حدیث نمبر: 26237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ , عن عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ ، ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ ارْفُقْ بِمَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي , وَشُقَّ عَلَى مَنْ شَقَّ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! جو شخص میری امت پر نرمی کرے تو اس پر نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن برقان
حدیث نمبر: 26238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں ثنیہ اذخر سے داخل ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26239
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ , وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ , قَالَتْ : وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 26240
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ , ذُكِرَ أَنَّ الْحُمَّى صَرَعَتْهُمْ , فَمَرِضَ أَبُو بَكْرٍ , وَكَانَ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ : وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ الْعَنْ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ , وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ , وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ , كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ , فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَقُوا قَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ , أَوْ أَشَدَّ , اللَّهُمَّ صَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا , وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ " قَالَ : فَكَانَ الْمَوْلُودُ يُولَدُ بِالْجُحْفَةِ , فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتَّى تَصْرَعَهُ الْحُمَّى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں ؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے ! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی اور کیا شامہ اور طفیل میرے سامنے واضح ہو سکیں گے ؟ اے اللہ ! عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1889، م: 1376
حدیث نمبر: 26241
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , يَعْنِي حَدِيثَ حَمَّادٍ , إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْمَوْلُودِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3926، م: 1376
حدیث نمبر: 26242
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كُلُّ صَوَاحِبِي لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي , قَالَ : " فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ " , فَكَانَتْ تُدْعَى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے ( بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ انتقال تک انہیں " ام عبداللہ " کہہ کر پکارا جاتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26243
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ , كَانَ جِبْرِيلُ يُعِيذُهُ بِهِ , وَيَدْعُو لَهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ , قَالَتْ فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ بِهِ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , بِيَدِكَ الشِّفَاءُ , لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ , اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " , قَالَتْ : فَذَهَبْتُ أَدْعُو لَهُ بِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ , فَقَالَ : " ارْفَعِي عَنِّي " قَالَ : " فَإِنَّمَا كَانَ يَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو میں ان پر وہی کلمات پڑھ کر دم کرنے لگی جن سے حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں دم کرے تھے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام نشان بھی نہ چھوڑے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑ کر یہ دعاء پڑھنے لگی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا لو، یہ ایک خاص وقت تک ہی مجھے نفع دے سکتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: أرفعي عني، فإنما... فقد تفرد بها عمرو بن مالك، قال ابن حجر عنه: صدوق له اوهام
حدیث نمبر: 26244
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ , وَالْفَأْرَةُ , وَالْحُدَيَّا , وَالْغُرَابُ , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26245
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 973
حدیث نمبر: 26246
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُسْلِمَ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا قَصَّرَ مِنْ ذُنُوبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه كلام، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 26247
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ أُمِّي , تُحَدِّثُ ، أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً , وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ , قَالَتْ : فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , قَالَتْ : قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ , وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ , فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ ؟ قَالَتْ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ , لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ : ثَلَاثَ مِرَارٍ , لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ , وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ , وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ : " اكْتُبْ عُثْمَانُ " قَالَتْ : مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا .
مولانا ظفر اقبال
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ ان کے چچا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، واللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے ! عثمان ! لکھو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں سے ان کا نکاح کیا تھا، اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل عمر بن إبراهيم اليشكري
حدیث نمبر: 26248
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ , فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ , فَأَغْسِلُهُ بِالْخِطْمِيِّ وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے خطمی سے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حماد وقد توبع
حدیث نمبر: 26249
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ قِلَادَةُ جَزْعٍ , فَقَالَ : " لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ " , فَقَالَتْ النِّسَاءُ : ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ , فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِ أُمَامَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس پر مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابو قحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26250
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شُمَيْسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ , وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلٌ مِنَ الْإِبِلِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ : " إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدْ اعْتَلَّ , فَلَوْ أَنَّكِ أَعْطَيْتِيهَا بَعِيرًا " , قَالَتْ : أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ , فَتَرَكَهَا , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , حَتَّى رَفَعَتْ سَرِيرَهَا , وَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا يَرْضَى عَنْهَا , قَالَتْ : فَإِذَا أَنَا بِظِلِّهِ يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ , فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیمار ہوگیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صفیہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے، وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں ناامید ہوگئی اور اپنی چار پائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا ( اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہوگئے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة شميسة
حدیث نمبر: 26251
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَاتُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں مؤخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
حدیث نمبر: 26252
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " سَابَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَبَقْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26253
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26254
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ جِمَاعٍ لَا احْتِلَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لئے نکلتے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل کا وجوب اختیاری طور پر ہوتا تھا، غیر اختیاری طور پر نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم ابن بهدلة، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 26255
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَسَبْعِينَ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي اسْتُحِضْتُ ؟ قَالَ : " دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ , ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 228، م: 333
حدیث نمبر: 26256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ , إِذْ قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ , كَيْفَ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , وَيَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ نَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ , إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ " , قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَأَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ , قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : أَنَا سَمِعْتُهُ , قَالَ : لَوْ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَنْقُضَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ.
