حدیث نمبر: 26357
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزَّبِيرِ , قَالَ : حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزَّبِيرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ " , قَالَ : فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ , قَالَ : فَقَالَ عُرْوَةُ : أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ , وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ , بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ ابو امامہ " جو اس مجلس میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے " کہنے لگے اے ابو عبداللہ ! شاید انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہوتی تھی، عروہ نے کہا کہ میں آپ کو یقینی بات بتارہا ہوں اور آپ شک کی بناء پر اسے رد کر رہے ہیں، انہوں نے یہی فرمایا تھا کہ میں ان کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 26358
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , ، كلاهما ، حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ , سِتٌّ مِنْهُنَّ مَثْنَى مَثْنَى , وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے چھ رکعتیں دو دو کر کے ہوتی تھیں اور پانچوں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 737
حدیث نمبر: 26359
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنمَا هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ فَارِعِ أُجُمِ حَسَّانَ , جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : احْتَرَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ , قَالَتْ : وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ " فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ , فَأَتَى رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَيْهِ غِرَارَةٌ فِيهَا تَمْرٌ , قَالَ : هَذِهِ صَدَقَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ؟ " فَقَالَ : هَا هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ : وَأَيْنَ الصَّدَقَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا عَلَيَّ وَلِي , فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ أَنَا وَعِيَالِي شَيْئًا , قَالَ : " فَخُذْهَا " فَأَخَذَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " ام حسان " کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں جل گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا ؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا، اسی ثناء میں میں ایک آدمی گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کجھوروں کا ایک ٹو کرا تھا، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ میرا صدقہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہاں موجود ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے علاوہ اور کس پر صدقہ ہوسکتا ہے ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ نہیں پاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم ہی یہ لے جاؤ، چنانچہ اس نے وہ لے لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1935، م: 1112
حدیث نمبر: 26360
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الْكَلَاعِيُّ , وَكَانَ ثِقَةً , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيِّ , قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ , فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ابْنَةِ عُثْمَانَ صَاحِبِ الْكَعْبَةِ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعَتْهَا مِنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے عدی بن عدی کندی کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے مجھے خانہ کعبہ کے کلید بردار شیبہ بن عثمان کی صاحبزادی صفیہ کے پاس کچھ چیزیں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی تھیں، تو صفیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے جو حدیثیں سنائیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا ہے زبر دستی مجبور کرنے پر دی جانے والی طلاق یا آزادی واقع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد بن أبى صالح
حدیث نمبر: 26361
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ , فَطُرِحُوا فِيهِ , إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ , فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا , فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ , فَتَزَايَلَ , فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ , فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ , وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ , هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ؟ " قال : فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى ؟ ! قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : " لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : وَالنَّاسُ يَقُولُونَ : لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ عَلِمُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے مقتولین قریش کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ایک گڑھے میں پھینک دیا جائے، چنانچہ انہیں پھینک دیا گیا، سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس کا جسم اپنی زرہ میں پھول گیا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے ہلانا چاہا لیکن مشکل پیش آئی تو اسے وہیں رہنے دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال کر اسے چھپا دیا اور گڑھے میں باقی سب کو پھینکنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل قلیب ! تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا ؟ کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ مردوں سے بات کر رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا واللہ یہ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے سچا وعدہ کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ جانتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہیں سنتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لأجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26362
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ , بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ , وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ , أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا , قَالَتْ : فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً , وَقَالَ : " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا , وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا , فَافْعَلُوا " , فَقَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَطْلَقُوهُ , وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کے لئے مال بھیجا، جس میں وہ ہار بھی شامل تھا، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی ابوالعاص سے شادی کے موقع پر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس ہار کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید رقت طاری ہوگئی اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی چھوڑ دو اور اس کا بھیجا ہوا مال اسے واپس لوٹا دو ، لوگوں نے عرض کیا ٹھیک ہے، یا رسول اللہ ! چنانچہ انہوں نے ابوالعاص کو چھوڑ دیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا ہار بھی واپس لوٹا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل أبن إسحاق
حدیث نمبر: 26363
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ , عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ , قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النِّسَاءَ قَدْ غَلَبْنَنَا وَفَتَنَّنَا , قَالَ : " فَارْجِعْ إِلَيْهِنَّ فَأَسْكِتْهُنَّ " , قَالَ : فَذَهَبَ , ثُمَّ رَجَعَ , فَقَالَ لَهُ : مِثْلَ ذَلِكَ , قَالَ : يَقُولُ : وَرُبَّمَا ضَرَّ التَّكَلُّفُ أَهْلَهُ , قَالَ : " فَاذْهَبْ فَأَسْكِتْهُنَّ , فَإِنْ أَبْيَنَ , فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ " , قَالَتْ : قُلْتُ فِي نَفْسِي : أَبْعَدَكَ اللَّهُ , فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ نَفْسَكَ , وَمَا أَنْتَ بِمُطِيعٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ اور عبدالرحمن بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کردو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور کہنے لگا میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، واللہ تو وہ کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دیتے اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن إسحاق، خ: 1299، م: 935
حدیث نمبر: 26364
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : " لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً , قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي , تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ , إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ ؟ قَالَتْ : أَنَا وَاللَّهِ , قَالَتْ : قُلْتُ : وَيْلَكِ , وَمَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أُقْتَلُ , قَالَتْ : قُلْتُ : وَلِمَ ؟ قَالَتْ : حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ , قَالَتْ : فَانْطُلِقَ بِهَا , فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا , وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا , وَكَثْرَةِ ضَحِكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی صرف ایک عورت کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا، وہ بھی میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی، جبکہ باہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قوم کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے اس کا نام لے کر کہا کہ فلاں عورت کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا واللہ ! یہ تو میں ہوں، میں نے اس سے کہا افسوس ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ مجھے قتل کردیا جائے گا، میں نے اس سے پوچھا وہ کیوں ؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک حرکت ایسی کی ہے، چنانچہ اسے لیجا کر اس کی گردن اڑا دی گئی، واللہ میں اپنے تعجب کو کبھی بھلا نہیں سکتی کہ وہ کتی ہشاش بشاش تھی اور ہنس رہی تھی جبکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26365
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ , وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشِمَاسٍ , أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ , وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا , وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ , فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا , قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا , وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ , فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ , وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ , فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ , أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ , فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي , فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي , قَالَ : " فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ " قَالَتْ : وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ " قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " قَدْ فَعَلْتُ " , قَالَتْ : وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ , فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ , قَالَتْ : فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ , فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویریہ بنت حارث، ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آگئیں، حضرت جویریہ نے ان کے مکاتبت کرلی، وہ بڑی حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا تھا، اس کی نظر ان پر جم جاتی تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، واللہ جب میں نے انہیں اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو مجھے طبیعت پر بوچھ محسوس ہوا اور میں سمجھ گئی کہ میں نے ان کا حسن و جمال دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر ضرور توجہ فرمائیں گے، چنانچہ وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میں جویریہ بنت حارث ہوں، جو اپنی قوم کا سردار تھا، میرے اوپر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے، میں ثابت بن قیس یا اس کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں، میں نے اس سے اپنے حوالے سے مکاتبت کرلی ہے اور اب آپ کے پاس کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر آئی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! وہ کیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بدل کتابت کر کے میں تم سے نکاح کرلوں، انہوں نے حامی بھر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، ادھر لوگوں میں خبر پھیل گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کرلی ہے، لوگ کہنے لگے کہ یہ سسرال والے بن گئے، چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے غلام آزاد کردیئے، یوں اس شادی کی برکت سے بنی مصطلق کے سو گھرانوں کو آزادی نصیب ہوگئی، اپنی قوم کے لئے اس سے عظیم برکت والی عورت میرے علم میں نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 26366
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , عَنْ أَفْلَتَ بْنِ خَلِيفَةَ , قَالَ أَبِي : سُفْيَانُ يَقُولُ : فُلَيْتٌ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ وَهُوَ عِنْدِي , فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ , أَخَذَتْنِي رِعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقَلَّنِي أَفْكَلُ , فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ , فَرَمَيْتُ بِهَا , قَالَتْ : فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ , فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ , قَالَتْ : قَالَ : " أَوْلَى " , قَالَتْ : قُلْتُ : وَمَا كَفَّارَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " طَعَامٌ كَطَعَامِهَا , وَإِنَاءٌ كَإِنَائِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے روئے انور پر غصے کے آثار نظر آئے، میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ وہ آج مجھ پر لعنت کریں پھر میں نے عرض کے یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26367
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مُذْ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ طَعَامٍ حَتَّى تُوُفِّيَ " , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى تُوُفِّيَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک مسلسل پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5416، م: 2970
حدیث نمبر: 26368
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ , قُلْتُ : أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ , فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 26369
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ , قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی مریض کو لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5743، م: 2191
حدیث نمبر: 26370
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ , كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ , وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا اكْتَسَبَ , وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ , لَا يَنْقُصُ أَجْرُهُمْ مِنْ أَجْرِ بَعْضٍ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1425، م: 1024
حدیث نمبر: 26371
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 26372
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَنْ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ جُنُبًا لَمْ يَصُمْ , قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ : " إِنَّهُ لَا يَقُولُ شَيْئًا , قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا , ثُمَّ يَقُومُ فَيَغْتَسِلُ , فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَيَخْرُجُ , فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالْمَاءُ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ , ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ ذَلِكَ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا ان کی بات کی کوئی اصلیت نہیں، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے، پھر بلال آکر نماز کی اطلاع دیتے، وہ باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھا دیتے اور پانی ان کے جسم پر ٹپک رہا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26373
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَنْهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ , قَالَ : قُلْتُ : فَالسُّعُن ؟ قَالَتْ : " إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ , وَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا لَمْ أَسْمَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے " سفن " کے متعلق پوچھا تو فرمایا جو سنا وہ بیان کردیا اور جو نہیں سنا، وہ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لاجل زياد بن عبدالله
حدیث نمبر: 26374
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ , قَالَتْ : " لَا , وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے ؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل زياد بن عبدالله، خ: 6466، م: 783
حدیث نمبر: 26375
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ فِي الْخَمْرِ , قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ , ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اس کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل زياد بن عبدالله فى الروايات الصحيحة "فى الربا" مكان "فى الخمر"
حدیث نمبر: 26376
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 373
حدیث نمبر: 26377
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2572
حدیث نمبر: 26378
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَبُو الْحَارِثِ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ , وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا , وَكَانَ الْجِدَارُ بَسْطَةً , وَأَشَارَ عَامِرٌ بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے سے نہیں نکلی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قولها: "وكان الجدار بسطة"، وهذا إسناد ضعيف جدا لأن عامر بن صالح متروك الحديث
حدیث نمبر: 26379
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " إِنْ كُنَّا لَنَذْبَحُ الشَّاةَ , فَيَبْعَثُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْضَائِهَا إِلَى صَدَائِقِ خَدِيجَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر بن صالح
حدیث نمبر: 26380
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأن فيه عامر بن صالح وهو متروك الحديث
حدیث نمبر: 26381
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو جنت میں لکڑی کے ایک عظیم الشان مکان کی خوشخبری دے دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا كسابقه
حدیث نمبر: 26382
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھپکلی نافرمان جانور ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1831
حدیث نمبر: 26383
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ , يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ , أَوْ يَشْرَبَ , غَسَلَ يَدَهُ , ثُمَّ أَكَلَ وَشَرِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ پینا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر بن صالح
حدیث نمبر: 26384
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ , إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا , وَهِيَ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى عِوَجٍ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت تو پسلی کی طرح ہوتی ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے، اس سے تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا كسابقه
حدیث نمبر: 26385
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 26386
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ , وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا ضعيف جدا كسابقه
حدیث نمبر: 26387
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ , وَذَلِكَ بِمَا كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ ذِكْرِهِ إِيَّاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پر آیا اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا بکثرت ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر بن صالح، خ: 6004، م: 2435
حدیث نمبر: 26388
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الشَّيْءَ مِنَ الدَّمِ يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ عُرُوقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم أبى بكر
حدیث نمبر: 26389
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَهَاشِمٌ , وحسين بن محمد , قَالُوا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَقَالَ هَاشِمٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ , وَقَالَ هَاشِمٌ ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان در رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 619، م: 724
حدیث نمبر: 26390
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ , قَالَ : قُلْتُ : فِي أَيِّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ , فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
حدیث نمبر: 26391
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , قَالَ : حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ , ثُمَّ يَغْتَسِلُ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف الفضل بن سليمان، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 26392
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26393
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26394
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَيْبَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
حدیث نمبر: 26395
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرُكُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26396
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190