حدیث نمبر: 25998
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو ان کی زرہ تیس صاع جَو کے عوض گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2916، م: 1603
حدیث نمبر: 25999
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
حدیث نمبر: 26000
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي , ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْقَمَرِ , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا , فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل الحارث
حدیث نمبر: 26001
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " , ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَنْ تَحْتَجِبَ مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ , فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد بن زمعہ سے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سودہ ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ ان کے انتقال تک انہیں دیکھ نہیں سکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق توبع، خ: 2218، م: 1457
حدیث نمبر: 26002
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ , قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ؟ , فَقَالَتْ : " كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , قَامَ , فَرَكَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ بن وقاص لیثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کردو رکعتیں کس طرح پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت تو بیٹھ کر کرتے تھے لیکن جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور پھر رکوع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 731
حدیث نمبر: 26003
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ , وَلَكِنَّهُ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ , وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26004
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ , قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّهْ , فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ ؟ قَالَتْ : " الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ , غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ , فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
حدیث نمبر: 26005
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ , فَإِنْ كَانَتْ لَتَدْخُلُ الْمِرْكَنَ مَمْلُوءًا مَاءً , فَتَغْتَمِسُ فِيهِ , ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ , وَإِنَّ الدَّمَ لَغَالِبُهُ , فَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زینب بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتدليس محمد بن إسحاق وقد عنعن
حدیث نمبر: 26006
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُحْرِمُ وَحِينَ يَحِلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 26007
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ , فَأَفْطَرَتْنِي , وَكَانَتْ ابْنَةُ أَبِيهَا , فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ : " أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سفيان - هو ابن حسين - ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 26008
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ : سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ فَأَعْطَتْهَا , فَقَالَتْ لَهَا : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ , فَلَمَّا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ , فَقَالَ : " لَا " قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ : " إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودیہ عورت نے ان سے کچھ مانگا، انہوں نے اسے وہ دے دیا، اس نے کہا کہ اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، انہیں اس پر تعجب ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ان سے اس کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سفيان توبع
حدیث نمبر: 26009
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : " لَقَدْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ؟ , فَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ , فَمَا تَرَكَ شَيْئًا كَانَ يَصْنَعُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے اور کوئی چیز نہ چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
حدیث نمبر: 26010
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ , فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26011
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ , وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھ لیتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
حدیث نمبر: 26012
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ , وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ , وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ نافرمان جانور ہوتا ہے، اسی طرح بچھو، کوا اور چوہا بھی نافرمان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26013
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى , أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6014، م: 2624
حدیث نمبر: 26014
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ السِّوَاكَ لَمَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه
حدیث نمبر: 26015
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ؟ فَقَالَتْ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ الْقِرَاءَةَ فِيهِمَا , وَذَكَرَتْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فجر کی سنتون میں قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سری قرأت فرماتے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس میں سورت کافروں اور سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمدا لم يدرك عائشة والحديث صحيح دون قوله: "يسر القراءة."
