حدیث نمبر: 26397
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ , قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ , وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ , فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ فِي أُرْجُوحَةٍ , وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ , فَذَهَبْنَ بِي , فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي , ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اور مدینہ منورہ ہجرت سے دو تین سال پہلے مجھ سے نکاح فرمایا جبکہ میری عمر سات سال کی تھی، جب ہم مدینہ منورہ آئے تو ایک دن کچھ عورتیں میرے پاس آئیں، میں اس وقت جھولا جھول رہی تھی اور بخار کی شدت سے میرے بہت سے بال جھڑ کر تھوڑے ہی رہ گئے تھے، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے تیار کرنے لگیں اور بناؤ سنگھار کر کے مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تخلیہ فرمایا : اس وقت میری عمر نو سال تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1422
حدیث نمبر: 26398
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلَيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَبَقْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26399
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنَ الْأَحْزَابِ , دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ يَغْتَسِلُ , وَجَاءَ جِبْرِيلُ , فَرَأَيْتُهُ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ , فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ , أَوَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ ؟ فَقَالَ : " مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ , انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احزاب سے فارغ ہوگئے تو غسل کرنے کے لئے غسل خانے میں چلے گئے، اتنی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے، میں نے دروازے کے سوراخ سے انہیں دیکھا کہ ان کے سر پر گردوغبار ہے اور وہ کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا ؟ ہم نے تو اب تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1769
حدیث نمبر: 26400
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , بِيَدِكَ الشِّفَاءُ , لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بد سے یوں دم کرتی تھی " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26401
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وعَنْ بَعْضِ شُيُوخِهِمْ أَنَّ زِيَادًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , حَدَّثَهُمْ عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ , يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي , وَأَضْرِبُهُمْ وَأَسُبُّهُمْ , فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِحَسْبِ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَيُكَذِّبُونَكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ , إِنْ كَانَ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ عَلَيْهِمْ , وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا , لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ , وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ , اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قِبَلَكَ " فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَهْتِفُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَهُ ؟ مَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ سورة الأنبياء آية 47 فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ , يَعْنِي عَبِيدَهُ , إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سامنے بیٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میرے کچھ غلام ہیں، وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، خیانت بھی کرتے ہیں اور میرا کہا بھی نہیں مانتے، پھر میں انہیں مارتا ہوں اور برا بھلا کہتا ہوں، میرا ان کے ساتھ کیا معاملہ رہے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خیانت، جھوٹ اور نافرمانی اور تمہاری سزا کا حساب لگایا جائے گا، اگر تمہاری سزا ان کے جرائم سے کم ہوئی تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہوگی اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں کے برابر نکلی تو معاملہ برابر برابر ہوجائیگا، تمہارے حق میں ہوگا اور نہ تمہارے خلاف اور اگر سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو اس اضافے کا تم سے بدلہ لیا جائے گا، اس پر وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رونے لگا اور چلانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیا ہوا ؟ کیا یہ قرآن کریم میں یہ آیت نہیں پڑھتا اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے، لہٰذا کسی پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا اور وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہوا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں، اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میں اس سے بہتر کوئی حل نہیں پاتا کہ ان سب غلاموں کو اپنے سے جدا کر دوں، اس لئے میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف لأجل تفرد أبى نوح قراد هو عبدالرحمن فى السند الأول، والاسناد الثاني أيضا ضعيف لإبهام بعض رواته ولانقطاعه
حدیث نمبر: 26402
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ , وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 26403
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا الْكَوْثَرُ ؟ قَالَتْ : " نَهَرٌ أُعْطِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ , قَالَ : قُلْتُ : وَمَا بُطْنَانُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَتْ : وَسَطُهَا , حَافَّتَاهُ دُرَّةٌ مُجَوَّفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو عبیدہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ " کوثر " سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک نہر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " بطنانِ جنت " میں دی گئی ہے، میں نے پوچھا کہ " بطنانِ جنت " سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا وسط جنت اور اس کے دونوں کنارے پر جوف دار موتی لگے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4965
حدیث نمبر: 26404
عبد الله : وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى آخِرِهَا فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قال : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا خَادِمًا , وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " , قَالَتْ : " مَا نِيلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَانْتَقَمَهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ , فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ " , قَالَتْ : " مَا عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَانِ , أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ , إِلَّا أَخَذَ الَّذِي هُوَ الْأَيْسَرُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا , فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ آگے کی بقیہ تمام احادیث میں نے اپنے والد کے مسودے میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر بن صالح، م: 2328
حدیث نمبر: 26405
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , كِلَاهُمَا يَغْتَرِفُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور اس سے چلو بھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 26406
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي , وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 6179، م: 2250
حدیث نمبر: 26407
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا سَتَرَتْ عَلَى بَابِهَا دُرْنُوكًا فِيهِ خَيْلٌ أُولَاتُ أَجْنِحَةٍ , فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ , فَأَمَرَهَا فَنَزَعَتْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارنے کا حکم دیا تو انہوں نے اسے اتار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر، خ: 5955، م: 2107
حدیث نمبر: 26408
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو مسجد سے صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی نکلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاجل عامر بن صالح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 26409
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " , فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ , وَابْنَ عُمَرَ , فَوَاللَّهِ مَا هُمَا بِكَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَا مُتَزَيِّدَيْنِ , إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ , وَمَرَّ بِأَهْلِهِ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ , فَقَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ , وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُعَذِّبُهُ فِي قَبْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ اپنے والد کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اشارہ نقل کرتے ہیں کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، واللہ وہ جھوٹ بولنے والے نہیں، انہیں غلط بات بھی نہیں بتائی گئی اور نہ انہوں نے دین میں اضافہ کرلیا، در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یہودی کی قبر پر گزر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1289، م: 932
حدیث نمبر: 26410
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ , قَالَ : حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ , عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ , وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ لَاسْتَخْلَفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی کسی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا : اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن إن صح سماع البهي من عائشة
حدیث نمبر: 26411
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1491
حدیث نمبر: 26412
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جبکہ وہ محرم ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1106