حدیث نمبر: 26277
حَدَّثَنَا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَنَا جَارِيَةٌ لَمْ أَحْمِلْ اللَّحْمَ وَلَمْ أَبْدُنْ , فَقَالَ لِلنَّاسِ : " تَقَدَّمُوا " فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ لِي : " تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ " فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ , فَسَكَتَ عَنِّي , حَتَّى إِذَا حَمَلْتُ اللَّحْمَ وَبَدُنْتُ وَنَسِيتُ , خَرَجْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ , فَقَالَ لِلنَّاسِ : " تَقَدَّمُوا " فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ : " تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ " فَسَابَقْتُهُ , فَسَبَقَنِي , فَجَعَلَ يَضْحَكُ , وَهُوَ يَقُولُ : " هَذِهِ بِتِلْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔
حدیث نمبر: 26278
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ , قَالَتْ : فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْعَتَبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 26279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ , فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واقعہ افک کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! اگر تم سے گناہ کا ارادہ ہوگیا ہو تو اللہ سے استغفار کیا کرو کیونکہ گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہی ہے۔
حدیث نمبر: 26280
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَهِرَ بَعْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے پہلے کبھی سوئے اور نہ عشاء کے بعد کبھی قصہ گوئی کی۔
حدیث نمبر: 26281
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26282
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فُرِضَتْ ثَلَاثًا لِأَنَّهَا وِتْرٌ , قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , لِأَنَّهَا وَتْرٌ , وَالصُّبْحَ , لِأَنَّهُ يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی کی جاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے تھے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26283
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَلِطَعَامِهِ , وَكَانَتْ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ , وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 26284
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَائِشَةَ , نَحْوَهُ.
حدیث نمبر: 26285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ , وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى , وَكَانَتْ الْيُمْنَى لِوُضُوئِهِ وَلِمَطْعَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔
حدیث نمبر: 26286
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دو رکعتیں ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہیں۔
حدیث نمبر: 26287
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26288
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " , وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ قَبْلَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26289
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ , فَقَالَتْ : " سَلْ مَا بَدَا لَكَ , فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ " , فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ ؟ فَقَالَتْ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْخِتَانَانِ وَجَبَتْ الْجَنَابَةُ " , فَكَانَ قَتَادَةُ يُتْبِعُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " قَدْ فَعَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا " , فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُهُ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے حیاء آتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو کہ میں تمہاری ماں ہوں، میں نے عرض کیا ام المومنین ! غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب شرمگاہیں ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد قتادہ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے تو ہم غسل کرتے تھے، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ جملہ حدیث کا حصہ یہ یا قتادہ کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 26290
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا , وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26291
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , وقَالَ مَرَّةً أُخْرَى الْخَفَّافُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ " , وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَكَذَا قَالَ الْخَفَّافُ مَرَّةً أُخْرَى.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کا بوسہ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 26292
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ , يُقَالُ لَهَا : أُمُّ كُلْثُومٍ حَدَّثَتْهُ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ , فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَفَاكُمْ , فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ , فَإِنْ نَسِيَ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ , فَلْيَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کرجاتا، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لے بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
حدیث نمبر: 26293
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ : سُئِلَ سَعِيدٌ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ ؟ فَأَخْبَرَنَا ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حدیث نمبر: 26294
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ أُمِّهِ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُرِيدُ قَتْلَهُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کی طرف کسی دھاری دار آلے سے اشارہ کرتا ہے اور قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 26295
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا , لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ , وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ سورة الأحزاب آية 37 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ کے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ ظاہر کرنے والا تھا "۔
حدیث نمبر: 26296
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ , وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ , فَلَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حدیث نمبر: 26297
