حدیث نمبر: 25958
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ , فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " , فَلَمْ يَرْضَوْا , قَالَ : " فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا " , فَلَمْ يَرْضَوْا , قَالَ : " فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا " , فَرَضُوا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " , قَالُوا : نَعَمْ , فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ , فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا , أرَضِيتُمْ ؟ " , قَالُوا : لَا , فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا , فَكَفُّوا , ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ , وَقَالَ : " أَرَضِيتُمْ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " , قَالُوا : نَعَمْ , فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " أَرَضِيتُمْ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے ایک علاقے میں بھیجا، وہاں ایک آدمی نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں ابوجہم سے جھگڑا کیا، ابوجہم نے اسے مارا اور زخمی ہوگیا، اس قبیلے کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہمیں قصاص دلوائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قصاص کا مطالبہ چھوڑ دو ، میں تمہیں اتنا مال دوں گا، لیکن وہ لوگ راضی نہ ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مقدار میں مزید اضافہ کیا، لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، البتہ تیسری مرتبہ اضافہ کرنے پر وہ لوگ راضی ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضا مندی کے متعلق بتادوں ؟ انہوں نے کہا جی ضرور۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قبیلہ کے یہ لوگ میرے پاس قصاص کی درخواست لے کر آئے تھے، میں نے انہیں اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور یہ راضی ہوگئے ہیں، پھر ان سے فرمایا کیا تم راضی ہوگئے ؟ انہوں نے انکار کردیا، اس پر مہاجرین کو بہت غصہ آیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکنے کا حکم دے دیا، وہ رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر مقررہ مقدار میں مزید اضافہ کردیا اور فرمایا اب تو راضی ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتادوں ؟ انہوں نے کہا جی ضرور، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ان سے پوچھا کیا تم راضی ہوگئے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25959
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , فَذَكَرَ حَدِيثًا ثُمَّ ، قَالَ , قَالَ : الزُّهْرِيُّ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ , وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ , ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ , فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ , فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ , وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ , وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ , ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا , حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ , فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ , فَقَالَ : " اقْرَأْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقلت : " مَا أَنَا بِقَارِئٍ " قَالَ : " فَأَخَذَنِي , فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ , ثُمَّ أَرْسَلَنِي , فَقَالَ : اقْرَأْ , فَقُلْتُ : " مَا أَنَا بِقَارِئ " فَأَخَذَنِي , فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ , حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ , ثُمَّ أَرْسَلَنِي , فَقَالَ : اقْرَأْ , فَقُلْتُ : " مَا أَنَا بِقَارِئٍ " , فَأَخَذَنِي , فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ , ثُمَّ أَرْسَلَنِي , فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1 , حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ سورة العلق آية 5 , قَالَ : فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ , حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ , فَقَالَ : " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي " , فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ , فَقَالَ : " يَا خَدِيجَةُ مَالِي ؟ " فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ , قَالَ : " وَقَدْ خَشِيتُ عَلَيَّ " , فَقَالَتْ : لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ , فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا , إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ , وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ , وَتَحْمِلُ الْكَلَّ , وَتَقْرِي الضَّيْفَ , وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ , ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ , وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا , وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ , فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ , وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ , فَقَالَتْ خَدِيجَةُ : أَيْ ابْنَ عَمِّ , اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ , فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي , مَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى , فَقَالَ وَرَقَةُ : هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا , أَكُونَ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ " , فَقَالَ وَرَقَةُ : نَعَمْ , لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ , وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ , أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا , ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ , وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ , فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ , تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ , وَتَقَرُّ نَفْسُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ , فَيَرْجِعُ , فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ , وَفَتَرَ الْوَحْيُ , غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ , فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ , تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ لَهُ : مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اول سچی خوابوں سے وحی کا نزول شروع ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے وہ بالکل صبح روشن کی طرح ٹھیک پڑتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم خلوت پسند ہوگئے تھے اور غار حرا میں جا کر گوشہ گیری اختیار کرلی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی روز تک وہیں پر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اسی اثناء میں گھر پر بالکل نہ آتے تھے لیکن جس وقت کھانے پینے کا سامان ختم ہوجاتا تھا تو پھر اتنے ہی دنوں کا کھانا لے کر چلتے تھے، آخر کار اسی غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ ایک فرشتہ نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا پڑھئے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) یہ سن کر اس فرشتہ نے مجھ کو پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں بےطاقت ہوگیا، پھر اس فرشتہ نے مجھ کو چھوڑ کر کہا پڑھئے ! میں نے کہا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس نے دوبارہ مجھ کو پکڑ کر اس قدر دبوچا کہ مجھ میں طاقت نہیں رہی اور پھر چھوڑ کر مجھ سے کہا پڑھئے میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تیسری بار اس نے مجھ کو اس قدر زور سے دبایا کہ میں بےبس ہوگیا اور آخر کار مجھ کو چھوڑ کر کہا ! کہ " پڑھ " اپنے رب کے نام کی برکت سے جس نے ( ہر شئ کو) پیدا کیا ( اور) انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھ اور تیرا رب بڑے کرم والا ہے "۔ ( ام المومنین فرماتی ہیں) آپ یہ بات پڑھتے ہوئے گھر تشریف لائے تو اس وقت آپ کا دل دھڑک رہا تھا، چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر آپ نے فرمایا مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑا اوڑھایا، جب آپ کی بےقراری دور ہوئی اور دل ٹھکانے ہوا تو ساری کیفیت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے بیان فرمائی اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ کی قسم ! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، آپ کو بالکل فکر نہ کرنی چاہیے، خدائے تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرے گا کیونکہ آپ تو برادر پرور ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، کمزوروں کا کام کرتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں اور جائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ نے دور جاہلیت میں عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا اور انجیل کا ( سریانی زبان سے) عبرانی میں ترجمہ کر کے لکھا کرتے تھے، بہت ضعیف العمر اور نابینا بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس پہنچ کر کہا ابن عم ذرا اپنے بھتیجے کی حالت تو سنئے ! ورقہ بولا کیوں بھتیجے کیا کیفیت ہے ؟ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا ورقہ سے بیان کردیا جب ورقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال سن چکے تو بولے یہ فرشتہ وہی ناموس ہے، جس کو خدائے تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا کاش ! میں عہد نبوت میں جوان ہوتا کاش ! میں اس زمانہ میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو قوم والے ( وطن سے) نکالیں گے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ بولے جی ہاں ! جو شخص بھی آپ کی طرح دین الٰہی لایا ہے اس سے عداوت کی گئی ہے، اگر میں آپ کے عہد نبوت میں موجود ہوا تو کافی امداد کروں گا، لیکن اس کے کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہوگیا اور سلسلہ وحی بند گیا، فترتِ وحی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ کئی مرتبہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانے کا ارادہ کیا، لیکن جب بھی وہ اس ارادے سے کسی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سامنے آجاتے اور عرض کرتے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے برحق رسول ہیں، اسے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش ٹھنڈا اور دل پر سکون ہوجاتا تھا اور وہ واپس آجاتے، پھر جب زیادہ عرصہ گذر جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں تسلی دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4956، م: 160
حدیث نمبر: 25960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الْحَبَشَةَ لَعِبُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي , فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْكِبِهِ حَتَّى شَبِعْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 892
حدیث نمبر: 25961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ , فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي يَلْعَبْنَ مَعِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری سہلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6130، م: 2440
حدیث نمبر: 25962
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : قَالَ لِي عُرْوَةُ ، إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَئِذٍ لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً , إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی بھیجا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25963
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا , وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا , وَإِنْ قَلَّتْ : وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر دوام بھی فرماتے تھے اور انہیں سب سے زیادہ پسند بھی وہی نماز تھی جس پر دوام ہو، اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہو اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25964
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ أَكْثَرُ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ مِنْ شَعْبَانَ , فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 25965
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ , قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ ؟ فَبَعَثَ مَعِي أَخِي , فَاعْتَمَرْتُ , فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا اور میں نے عمرہ کرلیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 25966
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ , عَنْ مِصْدَعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ , وَيَمُصُّ لِسَانَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: "ويمص لسانها" وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار وقد انفرد بهذه اللفظة
حدیث نمبر: 25967
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ , فَزَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ , وَتَرَكَ صَلَاةَ السَّفَرِ عَلَى نَحْوِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابتداء نماز کی دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم الٰہی کے مطابق حضر کی نماز میں اضافہ کردیا اور سفر کی نماز کو اسی حالت پر دو رکعتیں ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 25968
