حدیث نمبر: 25838
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ حِضْتُ , فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ ؟ " قُلْتُ : حِضْتُ , لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ , قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ , إِنَّمَا ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا , غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " , قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً , فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " , قَالَتْ : وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ , فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ , فَقَالَتْ : قُلْت : ُيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ , وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ ؟ , فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَذَهَبَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ , فَلَبَّيْتُ بِعُمْرَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش ! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔
حدیث نمبر: 25839
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال َ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25840
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا " جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ , فَلَبِسَهَا , فَلَمَّا عَرِقَ , فَوَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ , فَقَذَفَهَا , قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور اون کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 25841
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَال : َحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ , قَالَ : ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ , فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا , فَأَلْقَتْ لَنَا وَسَادَةً وَجَذَبَتْ إِلَيْهَا الْحِجَابَ , فَقَالَ صَاحِبِي : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ ، قَالَتْ : وَمَا الْعِرَاكُ ؟ وَضَرَبْتُ مَنْكِبَ صَاحِبِي , فَقَالَت : مَهْ آذَيْتَ أَخَاكَ , ثُمّ قَالَتْ : مَا الْعِرَاكُ ؟ الْمَحِيضُ ؟ قُولُوا : مَا قَالَ اللَّهُ الْمَحِيضُ , ثُمّ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي , وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ وَأَنَا حَائِضٌ " . ثُمَّ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِبَابِي مِمَّا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا , فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ , فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا , ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , قُلْتُ : يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ , وَعَصَبْتُ رَأْسِي , فَمَرَّ بِي , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ مَا شَأْنُكِ " , فَقُلْتُ : أَشْتَكِي رَأْسِي , فَقَالَ : " أَنَا وَا رَأْسَاهْ " , فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ , فَدَخَلَ عَلَيَّ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ , فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ اشْتَكَيْتُ , وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ , فَائْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ , أَوْ صَفِيَّةَ , وَلَمْ أُمَرِّضْ أَحَدًا قَبْلَهُ , فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبَيَّ إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً , فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ , فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي , فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ , فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا , فَجَاءَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ , فَاسْتَأْذَنَا , فَأَذِنْتُ لَهُمَا , وَجَذَبْتُ إِلَيَّ الْحِجَابَ , فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ , فَقَالَ : وَاغَشْيَاهْ , مَا أَشَدُّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَامَا , فَلَمَّا دَنَوَا مِنَ الْبَابِ , قَالَ الْمُغِيرَةُ : يَا عُمَرُ , مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : كَذَبْتَ , بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ , ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ , فَرَفَعْتُ الْحِجَابَ , فَنَظَرَ إِلَيْهِ , فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ , مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ , فَحَدَرَ فَاهُ , وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , ثُمَّ قَالَ : وَانَبِيَّاهْ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ , وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , ثُمَّ قَالَ : وَاصَفِيَّاهْ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , وَحَدَرَ فَاهُ , وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , وَقَالَ : وَاخَلِيلَاهْ , مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ , وَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ , حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ , فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ سورة الزمر آية 30 , حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ سورة آل عمران آية 144 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ , فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ , وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا , فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ , فَقَالَ عُمَرُ : وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ , ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ , هَذَا أَبُو بَكْرٍ , وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ , فَبَايَعُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھی کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اجازت طلب کی، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھا اور خود اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، پھر میرے ساتھی نے پوچھا کہ اے ام المومنین ! " عراک " کے متعلق آپ کیا فرماتی ہیں ! انہوں نے فرمایا عراک کیا ہوتا ہے ؟ میں نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مارا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روکتے ہوئے فرمایا تم نے اپنے بھائی کو ایذا پہنچائی، پھر فرمایا عراک سے کیا مراد ہے ؟ حیض، تو سیدھا سیدھا وہ لفظ بولو جو اللہ نے استعمال کیا ہے، یعنی حیض، بعض اوقات میں حائضہ ہوتی تھی لیکن پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کو بوسہ دے دیا کرتے تھے اور میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پردہ حائل ہوتا تھا۔ پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب میرے گھر کے دروازے سے گزرتے تھے تو کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے تھے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچا دیتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو کچھ نہیں کہا، دو تین مرتبہ جب اسی طرح ہوا تو میں نے اپنی باندی سے کہا کہ میرے لئے دروازے پر تکیہ لگا دو اور میں اپنے سر پر پٹی باندھ کر وہاں بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا عائشہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے سر میں درد ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بھی سر میں درد ہو رہا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے، تھوڑی دیر گزری تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ چادر میں لپیٹ کر اٹھائے چلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں رہے اور دیگر ازواج کے پاس یہ پیغام بھجوا دیا کہ میں بیمار ہوں اور تم میں سے ہر ایک کے پاس باری باری آنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لئے تم اگر مجھے اجازت دے دو تو میں عائشہ کے یہاں رک جاؤں ؟ ان سب نے اجازت دے دی اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کرنے لگی حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی کی تیماداری نہیں کی تھی۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک میرے کندھے پر رکھا ہوا تھا کہ اچانک سر مبارک میرے سر کی جانب ڈھک گیا میں سمجھی کہ شاید آپ میرے سر کو بوسہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے لعاب کا ایک قطرہ نکلا اور میرے سینے پر آٹپکا، میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں سمجھی کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی ہے چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چادر اوڑھا دی، اسی دوران حضرت عمر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دے دی اور اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہا ہائے غشی ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی کی شدت کتنی ہے، تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کھڑے ہوئے جب وہ دونوں دروازے کے قریب پہنچے تو مغیرہ بن شعبہ کہنے لگے اے عمر ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ تم فتنہ پرور آدمی ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کی ختم نہ کر دے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، میں نے حجاب اٹھا دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر " اناللہ وانا الیہ راجعون " پڑھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔ پھر سرہانے کی جانب سے آئے اور منہ مبارک پر جھک کر پیشانی کو بوسہ دیا اور کہنے لگے ہائے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تین مرتبہ اسی طرح کیا اور دوسری مرتبہ ہائے میرے دوست اور تیسری مرتبہ ہائے میرے خلیل کہا، پھر مسجد کی طرف نکلے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے تقریر اور گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہ فرما دے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " آپ بھی دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں "۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ " محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی بہت رسول گذر چکے ہیں، کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو تم ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے "۔۔۔۔۔ سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں، مذکورہ آیات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا یہ آیات کتاب اللہ میں موجود ہیں ؟ میرا شعور ہی اس طرف نہیں جاسکا کہ یہ آیت بھی کتاب اللہ میں ہی موجود ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو ! یہ ابوبکر ہیں اور مسلمانوں کے بزرگ ہیں اس لئے ان کی بیعت کرلو، چنانچہ لوگوں نے ان کی بیعت کر لی۔
حدیث نمبر: 25842
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ , عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ صدیقہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
حدیث نمبر: 25843
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : أَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى , اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ , قَالَ : فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ , وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوبصورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد کر طرف سے قربان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25844
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعُ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 25845
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ , وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25846
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ عَمَّتِهِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حدیث نمبر: 25847
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25848
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ , عَنِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " . وقَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ أَسْوَدُ : وَقَالَ مَرَّة : السُّدِّيُّ , أَوْ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ , وَذَاكَ أَنَّ ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ لَهُ فِي الْبَيْتِ : إِنَّهُمْ يَذْكُرُونَهُ عَنْكَ عَنِ السُّدِّيِّ , فَقَالَ السُّدِّيِّ , أَوْ زِيَادٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25849
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ السَّائِبِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حدیث نمبر: 25850
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ السَّائِبِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حدیث نمبر: 25851
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْثٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ السَّائِبِ , عَنْ عَائِشَةَ رَفَعَتْهُ , قَالَتْ : قَالَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حدیث نمبر: 25852
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يُخْبِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ , أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ : ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ : " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " , فَنَزَلَتْ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 4 لِعَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ سورة التحريم آية 3 لِقَوْلِهِ : " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات زینب بنت جحش کے پاس رک کر ان کے یہاں شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے یہ معاہدہ کرلیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں، وہ یہ کہہ دے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس جب گئے تو اس نے یہ بات کہہ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور آئندہ کبھی نہیں پیوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنے اوپر ان چیزوں کو کیوں حرام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حلال قرار دے رکھا ہے۔۔۔۔۔ " اگر تم دونوں (عائشہ اور حفصہ) توبہ کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث نمبر: 25853
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ , ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25854
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَفْلَحُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ نَامَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ اغْتَسَلَ وَصَامَ يَوْمَه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
حدیث نمبر: 25855
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ , أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي ؟ , فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ , قال : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : قَالَتْ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي , انْقَلَبَ , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ , وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ , فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ , وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ , فَاضْطَجَعَ , فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ , فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا , وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا , وَفَتَحَ الْبَابَ , فَخَرَجَ , ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا , فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي , وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي , ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى أَثَرِهِ , حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ , فَقَامَ , فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ انْحَرَفَ , فَأَسْرَعَ , فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ , فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ , فَسَبَقْتُهُ , فَدَخَلْتُ , فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ , فَدَخَلَ , فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَاءَ رَائِبَةً " قَالَتْ : قُلْتُ : لَا شَيْءَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " لَتُخْبِرِنَّنِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " , قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَأَخْبَرَتْهُ , قَالَ : " فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ فَلَهَزَنِي فِي ظَهْرِي لَهْزَةً فَأَوْجَعَتْنِي , وَقَالَ : " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ عَلَيْكِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ " قَالَتْ : مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ , قَالَ : " نَعَمْ , فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ , فَنَادَانِي , فَأَخْفَاهُ مِنْكِ , فَأَجَبْتُهُ , فأخُفْيَتَهُ مِنْكِ , وَلَمْ يَكُنْ لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ , وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ , فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ , وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي , فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ عزَّ وجلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ , فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " , قَالَتْ : فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ , وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ , وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن کہا : کیا میں آپ کو اپنی اور اپنی ماں کے ساتھ بیتی ہوئی بات نہ سناؤں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر ٹھہرے کہ آپ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے جوتا پہنا اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو اہستہ سے بند کردیا۔ میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہونے کو طویل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا۔ پھر واپس لوٹے اور میں بھی لوٹی آپ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی۔ آپ دوڑے تو میں بھی دوڑی۔ آپ پہنچے تو میں بھی پہنچی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا : اے عائشہ ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے۔ میں نے کہا کچھ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے باریک بین خبردار یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ کو دے دی۔ فرمایا میں اپنے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تو تھی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر (از راہ محبت) مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی پھر فرمایا تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ فرماتی ہیں جب لوگ کوئی چیز چھپاتے ہیں تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس لئے نہیں آئے کہ تو نے اپنے کپڑے اتار دیئے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تو سو چکی ہے اور میں نے تجھے بیدار کرنا پسند نہ کیا میں نے یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لئے مغفرت مانگیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کیسے کہوں ؟ آپ نے فرمایا :۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو : " اللہ ہم سے جانے والوں پر رحمت فرمائے اور پیچھے جانے والوں پر، ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں "۔
حدیث نمبر: 25856
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , اشْتَكَى أَصْحَابُهُ , وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ , فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةُ فِي عِيَادَتِهِمْ , فَأَذِنَ لَهَا , فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ , وَسَأَلْتُ عَامِرًا , فَقَالَ : إني وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ , وَسَأَلْتُ بِلَالًا , فَقَالَ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ , فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ , وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا , وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةٍ " , وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں ؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے "۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں بلال سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے ! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فح " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
حدیث نمبر: 25857
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً , تِسْعًا قَائِمًا , وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ , فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 25858
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ مَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں فجر کی دو رکعتوں کے ساتھ پڑھتے۔
حدیث نمبر: 25859
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ عِرَاكٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَدْ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنًا دَمًا , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ , ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا ہوا دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حدیث نمبر: 25860
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَال : َأَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ قيسِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَرَاةَ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ , أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ , قَالَتْ : " بَلْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
بنو سوارہ کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔
حدیث نمبر: 25861
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَثَرَ بِأُسْكُفَّةِ , أَوْ عَتَبَةِ الْبَابِ , فَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِيطِي عَنْهُ , أَوْ نَحِّي عَنْهُ الْأَذَى " قَالَتْ : فَتَقَذَّرْتُهُ , قَالَتْ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ , ثُمَّ يَمُجُّهُ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً , لَكَسَوْتُهُ , وَحَلَّيْتُهُ , حَتَّى أُنفِِّقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گر پڑھے اور ان کے خون نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کی گندگی صاف کردو، مجھے وہ کام اچھا نہ لگا تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چوسنے اور فرمانے لگے لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔
حدیث نمبر: 25862
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ الشِّعْرَ ؟ قَالَتْ : " رُبَّمَا تَمَثَّلَ شِعْرَ ابْنِ رَوَاحَةَ , وَيَقُولُ : وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مِنْ لَمْ تُزَوِّدِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریخ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت عبداللہ بن رواحہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا "۔
حدیث نمبر: 25863
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْحَارِثِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو ؟ قَالَتْ : نَعَمْ , إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ , قَالَتْ : فَبَدَا مَرَّةً , فَبَعَثَ إِلَيَّ نَعَمَ الصَّدَقَةِ , فَأَعْطَانِي نَاقَةً مُحَرَّمَةً , قَالَ حَجَّاجٌ : لَمْ تُرْكَبْ , وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ , فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ , وَلَمْ يُنْزَعْ الرِّفْقُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
شریخ حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیہات میں جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے ایک ایسی اوٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 25864
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي السَّمَاءِ سَحَابًا , أَوْ رِيحًا , اسْتَقْبَلَهُ مِنْ حَيْثُ كَانَ , وَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَرِّه , فَإِذَا أَمْطَرَتْ , قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز ہی میں ہوتے اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ ! موسلا دھار ہو اور نفع بخش۔
حدیث نمبر: 25865