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْقِدْرَ فَيَأْخُذُ الذِّرَاعَ مِنْهَا , فَيَأْكُلُهَا , ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے تو اس میں سے ہڈی والی بوٹی نکالتے اور اسے تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اور نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے۔
حدیث نمبر: 26298
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ , فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا , فَقَالَ لَهَا : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ , ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ " , فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ , فَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجْنِبُ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ " , فَكَفَّ أَبُو هُرَيْرَةَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کا روزہ نہ ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے، مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث کہلوا بھیجی اور وہ اپنی رائے بیان کرنے سے رک گئے۔
حدیث نمبر: 26299
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ : بَعْضُنَا إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنَا عَنْكِ أَنَّكِ قُلْتِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ , قَالَتْ : " أَجَلْ , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ہمیں آپ کے حوالے سے یہ حدیث معلوم ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے ؟ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26300
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ , قَالَتْ : فَلَمَّا قَدِمْنَا طَافُوا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ " , قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ هَدْيٌ , قَالَتْ : وَكُنْتُ حَائِضًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَطُوفَ , فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَرْجِعُ نِسَاؤُكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ , وَأَنَا أَرْجِعُ بِحَجَّةٍ ؟ فَقَالَ لِي : " انْطَلِقِي مَعَ أَخِيكِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ , ثُمَّ مِيعَادُ مَا بَيْنِي وَبَيْنِكِ كَذَا وَكَذَا " , قَالَتْ : فَلَقِيتُهُ بِلَيْلٍ وَهُوَ مُهْبِطٌ أَوْ مُصْعِدٌ , قَالَتْ : وَقَالَتْ بِنْتُ حُيَيٍّ : مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَقْرَى حَلْقَى , مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ ! أَلَيْسَ قَدْ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قَالَتْ : بَلَى , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَانْفِرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی طواف و سعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایام سے تھیں، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کر آؤ اور فلاں جگہ پر ہم سے ملنا۔ اسی دوران حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر رہے تھے اور میں چڑھ رہی تھی۔
حدیث نمبر: 26301
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 26302
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ : قَالَتْ : " قَدْ عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ ! لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ , فَيُصَلِّي وَأَنَا فِي لِحَافِي , فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ , فَأَنْسَلُّ مِنْ تِلْقَاءِ رِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا ہے، حالانکہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چارپائی کی پائنتی کی جانب سے کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔
حدیث نمبر: 26303
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 26304
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , قَالَ : أَتَيْنَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ : لَعَلَّكُنَّ مِنَ النِّسَاءِ اللَّواتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ ؟ فَقُلْنَ لَهَا : إِنَّا لَنَفْعَلُ , فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا , هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔
حدیث نمبر: 26305
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدٌ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَقَدْ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا , فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہوئے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی۔
حدیث نمبر: 26306
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِيهِ , فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَرَى كَيْفَ نَصْنَعُ , أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ ؟ قَالَتْ : فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ السِّنَةَ حَتَّى وَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ نَائِمًا , قَالَتْ : ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ , فَقَالَ : اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ , قَالَتْ : فَثَارُوا إِلَيْهِ , فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قَمِيصِهِ يُفَاضُ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَالسِّدْرُ , وَيُدَلِّكُهُ الرِّجَالُ بِالْقَمِيصِ , وَكَانَتْ تَقُولُ : لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل کا ارادہ کیا تو لوگوں کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ کہنے لگے بخدا ! ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں، عام مردوں کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو کپڑوں سے خالی کریں یا کپڑوں سمیت غسل دے دیں ؟ اس اثناء میں اللہ نے ان پر اونگھ طاری کردی اور واللہ ایک آدمی ایسا نہ رہا جس کی ٹھوڑی اس کے سینے پر نہ ہو اور وہ سو گیا، پھر گھر کے کسی کونے سے کسی آدمی کی باتوں کی آواز آئی جسے وہ نہیں جانتے تھے اور وہ کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کپڑوں سمیت ہی غسل دو ، چنانچہ لوگ آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر بیری کا پانی انڈیلا جانے لگا اور قمیص کے اوپر سے ہی جسم مبارک کو ملا جانے لگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر مجھے پہلے ہی وہ بات سمجھ میں آجاتی تو جو بعد میں سمجھ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل ان کی ازواج مطہرات ہی دیتیں۔
حدیث نمبر: 26307
