حدیث نمبر: 25878
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , مَا سَمِعْتُهُ إِلَّا مِنْ أَبِي , عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَطَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ أَيْلَةَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ لَيْسَ هَذَا بِالْكُوفَةِ , إِنَّمَا هَذَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , يَعْنِي الْعُمَرِيّ , فَقُلْتُ لَهُمْ : امْضُوا إِلَى أَبِي خَيْثَمَةَ , فَإِنَّ سَمَاعَهُمْ بِالْكُوفَةِ وَاحِدٌ مِنَ ابْنِ نُمَيْرٍ , فَذَهَبُوا فَأَصَابُوهُ.
حدیث نمبر: 25879
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ مِنَ اللَّيْلِ , ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ حَتَّى يُصْبِحَ , وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 25880
حَدَّثَنَا يَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔
حدیث نمبر: 25881
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ دِقْرَةَ , قَالَتْ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَرَأَيْتُ امْرَأَةً عَلَيْهَا خَمِيصَةٌ فِيهَا صُلُبٌ , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ " انْزَعِي هَذَا مِنْ ثَوْبِكِ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اس سے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25882
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ , فَلَمْ يَأْكُلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے گوشت کی بوٹیاں پیش کی گئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 25883
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو , حَتَّى إِنِّي لَأَسْأَمُ لَهُ مِمَّا يَرْفَعُهُمَا يَدْعُو " اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشْرٌ , فَلَا تُعَذِّبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ شَتَمْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
حدیث نمبر: 25884
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَإِسْحَاقُ يعني ابن عيسى الطباع ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ , غَمَزَنِي , فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ , فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا , قَالَتْ : وَلَمْ يَكُنْ فِي الْبُيُوتِ يَوْمَئِذٍ مَصَابِيحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 25885
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ , وَقَالَتْ : إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
حدیث نمبر: 25886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ , اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مَوْجُوءيْنِ , فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ , وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ , وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِ مُحَمَّدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوب صورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25887
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا , فَمَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے ) ۔
حدیث نمبر: 25888
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُذِلَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ , وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " , ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ , فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہند بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! قبول اسلام سے پہلے روئے زمین پر آپ کے خیموں والوں سے زیادہ کسی کو ذلیل کرنا مجھے پسند نہ تھا اور اب آپ کے خیمے والوں سے زیادہ کسی کو عزت دینا مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بات اسی طرح ہے، پھر ہند نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوسفیان مال خرچ کرنے میں ہاتھ تنگ رکھتے ہیں، اگر میں ان کے مال سے ان ہی کے بچوں پر ان کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کرلیا کروں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلے طریقے سے ان پر خرچ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 25889
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيّ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا , فَلَمَّا ثَقُلَ وَأَسَنَّ , صَلَّى سَبْعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔
حدیث نمبر: 25890
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " أَسَرَّ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِرَاءَةَ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ , وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 25891
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ ؟ فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ يُسْكِرُ , فَهُوَ حَرَامٌ " وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نیند کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
حدیث نمبر: 25892
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ , فَبَتَّ طَلَاقَهَا , فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ , فَجَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ , وَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ , وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ هَذِهِ الْهُدْبَةِ , فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ لَهَا : " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ , لَا , حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ , وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " , قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ , لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ , فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ يَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ , أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کرلیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر ! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے ؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر شاید تم رفاعہ کے پاس جانے کی خواہش رکھتی ہو ؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔
حدیث نمبر: 25893
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ : دَخَلَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ , أَحْسِبُ اسْمَهَا خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ , عَلَى عَائِشَةَ , وَهِيَ بَاذَّةُ الْهَيْئَةِ , فَسَأَلْتُهَا مَا شَأْنُكِ ؟ , فَقَالَتْ : زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لَهُ , فَلَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ , فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ , إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا , أَفَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ ؟ فَوَاللَّهِ إِنِّي أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ , وَأَحْفَظُكُمْ لِحُدُودِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن معظون کی اہلیہ مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حالت میں آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کیا حالت ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر شب بیدار اور صائم النہار ہیں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان ! ہم پر رھبانیت فرض نہیں کی گئی، کیا میری ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ نہیں ہے ؟ واللہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والا میں ہوں۔
حدیث نمبر: 25894
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لِأَخِيهِ سَعْدٍ أَتَعْلَمُ أَنَّ ابْنَ جَارِيَةِ زَمْعَةَ ابْنِي ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ , رَأَى سَعْدٌ الْغُلَامَ , فَعَرَفَهُ بِالشَّبَهِ , وَاحْتَضَنَهُ إِلَيْهِ , وَقَالَ ابْنُ أَخِي : وَرَبِّ الْكَعْبَةِ , فجاء عبد بن زمعة , فقال : بل هو أخي , وولد على فراش أبي من جاريته , فانطلقا إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا ابْنُ أَخِي , انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا , لَمْ يَرَ النَّاسُ شَبَهًا أَبْيَنَ مِنْهُ بِعُتْبَةَ , فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَلْ هُوَ أَخِي , وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ جَارِيَتِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ , وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَوَاللَّهِ مَا رَآهَا حَتَّى مَاتَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد زمعہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ کا کہنا تھا کہ یا رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور حضرت سعد یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد ! یہ بچہ تمہارا ہے، بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ ! تم اس سے پردہ کرنا۔
حدیث نمبر: 25895
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ مَسْرُورًا , فَقَالَ : " أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ الْمُدْلِجِيُّ ؟ " وَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا نَائِمَيْنِ فِي ثَوْبٍ , أَوْ فِي قَطِيفَةٍ , وَقَدْ خَرَجَتْ أَقْدَامُهُمَا , فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے اور فرمایا دیکھو تو سہی ؟ ابھی مجزز آیا تھا، اس نے دیکھا کہ زید اور اسامہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔
حدیث نمبر: 25896
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25897
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ , صَلَّى الصُّبْحَ , ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ , فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ , فَأَمَرَ , فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ , وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ , فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ , وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ , فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ , فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهُمَا , أَمَرَتْ , فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ , فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ : " الْبِرُّ تُرِدْنَ ؟ " , فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کی ہی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوجاتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ارادے کا ذکر فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اعتکاف کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیا گیا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا خیمہ لگانے کو حکم دے دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن مسجد میں بہت سارے خیمے دیکھے تو فرمایا کیا تم اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہو ؟ میں اعتکاف ہی نہیں کرتا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور عید گزرنے کے بعد شوال کے دس دن کا اعتکاف فرمایا۔
حدیث نمبر: 25898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ : سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ , وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا : اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔
حدیث نمبر: 25899
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِهِمْ , فَقَالَ " أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا ؟ حَوِّلُوا مَقْعَدِي قِبَلَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حدیث نمبر: 25900
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا بَدَّنَ وَلَحُمَ , صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , قَالَ عَفَّانُ فَلَمَّا لَحُمَ وَبَدَّنَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25901
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ.
حدیث نمبر: 25902
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ , اغْتَسَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 25903
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْبَجَلِيُّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , أَنَّ السَّائِبَ سَأَلَ عَائِشَةَ , فَقَالَ : إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ إِلَّا جَالِسًا , فَكَيْفَ تَرَيْنَ ؟ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا مِثْلُ نِصْفِ صَلَاتِهِ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سائب نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں صرف بیٹھ کر ہی نماز پڑھ سکتا ہوں تو آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے نصف ہے۔
حدیث نمبر: 25904
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25905
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 فوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا , قَالَتْ : " بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي , إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا , يُهِلُّوا لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ , وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا والْمَرْوَةِ , فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 , قَالتَ : ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا , فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا " اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجھے ! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے پھر آیت اس طرح ہوتی " فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے لوگ " مناۃ " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کا کیا حکم ہے ؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَفِي الثَّانِيَةَ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , و َالْمُعَوِّذَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز بن جریخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا پہلی رکعت میں " سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" دوسری میں " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور تیسری میں " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " اور معوذتین کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 25907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " كَانَ يُطِيلُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , وَكَانَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا " , وَسَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ , قَدْ صَامَ , قَدْ صَامَ , وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ , قَدْ أَفْطَرَ , قَدْ أَفْطَرَ , وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَهْرَ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر طویل نماز پڑھتے تھے، جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے، پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔
حدیث نمبر: 25908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ , وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي , وَأَنَا أَقُولُ : وَا رَأْسَاهْ , قَالَ : " بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ " , قَالَ : " مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي , فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ , ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ , وَدَفَنْتُكِ " , قُلْتُ : لَكِنِّي , أَوْ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي , فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ , قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ میری زندگی میں ہوجائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کر کے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے، آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے، پھر مرض الوفات شروع ہوگیا۔
حدیث نمبر: 25909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ , عَنْ صَفِيَّهَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : جَاءَتْهَا امْرَأَةٌ , فَقَالَتْ ابْنَةٌ لِي سَقَطَ شَعْرُهَا : أَفَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ ؟ قَالَتْ : سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتِ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 25910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ : " مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ذِي الْقِعْدَةِ , وَلَقَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبادہ بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ذیقعدہ میں ہی عمرہ کیا تھا اور انہوں نے تین عمرے کئے تھے۔
حدیث نمبر: 25911
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَمْسٍ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ , وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ , وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ , وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ " , فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , شَيْءٌ رَقِيقٌ مِنَ الذَّهَبِ , يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ , أَوْ يُرْبَطُ بِهِ قَالَ : " لَا , اجْعَلِيهِ فِضَّةً , وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں سے منع فرمایا ہے، ریشم اور سونا پہننے سے، سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے، سرخ زین پوش سے اور ریشمی لباس سے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر تھوڑا سا سونا مشک کے ساتھ ملا لیا جائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، تم اسے چاندی کے ساتھ ملا لیا کرو، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو۔ عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 25912
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا " , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
حدیث نمبر: 25913
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : إِنَّ سَالِمًا كَانَ يُدْعَى لِأَبِي حُذَيْفَةَ , وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ كِتَابَهُ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ سورة الأحزاب آية 5 فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ , وَأَنَا فُضُلٌ , وَنَحْنُ فِي مَنْزِلٍ ضَيِّقٍ , فَقَالَ : " أَرْضِعِي سَالِمًا تَحْرُمِي عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنا دودھ پلا دو ، تم اس پر حرام ہوجاؤ گی۔
حدیث نمبر: 25914
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ : " أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ , فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا , فَأَذِنَّ لَهُ , قالت : فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ , وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ , قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقَالَ : أَتَدْرُونَ مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ هُوَ عَلِيٌّ , وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهُ نَفْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ کے گھر میں ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس اور ایک دوسرے آدمی ( بقول راوی وہ حضرت علی تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا) کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 25915
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , أَوْ عَمْرَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنّ , لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ , فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ " , قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ , وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنّ , ثُمَّ خَرَجَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہوجائے، تو میں لوگوں کو نصیحت کر دوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالنے لگے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔
حدیث نمبر: 25916
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَ بِهِ , جَعَلَ يُلْقِي خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ , فَإِذَا اغْتَمَّ , كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " , قَالَ : تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہودونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 25917
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي , قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ , إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ , فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ , قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , فَقَالَ : " لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ , فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر آگئے تو فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابورقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گیں، کیونکہ حضرت ابوبکر جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کردیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوا تھا اور گنہگا بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
…