حدیث نمبر: 26016
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ , فَرَأَتْ بَنَاتِهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ , فَقَالَتْ : إِنِّي لَأَرَى بَنَاتِكِ قَدْ حِضْنَ أَوْ حَاضَ بَعْضُهُنَّ , قَالَتْ : أَجَلْ , قَالَتْ : فَلَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ وَقَدْ حَاضَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي فَتَاةٌ , فَأَلْقَى إِلَيَّ حَقْوَهُ , فَقَالَ : " شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ , فَإِنِّي لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا , أَوْ لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کر کے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کردو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد وعائشة
حدیث نمبر: 26017
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ لِحُرْمِهِ , وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5922، م: 1189
حدیث نمبر: 26018
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ لِي : " أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : يا رسول الله , ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نکلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے دعا فرما رہے تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہوگیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 26019
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَوَضَّأُ بِقَدْرِ الْمُدِّ , وَيَغْتَسِلُ بِقَدْرِ الصَّاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26020
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةٌ , وَإِنَّ مَادَّةَ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کا ایک مادہ ہوتا ہے اور قریش کا مادہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو ابن أرطاة
حدیث نمبر: 26021
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا , وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 26022
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ , وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : رَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَكَانَ يَقُولُ : نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا يَقْرَءُونَهُمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ دو سورتیں کتنی اچھی ہیں " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور " وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26023
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاخْتَرْنَاهُ , فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا " , قَالَ أَبُو بَكْرٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِي أَبُو الضُّحَى.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الثوري
حدیث نمبر: 26024
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کھرچ دیا کرتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 26025
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26026
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جَارَيْنِ , فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ , قَالَ : " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2595
حدیث نمبر: 26027
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يَجْلِسُ عَلَى الْخَلَاءِ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ , فَكَرِهُوا ذَلِكَ , فَحَدَّثَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَوَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ حَوِّلِي مَقْعَدِي إِلَى الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف خالد بن أبى الصلت على نكارة فى متنه
حدیث نمبر: 26028
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ , وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشُقُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 26029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ , فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ , وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ , وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا , وَبَابًا غَرْبِيًّا , فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ , فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے اسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اسے زمین سے ملا کر اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
حدیث نمبر: 26030
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ , وَهِيَ أَنْجَالٌ وَغَرْقَدٌ , فَاشْتَكَى آلُ أَبِي بَكْرٍ , فَاسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَةِ أَبِي , فَأَذِنَ لِي , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ , كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ , وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ , قَالَتْ : قُلْتُ : هَجَرَ وَاللَّهِ أَبِي , ثُمَّ أَتَيْتُ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ , فَقُلْتُ : أَيْ عَامِرُ , كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ , إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فُوقِهِ , قَالَتْ : فَأَتَيْتُ بِلَالًا , فَقُلْتُ : يَا بِلَالُ , كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً , بِفَخٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ , قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ , قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا , وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا , وَحَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ , كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ , وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى خُمٍّ ، وَمَهْيَعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں ؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے "۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی "۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب رکھ جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع لان عبدالرحمن بن الحارث ضعيف ولم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26031
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا , وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا , وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ , فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ سورة المائدة آية 72 وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ , وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا , الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے یہاں تین قسم کے دفتر ہوں گے، ایک قسم کے دفتر (رجسڑ) تو ایسے ہوں گے جن کی اللہ کوئی پرواہ نہیں کرے گا، ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا اور ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، ایسے رجسڑ جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے " جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ اس پر جنت کو حرام کردیتا ہے اور وہ رجسڑ جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے جن کا بہر صورت بدلہ لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل صدقة بن موسي
حدیث نمبر: 26032
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ فَسَارَّهَا ، فَبَكَتْ , ثُمَّ سَارَّهَا ، فَضَحِكَتْ , فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَتْ : أَمَّا حَيْثُ بَكَيْتُ , فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ , ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ , فَضَحِكْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کے ساتھ سر گوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، تو بعد میں حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں ؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إستاده صحيح، خ: 3625، م: 2450
حدیث نمبر: 26033
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ , فَهُوَ رَدٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2697، م: 1718
حدیث نمبر: 26034
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ , فَأَخْبَرَاهَا ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الطِّيَرَةُ مِنَ الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " , فَغَضِبَتْ , فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ , وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ , وَقَالَتْ : وَالَّذِي أَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ , مَا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ , إِنَّمَا قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بدشگونی لیا کرتے تھے ( اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26035
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ , عَنْ أُمِّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم السائب الراسبية
حدیث نمبر: 26036
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ , أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5263
حدیث نمبر: 26037
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً يَعْنِي الْغَيْمَ , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ , وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ , وَأَدْبَرَ , فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَتْ : فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ : " وَمَا يُدْرِينِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور وہ اندر باہر اور آگے پیچھے ہونے لگتے، جب وہ برس جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے کے تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں عذاب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899