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , فقَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا , يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ , فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوْ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ , فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ , قَالَتْ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَنْصِبَ لَهُ حَصِيرًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي , فَفَعَلْتُ , فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ : فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ , فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا , ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلَ وَتَرَكَ الْحَصِيرَ عَلَى حَالِهِ , فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ , قَالَتْ : وَأَمْسَى الْمَسْجِدُ رَاجًّا بِالنَّاسِ , فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ , ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ وَثَبَتَ النَّاسُ , قَالَتْ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا شَأْنُ النَّاسِ يَا عَائِشَةُ ؟ " قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِكَ الْبَارِحَةَ بِمَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ , فَحَشَدُوا لِذَلِكَ لِتُصَلِّيَ بِهِمْ , قَالَتْ فَقَالَ : " اطْوِ عَنَّا حَصِيرَكِ يَا عَائِشَةُ " , قَالَتْ : فَفَعَلْتُ , وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ غَافِلٍ , وَثَبَتَ النَّاسُ مَكَانَهُمْ حَتَّى خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ , فَقَالَتْ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ , أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَيْلَتِي هَذِهِ غَافِلًا , وَمَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ , وَلَكِنِّي تَخَوَّفْتُ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " , قَالَ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ : إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رمضان المبارک میں لوگ رات کے وقت مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں میں نماز پڑھا کرتے تھے، جس آدمی کو تھوڑا سا قرآن یاد ہوتا اس کے ساتھ کم و بیش چھ آدمی کھڑے ہوجاتے اور اس کے ساتھ نماز پڑھتے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حجرے کے دروازے پر چٹائی بچھانے کا حکم دیا، میں نے اسی طرح کیا، پھر نماز عشاء کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، صبح ہوئی تو لوگوں نے ایک دوسرے سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کو گھر سے نکلے تھے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھی تھی، چنانچہ اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق باہر تشریف لائے اور نماز پڑھنے لگے، لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کی گواہی دی اور اما بعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ لہٰذا اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔
حدیث نمبر: 26308
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ , وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ , قَالَتْ : فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا , فَقَالَ لِي : " يَا عَائِشَةُ , مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ ؟ " قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا , فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا , قَالَتْ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ , فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ , أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي ؟ " قَالَ : فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ , قَالَ : " فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي , وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ , وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ , فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ , فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا , وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا , وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا , فَصُمْ وَأَفْطِرْ , وَصَلِّ وَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ خویلہ بنت حکیم پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حال آئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا عائشہ ! خویلہ کی یہ خراب حالت کیوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ایسی عورت ہے جس کا شوہر نہیں کیونکہ وہ سارا دن روزہ رکھتا ہے اور ساری رات نماز پڑھتا ہے تو یہ ایسے ہی جیسے کسی کا شوہر نہ ہو، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو اسی حال میں چھوڑ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان ! کیا تم میری سنت سے اعراض کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں واللہ یا رسول اللہ ! آپ کی سنت کا تو میں متلاشی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اس لئے اے عثمان ! اللہ سے ڈرو، کہ تمہارے اہل خانہ، مہمان اور خود تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا روزہ بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو، نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو۔
حدیث نمبر: 26309
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ , فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً , فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ , فَتَعَلَّقَتْ بِهِ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ , فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے حولاء بنت تویت نامی عورت گذری، کسی نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! یہ عورت رات بھر نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو رسی باندھ کر اس سے لٹک جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چاہیے کہ جب تک طاقت ہو، نماز پڑھتی رہے اور جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔
حدیث نمبر: 26310
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ , وَكَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26311
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو نہ روکا جائے۔
حدیث نمبر: 26312