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ , فَدَخَلَ , فَقَالَ : " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي " فَزُمِّلَ , فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ : " يَا خَدِيجَةُ , لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً , لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً " , قَالَتْ خَدِيجَةُ : أَبْشِرْ , فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا , إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ , وَتَصِلُ الرَّحِمَ , وَتَحْمِلُ الْكَلَّ , وَتَقْرِي الضَّيْفَ , وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ , فَانْطَلَقَتْ بِي خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ , وَكَانَ رَجُلًا قَدْ تَنَصَّرَ , شَيْخًا أَعْمَى يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ , فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : أَيْ عَمِّ , اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ , فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ : يَا ابْنَ أَخِي , مَاذَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى مِنْ ذَلِكَ , فَقَالَ لَهُ وَرَقَة : ُهَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَلَ عَلَى مُوسَى , يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا , يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ " , قَالَ : نَعَمْ , لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ قَطُّ إِلَّا عُودِيَ , وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ , أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی فرمایا مجھے کوئی چیز اوڑھا دو ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کمبل اوڑھا دیا گیا، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ ! مجھے تو اپنے اوپر کسی مصیبت کے نازل ہونے کا خطرہ ہونے لگا تھا، دو مرتبہ فرمایا : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ بشارت قبول کیجئے واللہ آپ کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ بٹاتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، انہوں نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور بہت بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے اور عربی زبان میں انجیل پڑھ چکے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ چچا جان ! اپنے بھتیجے کی بات سنیئے، ورقہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بھتیجے ! آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام چیزیں بیان کردیں جو انہوں نے دیکھی تھیں، روقہ نے کہا کہ یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، اے کاش ! اس وقت مجھ میں طاقت ہو اور میں زندہ ہوں جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا جی ہاں ! جو شخص بھی آپ جیسی دعوت لے کر آیا لوگوں نے اس سے عداوت کی اور اگر مجھے آپ کا زمانہ ملا تو میں آپ کی مضبوط مدد کروں گا۔
حدیث نمبر: 25866
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , " أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ , وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ , وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْجُبْ نِسَاءَكَ , فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ , فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً , وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً , فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ وحِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ , قَالَتْ عَائِشَةُ فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات قضاء حاجت کے لئے خالی میدانوں کی طرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت سودہ قضاء حاجت کیلئے نکلیں چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ کو دیکھ کر دور ہی سے پکارا سودہ ! ہم نے تمہیں پہچان لیا اور یہ بات انہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے کی امید میں کہی تھی، چنانچہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حدیث نمبر: 25867
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَهَا وَهُوَ صَائِمٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25868
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وعَنِ الزُّهْرِيِّ , فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
حدیث نمبر: 25869
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو ۔
حدیث نمبر: 25870
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى , وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا , وَكَانَتْ تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ وہ پڑھتی تھیں اور کہتی تھیں کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 25871
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : " وَاللَّهِ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ , إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَأْثَمْ , فَإِذَا كَانَ الْإِثْمُ , كَانَ أَبْعَدَهُمْ مِنْهُ , وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ , حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کو اختیار فرما لیتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کو اس نسبت سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25872
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ , ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ , ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) گزشتہ حدیث اور دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 25873
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ.
حدیث نمبر: 25874
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 25875
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ , قَالَتْ : فَقُلْنَا : قَدْ حَاضَتْ , قَالَتْ : فَقَالَ : " عَقْرَى حَلْقَى , مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا " قَالَتْ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ , قَالَ : " فَلَا إِذًا , مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو ہم نے بتایا کہ ان کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، وہ ٹھہرنے پر مجبور کر دے گی ؟ ہم نے کہا یاسول اللہ ! اس نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 25876
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ , وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ , فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ , فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ , فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ , وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ , فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ , فَقَالَ : " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ , مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ , قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ , فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً , فَقَالَتْ : فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ , وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ , حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ , ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ , فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ , فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا , وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں گے، اس لئے آپ عمر کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا، ہم نے بھی اپنی بات دہرا دی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تم تو یوسف والیاں ہو، چنانچہ میں نے والد صاحب کے پاس پیغام بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مرض میں تحفیف محسوس ہوئی اور وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح نکلے کہ ان کے پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب محسوس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ہی رہو۔ اور خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک جانب بیٹھ گئے۔ اب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی۔
حدیث نمبر: 25877
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَلَا يَعْصِهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
…