حدیث نمبر: 25918
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تین مرتبہ تلبیہ کہتے تھے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حدیث نمبر: 25919
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " قَالَتْ : فَقُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ , فَقَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25920
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ , فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ , فَدَخَلَ بِهَا , وَكَانَ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ , فَلَمْ يَقْرَبْهَا إِلَّا هَبَّةً وَاحِدَةً , لَمْ يَصِلْ مِنْهَا إِلَى شَيْءٍ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ أأَحِلُّ لِزَوْجِي الْأَوَّلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلِّي لِزَوْجِكِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَكِ , وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
حدیث نمبر: 25921
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ , قَالَتْ : فَعَلَّقْتُ عَلَى بَابِي قِرَامًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ , قَالَتْ : فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " انْزِعِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اسے اتار دو ۔
حدیث نمبر: 25922
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا , ثُمَّ يَغْتَسِلُ , وَيُتِمُّ صَوْمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25923
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ , وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ , وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَلَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ , فَيَنْتَقِمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ انْتَقَمَ لَهُ , وَلَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا , فَإِنْ كَانَ إِثْمًا , كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کبھی کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 25924
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ , فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ , فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , لَا تَكُونِي فَاحِشَةً " , قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ , قَالَ : " أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا , قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ " , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ , يَعْنِي فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 حَتَّى فَرَغَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، ( جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعلیکم، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اتنی کھلی بات کرنے والی نہ بنو، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وعلیکم ( تم پر ہی موت طاری ہو)
حدیث نمبر: 25925
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , وَقَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25926
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ , إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
حدیث نمبر: 25927
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَيَعْلَى , أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاكِفٌ , وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 25928
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَيَعْلَى , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : لَمَّا أُنْزِلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 إِلَى آخِرِهَا , مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ , اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے تھے " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي "
حدیث نمبر: 25929
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , وَحَدَّثَنَاُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ : بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحَمِيرِ ! لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُقَابِلَ السَّرِيرِ , وَأَنَا عَلَيْهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ , فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ , فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ , كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہیں تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا ہے، حالانکہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چار پائی کی پائنتی کی جانب کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25930
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ , فَذَكَرَهُمَا جَمِيعًا , وَقَالَ : رِجْلَيْ السَّرِيرِ.
حدیث نمبر: 25931
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ , فَيَنَامُ وَيَسْتَيْقِظُ , وَيُصْبِحُ جُنُبًا , فَيُفِيضُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کی غسل واجب ہوجاتا اور ان کا ارادہ روزہ رکھنے کا ہوتا تو وہ سو جاتے اور جب بیدار ہوتے تو اپنے جسم پر پانی بہاتے اور وضو فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25932
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ , لِأَنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 25933
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گو یا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 25934
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا دِرْعًا , وَأَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔
حدیث نمبر: 25935
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي , قَالَ : فَكَانَتْ تُلَبِّي بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
حدیث نمبر: 25936
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً , يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ , لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا إِلَّا فِي آخِرِهَا , فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25937
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَّ مِنَ الْقِبْلَةِ مُخَاطًا أَوْ بُصَاقًا أَوْ نُخَامَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔
حدیث نمبر: 25938
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ , فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سانپوں کو دودھاری ہوں قتل کردیا کرو، کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25939
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي , وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔
حدیث نمبر: 25940
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ , فَكَانَ يَجْلِسُ فَيَقْرَأُ , حَتَّى إِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ , فَقَرَأَ بِهَا , ثُمَّ رَكَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 25941
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور اس میں چلو بھرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25942
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ هُوَ وَأَهْلُهُ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ , أَيْقَظَنِي , فَأَوْتَرْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
حدیث نمبر: 25943
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ لِلنَّاسِ فِي مَرَضِهِ , فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 25944
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ , فَقِيلَ إِنَّهَا حَائِضٌ , فَقَالَ : " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا " , قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ , قَالَ " فَلَا إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد ایام آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نہیں۔
حدیث نمبر: 25945
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ عِنْدَهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " , قَالَتْ : هَذِهِ فُلَانَةُ لَا تَنَامُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا , أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي يُدَاوِمُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن میں طاقت بھی ہو، واللہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حدیث نمبر: 25946
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَقْتُلْ الْمُحْرِمُ الْفَأْرَةَ , وَالْغُرَابَ , وَالْحِدَأَ , وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ , وَالْعَقْرَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا محرم ان چیزوں کو مار سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حدیث نمبر: 25947
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ أَبُو أُسَامَةَ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُتَوَفَّى وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي , وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے واقع ہوئی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے اللہ ! مجھے معاف فرما دے، مجھ پر رحم فرما دے اور رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔
حدیث نمبر: 25948
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا " كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ , يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا , وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں متعکف ہوتے اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر ان کے قریب کردیتے اور وہ اسے کنگھی کردیتی تھیں۔
حدیث نمبر: 25949
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی چادروں میں کفن دیا گیا۔
حدیث نمبر: 25950
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ , عَنْ عِائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کر دے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 25951
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ مُعَاذَةَ , قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ : مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ ؟ , فَقَالَتْ : " أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ , وَلَكِنِّي أَسْأَلُ , قَالَتْ : " قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيأمرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا يَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ " , قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
معاذہ رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25952
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
حدیث نمبر: 25953
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25954
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَمَعَهُ نَاسٌ , ثُمَّ صَلَّى الثَّانِيَةَ , فَاجْتَمَعَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرُ مِنَ الْأُولَى , فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَوْ الرَّابِعَةُ امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ حَتَّى اغْتَصَّ بِأَهْلِهِ , فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ , فَلَمْ يَخْرُجْ , فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا زَالَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَكَ الْبَارِحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ أَمْرُهُمْ , وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْهِمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے حتیٰ کہ میں بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کو گواہی دی اور اما بعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25955
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ يَعْنِي , صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ.
حدیث نمبر: 25956
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ خَادِمًا لَهُ قَطُّ , وَلَا امْرَأَةً , وَلَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ , إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا كَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ أَيْسَرُهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا , فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ الْإِثْمِ , وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَيَكُونَ هُوَ يَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 25957
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى النِّسَاءَ الْيَوْمَ نَهَاهُنَّ عَنِ الْخُرُوجِ , أَوْ حَرَّمَ عَلَيْهِنَّ الْخُرُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے۔
…