مولانا ظفر اقبال
ابوقزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، وہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس کی تعمیر میں شامل کردیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین ! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، تو عبد الملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر بر قرار رہنے دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1333
حدیث نمبر: 26257
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26258
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَنْبَرِيُّ يُكْنَى أبَا سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : مَدَّتْ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ , وَقَالَ : " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ ؟ " فَقَالَتْ : بَلْ امْرَأَةٌ , فَقَالَ : " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً غَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرتبہ پردے کے پیچھے سے ایک عورت نے ہاتھ بڑھا کر ایک تحریر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا اور فرمایا مجھے کیا خبر کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ؟ اس عورت نے جواب دیا کہ میں عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم عورت ہو تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مطبع بن ميمون العنبري
حدیث نمبر: 26259
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ , ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میری نظروں کے سامنے اب بھی وہ منظر موجود ہے، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 26260
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ : أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وراثت میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجنا چاہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6730، مؒ: 1758
حدیث نمبر: 26261
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ , فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ , وَهُوَ مُعْتَكِفٌ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی اور وہ گھر میں صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 26262
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أخبرنا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا , فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ , وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ تُنْتَهَكُ حُرْمَةُ اللَّهِ , فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہ لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 26263
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ , فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ , وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر بیمار ہوجاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 26264
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَثِيرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ يَرَاهُ فِي مِرْطِ إِحْدَانَا , ثُمَّ يَفْرُكُهُ " , يَعْنِي الْمَاءَ , وَمُرُوطُهُنَّ يَوْمَئِذٍ الصُّوفُ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی چادر پر مادہ منویہ کے اثرات دیکھتے تو اسے کھرچ دیتے تھے اور اس دور میں ان کی چادریں اون کی ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذا اللفظ ، تفرد به جعفر بن برقان
حدیث نمبر: 26265
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ مَا أَغْسِلُ " , قَالَ أَبُو قَطَنٍ قَالَتْ مَرَّةً : أَثَرَهُ , وَقَالَتْ مَرَّةً : مَكَانَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچ دیتی تھی اور کپڑے کو دھوتی نہیں تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور
حدیث نمبر: 26266
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , مِثْلَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 26267
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ , فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي إِلَيْهِ حَفْصَةُ , وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ الْيَوْمَ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَقَالَ : " اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأن جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري خاصة
حدیث نمبر: 26268
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ , عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ , فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ , فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ , فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی، اس دوران یمن کے قبیلہ خولان سے کچھ قیدی آئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا، پھر جب مضر کے قیبلہ بنو عنبر کے قیدی آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی کو آزاد کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبن معقل
حدیث نمبر: 26269
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ , فَقَالَتْ لِي : إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ : أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ , تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ ؟ وقُلْتِ : لَا أَدْرِي , فَأَفَاقَ , فَقَالَ : " افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ " , ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ : لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ ؟ قُلْتِ : لَا أَدْرِي , ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ : " افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ " , فَقُلْتُ لَكِ : أَبِي أَوْ أَبُوكِ ؟ قُلْتِ : لَا أَدْرِي , فَفَتَحْنَا الْبَابَ , فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ادْنُهْ " , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : " أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " ادْنُهْ " , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي , مَا هُوَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " ادْنُهُ " , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : " أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ , سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي , فَقَالَ لَهُ : " اخْرُجْ " , فقَالَ : قَالَتْ حَفْصَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ , أَوْ قَالَتْ : اللَّهُمَّ صِدْقٌ .
مولانا ظفر اقبال
ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ یہ حفصہ رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں آپ کی قسم دیکھ کر پوچھتی ہوں، اگر میں غلط کہوں تو آپ میری تصدیق نہ کریں اور صحیح کہوں تو تکذیب نہ کریں، آپ کو معلوم ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، میں نے آپ سے پوچھا کیا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ؟ آپ نے کہا مجھے کچھ معلوم نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوگیا اور انہوں نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو ، میں نے آپ سے پوچھا کہ میرے والد آئے ہیں یا آپ کے ؟ آپ نے جواب دیا مجھے کچھ معلوم نہیں ہم نے دروازہ کھولا تو وہاں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سرگوشی میں کچھ باتیں کیں جو آپ کو معلوم ہیں اور نہ مجھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا میری بات سمجھ گئے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں ! تین مرتبہ اس طرح سرگوشی اور اس کے بعد یہ سوال جواب ہوئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اب تم جاسکتے ہو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اسی طرح ہے اور یہ بات سچی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على ابن عاصم
حدیث نمبر: 26270
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا وَيُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26271
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ , فَتَخْتَارُهُ , قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا , فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ " فَقُلْتُ : وَمَا هَذَا الْأَمْرُ ؟ قَالَتْ : فَتَلَا عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُشَاوِرَ أَبَوَيَّ ؟ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ : فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ , وَقَالَ : " سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ " , فَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ , ثُمَّ يَقُولُ : " قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ " , قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو الخ۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی بات رکھوں گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی بتا دیتے تھے، کہ عائشہ نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو اختیار دیا، ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 26272
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ تین دن کے بعد میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عطاء، وسلف بإسناد صحيح دون قوله: بعد ثلاث، برقم: 24107
حدیث نمبر: 26273
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26274
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا , صَلَّى قَائِمًا , وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا صَلَّى قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 26275
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِهِ حَيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 26276
حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ مَكْحُولٌ ، حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ رِيَاطٍ يَمَانِيَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین یمنی چادروں میں کفنایا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مسكين بن بكير فيه كلام من قبل حفظه