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي , فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں اور جوں ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2130، م: 2440
حدیث نمبر: 25969
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا , فَاشْتَكَتْ , وَتَسَاقَطَ شَعَرُهَا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا فَأَصِلُ شَعْرَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُوصِلَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5205، م: 2123
حدیث نمبر: 25970
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ النَّصْرِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى , عن طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيُّ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن طلحة ابن عبيد الله لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25971
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25972
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى السَّامِيُّ , حَدَّثَنَا بُرْدٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي , فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہوجاتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25973
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا " كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ , وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ , فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حلان کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2046
حدیث نمبر: 25974
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَوَضَّأُ بِنَحْوِ الْمُدِّ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25975
قَالَ يَزِيدُ : بِقَدْرِ الْمُدِّ , قَالَ يَزِيدُ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , أَوْ مُعَاذَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , وَقَالَ : بِقَدْرِ الْمُدَّ ، وَبِقَدْرِ الصَّاعِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25976
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَوَضَّأُ بِقَدْرِ الْمُدِّ أَوْ نَحْوِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25977
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ , حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَدَّانُ , فَقِيلَ لَهَا مَا يَحْمِلُكِ عَلَى الدَّيْنِ , وَلَكِ عَنْهُ مَنْدُوحَةٌ ؟ قَالَتْ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُدَانُ وَفِي نَفْسِهِ أَدَاؤُهُ , إِلَّا كَانَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ " , فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25978
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ شُمَيْسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شميسة مجهولة ولكن توبعت
حدیث نمبر: 25979
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ صَلَاتِهِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ , تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ کہہ سکیں اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے ! تو بہت بابرکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 592
حدیث نمبر: 25980
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ , تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہم میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ ایام کی حالت میں ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے اور جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل حجاج
حدیث نمبر: 25981
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ , عَنْ مُعَاذَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 25982
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَوْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ , لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ , كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 869، م: 445
حدیث نمبر: 25983
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي عَمْرَةَ , أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَمْرَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى إِنْ كُنْتُ لَأَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25984
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ , قَالَتْ : فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ , وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَعَتَبَةُ الْبَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سفيان بن حسين ضعيف فى روايته عن الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 25985
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ الْمَنِيُّ , غَسَلَ مَا أَصَابَ مِنْ ثَوْبِهِ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ , وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ فِي ثَوْبِهِ ذَلِكَ مِنْ أَثَرِ الْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے چلے گئے تھے اور مجھے ان کے کپڑوں پر پانی کے نشانات نظر آرہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 229، م: 289
حدیث نمبر: 25986
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ , فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ , قَالَتْ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ , قَالَ : قُلْتُ : أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ , فَقُلْتُ : أَجَلْ , وَلَكِنْ أَخْبِرِينِي , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشَاءَ الْآخِرَةِ , ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ , فَإِذَا كَانَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ , فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَ الْقِرَاءَةِ فِيهِنَّ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ , ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ , فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ , وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ , حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ , قَالَتْ : فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسَنَّ وَلَحُمَ , وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ , ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ , فَإِذَا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ , فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ , يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِرَاءَةِ , ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَرُبَّمَا لَمْ يُغْفِ حَتَّى يَجِيءَ بِلَالٌ , فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ , وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا سعد بن ہشام، انہوں نے فرمایا اللہ تمہارے والد پر اپنی رحمتیں نازل کرے، میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی نماز) قیام کے بارے میں بتائے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز عشاء پڑھا کر اپنے بستر پر آتے، درمیان رات میں بیدار ہو کر وضو کرتے، مسجد میں داخل ہوتے اور آٹھ رکعتیں مساوی قرأت، رکوع اور سجود کے ساتھ پڑھتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے اور سر رکھ کر لیٹے رہتے اور ان کے اونگھنے سے پہلے ہی بعض اوقات حضرت بلال رضی اللہ عنہ آکر نماز کی اطلاع دے جاتے، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، حتیٰ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک بھاری اور عمر زیادہ ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ معمول میں آٹھ کی بجائے چھ رکعتیں کردیں، باقی معمول وہی رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25987
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ , وَقَالَ مَرَّةً : أَخْبَرَنَا , قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، يَقُولُ : سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ , فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ , ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ يَنَامُ , فَإِذَا اسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ وَضُوءُهُ مُغَطًّى وَسِوَاكُهُ اسْتَاكَ , ثُمَّ تَوَضَّأَ , فَقَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ , يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا شَاءَ مِنَ الْقُرْآنِ , وَقَالَ مَرَّةً : مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ , فَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ , فَإِنَّهُ يَقْعُدُ فِيهَا , فَيَتَشَهَّدُ , ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ , فَيُصَلِّيَ رَكْعَةً وَاحِدَةً , ثُمَّ يَجْلِسُ , فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا , ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَيَقْرَأُ , ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَيُصَلِّي جَالِسًا رَكْعَتَيْنِ , فَهَذِهِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً , فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ , جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا يَقْعُدُ إِلَّا كَمَا يَقْعُدُ فِي الْأُولَى , وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَاعِدًا , فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر سو جاتے تھے، پھر بیدار ہوتے تو وضو کا پانی ڈھکا ہوا اور مسواک ان کے قریب ہی ہوتی، آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور آٹھ رکعات نماز پڑھتے۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئیں اور وفات تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح رہی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25988
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , قَالَ : قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَائِمًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ كَأَنَّهُ يُوقِظُنَا , بَلْ يُوقِظُنَا , ثُمَّ يَدْعُو بِدُعَاءٍ يُسْمِعُنَا , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 25989
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ , أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ , كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2684
حدیث نمبر: 25990
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِهِ ؟ , قَالَتْ : " كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا , لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ , وَلَا يُجْزِئُ بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا , وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور درگذر فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25991
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ دُهْنٍ يَجِدُهُ , حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَصِيصَ الدُّهْنِ فِي شَعَرِهِ , وَلَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ فَمَا يَعْتَزِلُ مِنَّا امْرَأَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی اور اسے بھیج کر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 25992
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلًا قَاعِدًا , وَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلًا قَائِمًا , فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25993
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ : كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ : يَا أَبَا عَائِشَةَ , أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ , قَالَ : " ذَلِكَ جِبْرِيلُ , لَمْ أَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ , رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ , سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا، (میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے ؟ '' ) انہوں نے فرمایا اے ابو عائشہ ! اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 177
حدیث نمبر: 25994
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ , وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25995
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَقَدَمَيْهِ , وَمَسَحَ يَدَهُ بِالْحَائِطِ , ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ , فَكَأَنِّي أَرَى أَثَرَ يَدِهِ فِي الْحَائِطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غسل کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر شرمگاہ اور پاؤں دھوتے، ہاتھ کو دیوار پر ملتے اور اس پر پانی بہاتے، گویا ان کے ہاتھ کا دیوار اوپر نشان میں اب تک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25996
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5952
حدیث نمبر: 25997
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ , بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ , وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ ؟ , قَالَتْ : " كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ ، وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك توبع، م: 253