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ جَزُورًا , أَوْ جَزَائِرَ , بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ , وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ الْعَجْوَةُ , فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِهِ , وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ , إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ , جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ , بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ , فَالْتَمَسْنَاهُ , فَلَمْ نَجِدْهُ " , قَالَ : فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاغَدْرَاهُ . قَالَتْ : فَنَهَمَهُ النَّاسُ , وَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللَّهُ , أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ , فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " , ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّه , إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ , فَالْتَمَسْنَاهُ , فَلَمْ نَجِدْهُ " , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاغَدْرَاهُ , فَنَهَمَهُ النَّاسُ , وَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ , فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " , فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ , قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " اذْهَبْ إِلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ , فَقُلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكِ : إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ , فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " , فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ , ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ , فَقَالَ : قَالَتْ : نَعَمْ , هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَابْعَثْ مَنْ يَقْبِضُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ : " اذْهَبْ بِهِ , فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ " , قَالَ فَذَهَبَ بِهِ , فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ , قَالَتْ : فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ , فَقَالَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ , قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک یا کئی اونٹ خریدے اور اس کا بدلہ ایک وسق ذخیرہ کھجور ( عجوہ) قرار دی اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کجھوریں تلاش کیں تو نہیں مل سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے اور فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے تم سے ایک وسق ذخیرہ کجھور کے عوض اونٹ خریدے ہیں لیکن میرے پاس اس وقت کجھوریں نہیں ہیں، وہ اعرابی کہنے لگا ہائے ! میرے ساتھ دھوکہ ہوگیا لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہنے لگے تجھ پر اللہ کی مار ہو، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دھوکہ دیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ، کیونکہ حقدار بات کہہ سکتا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اور ہر مرتبہ اس نے یہی کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے ڈانٹا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ وہ بات سمجھ نہیں پا رہا تو اپنے کسی صحابی سے فرمایا خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں اگر تمہارے پاس ایک وسق ذخیرہ کجھور ہوں تو ہمیں ادھار دے دو ، ہم تہ میں واپس لوٹا دیں گے، ان شاء اللہ۔ وہ صحابی چلے گئے، پھر واپس آکر بتایا کہ وہ کہتی ہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس کجھوریں موجود ہیں، آپ کسی آدمی کو بھیج دیجئے جو آکر لے جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ اور پوری کر کے دے دو ، وہ صحابی اس اعرابی کو لے گئے اور اسے پوری پوری کجھوریں دے دیں، پھر اس اعرابی کا گذر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے تو وہ کہنے لگا " جزاک اللہ خیرا " آپ نے پورا پورا ادا کردیا اور خوب عمدہ ادا کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین بندے وہی پورا کرنے والے اور عمدہ طریقے سے ادا کرنے والے ہی ہوں گے۔
حدیث نمبر: 26313
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : كَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَزَوَّجْتُهَا , قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا , فَلَمْ يَسْمَعْ لَعِبًا , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ , إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میری پرورش میں ایک انصاری بچی تھی، میں نے اس کا نکاح کردیا اس کی شادی والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو کوئی کھیل کود کی آواز نہ سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! انصار کا یہ قبیلہ فلاں چیز کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 26314
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ , فَأَيَّتُهُنَّ مَا خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، ان میں سے جس کے نام نکل آتا، اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے۔
حدیث نمبر: 26315
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ لَهُ : يَا نبيَّ اللَّهِ , إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ , أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا , فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ لَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ , فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ , قَالَ : " فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ , ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ , فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ " , فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ , وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹے کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں، جس کی وجہ سے اب مجھے ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نظر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دس گھونٹ اپنا دودھ پلا دو ، چنانچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھتی تھیں کہ یہ حکم سب مسلمانوں کے لئے عام ہے اور دیگر ازواج مطہرات اسے سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے ساتھ خاص سمجھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 26316
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرٌ , فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي , فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ , وَدَخَلَتْ دُوَيْبَةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آیت رجم نازل ہوئی تھی اور بڑی عمر کے آدمی کو دس گھونٹ دودھ پلانے سے رضاعت کے ثبوت کی آیت نازل ہوئی تھی، جو میرے گھر میں چار پائی کے نیچے ایک کاغذ میں لکھی پڑی ہوئی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور ہم ان کی طرف مشغول ہوگئے تو ایک بکری آئی اور اسے کھا گئی۔ فائدہ : ہر ذی شعور آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔
…