حدیث نمبر: 26197
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ سورة آل عمران آية 7 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ , أَوْ فَهُمْ , فَاحْذَروْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہذا ان سے بچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
حدیث نمبر: 26198
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ , وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ , فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ , وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي , يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا , فَيُكَلِّمُنِي , فَأَعِي مَا يَقُولُ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ , فَيَفْصِمُ عَنْهُ , وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الٰہی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2
حدیث نمبر: 26199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ , عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ , فَارْفُقْ بِهِ , وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ , فَشُقَّ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 26200
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عامر ابن صالح وهو متروك
حدیث نمبر: 26201
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَفْلَحُ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاقَعَ أَهْلَهُ , ثُمَّ أَصْبَحَ فَاغْتَسَلَ , وَصَلَّى وَصَامَ يَوْمَهُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 26202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ثَقُلَ وَبَدَّنَ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 732
حدیث نمبر: 26203
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَكَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ , فَيَقُولُ : فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقْرَأْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور وہ جواب دے کہ اللہ نے، پھر وہ یہ سوال کرے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے تو ایسی صورت میں اسے یوں کہنا چاہیے " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " اس سے وہ دور ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح من حديث أبى هريرة، م: 134
حدیث نمبر: 26204
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى نبيه
حدیث نمبر: 26205
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي بِبَعْضِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 26206
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي , قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الْوَاشِمَةِ , وَالْوَاصِلَةِ وَالْمُتَوَاصِلَةِ , وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کو مل دل کرنے صاف کرنے، جسم گودنے اور گودوانے، بال ملانے اور ملوانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة والدة أبان، والنهي عن الأمور الواردة ثابت بالأحاديث الصحيحة
حدیث نمبر: 26207
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ , أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26208
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مِرَارًا , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ شَوْكَةٍ , فَمَا فَوْقَهَا , فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 26209
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا , يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ , يَحْفَظُهُ مَنْ سَمِعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو، وہ اس طرح واضح گفتگو فرماتے تھے کہ اسے ہر سننے والا محفوظ کرلیتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 26210
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ , وَقَالَ : " لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھیں، اس دوران انہوں نے اپنے اونٹ پر لعنت بھیجی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دینے کا حکم دیا اور فرمایا میرے ساتھ کوئی ملعون چیز نہیں جانی چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 26211
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ , عَنْ قُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ , فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قريبة وعاصم
حدیث نمبر: 26212
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , فَذَكَرَ قِصَّةً , فَقَالَتْ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي فَرَفَقَ بِهِمْ , فَارْفُقْ بِهِ , وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ , فَاشْقُقْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 26213
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 26214
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ , عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ , فَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي لَهَا , فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَسَاءَ الْوُضُوءَ , فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , أَسْبِغْ الْوُضُوءَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن ! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول ولكن تابعه يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 26215
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ , مَا أَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح
حدیث نمبر: 26216
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ , قَالَتْ : " قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26217
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 26218
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا , أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ , فَلَا تُعَاقِبْنِي أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ وَشَتَمْتُهُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذه السياقة لأن رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26219
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ , سَمِعَهُ مِنْهَا , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنَ اللَّيْلِ , غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ النَّهَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 26220
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ دَاوُدَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرے میں سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 26221
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ , فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 26222
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ , فَيَنْصَرِفُ نِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ , مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ " , أَوْ قَالَ : لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 872، م: 645
حدیث نمبر: 26223
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ , وَالْعَقْرَبُ , وَالْغُرَابُ , وَالْحُدَيَّا , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 26224
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي دَارٍ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أَبَا سَلَمَةَ , اجْتَنِبْ الْأَرْضَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ ! زمین چھوڑ دو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن يحيى لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 26225
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، هو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 26226
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26227
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، : قَالَ حَسَنٌ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي , إِذْ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَرْجِعُ ؟ قَالَ : " جَيْشٌ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ , يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ , حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ , خُسِفَ بِهِمْ , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ فَقَالَ : " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ , إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ , " ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور انا للہ پڑھنے لگے، میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! کیا بات ہے کہ آپ انا للہ پڑھ رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امت کا ایک لشکر شام کی جانب سے آئے گا اور ایک آدمی کو گرفتار کرنے کے لئے بیت اللہ کا قصد کرے گا، اللہ اس آدمی کی اس لشکر سے حفاظت فرمائے گا اور جب وہ لوگ ذوالحلیفہ سے مقام بیداء کے قریب پہنچیں گے تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور انہیں مختلف جگہوں سے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا بات ہوئی کہ ان سب کو دھنسایا تو اکٹھے جائے گا اور اٹھایا مختلف جگہوں سے جائے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ اس لشکر میں بعض لوگوں کو زبر دستی شامل کرلیا گیا ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لاضطراب حماد فيه
حدیث نمبر: 26228
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطراب حماد بن سلمة فيه
حدیث نمبر: 26229
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطراب حماد
حدیث نمبر: 26230
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , وَقَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ , يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ , وَالْحَيَّةُ , وَالْعَقْرَبُ , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ , وَالْحِدَأَةُ " وَفِي كِتَابِ يَعْقُوبَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مَكَانَ الْحَيَّةِ الْفَأْرَةُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26231
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ النَّوْمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ نَوْمُهُ , إِنَّ أَحَدَكُمْ عَسَى أَنْ يَذْهَبَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 26232
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ , فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ , وَبَسَطَ يَدَهُ , ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ شَتَمْتُ , أَوْ آذَيْتُ , فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26233
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَمْرٍو , عَنِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ ، بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ , فَقَالَتْ لِرَسُولِهِ : يَا بُنَيَّ , إِنِّي لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا , فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ : رُدُّوهُ عَلَيَّ , فَرَدُّوهُ , فَقَالَتْ : إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ , مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ , فَاقْبَلِيهِ , فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
مطلب بن حطیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا ! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کرلیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26234
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " إِنْ كَانَ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ , حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ , مَسَّنِي بِرِجْلِهِ , فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ , تَأَخَّرْتُ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے، میں سمجھ جاتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگے ہیں لہذا میں پیچھے ہٹ جاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
حدیث نمبر: 26235
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ , وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح نہیں ہوا اور بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 26236
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ , فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ , تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج