَلِكَ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " , قَالَ أَبِي : أَبُو عَطِيَّةَ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
حدیث نمبر: 26063
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ , وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 26064
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 26065
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ , أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ , وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ , وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ , فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ , وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا , فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ , ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ , فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ , وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کرلے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہوجائے، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کردیا۔
حدیث نمبر: 26066
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ , فَقُلْتُ : إِنِّي مَا خَفِيَتْ عَلَيَّ مِنْهُنَّ لَيْلَةٌ , إِنَّمَا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٩ ٢ کا بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 26067
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا نُكَذِّبُهُ , قَالَ : أَخْبَرْتُ عَائِشَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " , فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ , وَقَالَتْ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ : " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، انہوں نے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عبدالرحمن کی اللہ بخشش فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا، انہوں نے تو یہ فرمایا تھا کہ مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 26068
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ , وَكَانَ يَوْمٌ فِيهِ تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ , فَلَمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضَانَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ , وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 26069
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ , فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ , وَلَا يَصْخَبْ , فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ أَحَدٌ , فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو اس دن بیہودہ گوئی اور شورو غل نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دینا یا لڑنا چاہے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حدیث نمبر: 26070
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "
حدیث نمبر: 26071
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "
حدیث نمبر: 26072
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ , قَالَ أَبِي : وَإِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبِي : إِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ , وَهِمَ شُعْبَةُ.
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وباء حنتم اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 26073
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنِ شُمَيْسَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَامَ إِلَيْهَا إِنْسَانٌ , فَقَالَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ فَقَالَتْ : " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نیند سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 26074
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أبي بَكْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ شُمَيْسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 26075
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صَلَاتِهِ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ , فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَعَوَّذُ مِنَ الْمَغْرَمِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ , حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے، اے اللہ ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 26076
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " , وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّتْ , وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہوسکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26077
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ شَهْرٌ مَا نَخْتَبِزُ فِيهِ " , قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , فَمَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا , كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ يُهْدُونَ مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دوہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمالیا کرتے تھے۔
…