حدیث نمبر: 26157
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَنٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه
حدیث نمبر: 26158
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوَتْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز پڑھتے تھے تو سب سے آخری نماز وتر کی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 740
حدیث نمبر: 26159
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26160
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : خَرَجْنَا نُرِيدُ الْحَجَّ , فَلَمْ أَطُفْ , فَقُلْتُ : يَرْجِعُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ ؟ قَالَتْ صَفِيَّةُ : مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ , قَالَ : " عَقْرَى حَلْقَى " , قَالَ : " طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " , قَالَتْ : نَعَمْ , قَالَتْ : فَأَمَرَهَا فَنَفَرَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤنگی ؟ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26161
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا دَعَا , وَقَالَ : " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ , اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کر کے یہ ضرور کہا " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
حدیث نمبر: 26162
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 26163
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ مِنَ الطِّيبِ , حَتَّى أَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
حدیث نمبر: 26164
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ قَبْلَ النَّفْرِ , فَسَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " كُنْتِ طُفْتِ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ , فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ , فَنَفَرَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رونگی سے پہلے حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26165
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يُسَارِعُ إِلَى شَيْءٍ مَا يُسَارِعُ إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف جتنی سبقت فرماتے تھے، کسی اور چیز کی طرف نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 26166
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ خَصِيفٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ ثَلَاثِينَ سَنَةً , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَجْمَرْتُ شَعْرِي إِجْمَارًا شَدِيدًا , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن عائشة ولضعف شريك
حدیث نمبر: 26167
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنِ أَبِيهِ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ , ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26168
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ , فَإِذَا دَخَلَ تَسَوَّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ : سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1160، م: 736
حدیث نمبر: 26170
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ , فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ , فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَادُرِ الْمَاءِ فِي شَعْرِهِ وَجِلْدِهِ , ثُمَّ يَخْرُجُ , فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ , ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے، ان کے بالوں اور جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے اور وہ نماز کیلئے چلے جاتے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
حدیث نمبر: 26171
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا , مَا يُبَالِي مَا قَبَّلَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26172
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
حدیث نمبر: 26173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچا رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى نبيه
حدیث نمبر: 26174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا وَائِلٌ , قَالَ : سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : " مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ , وَإِنْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا : اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن إن صح سماع البهي عن عائشة
حدیث نمبر: 26175
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ : اعْتَلَجَ نَاسٌ , فَأَصَابَ طُنُبُ الْفُسْطَاطِ عَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ , فَضَحِكُوا , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوكُهُ شَوْكَةٌ , فَمَا فَوْقَهَا , إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً , وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2572
حدیث نمبر: 26176
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُطِيعٌ الْغَزَّالُ , عَنْ كُرْدُوسٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبِيلِهِ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26177
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 26178
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى , فإنهم اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْلَا ذَلِكَ أَبْرَزَ قَبْرَهُ , وَلَكِنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1390، م: 529
حدیث نمبر: 26179
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْ سَالِمًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ , فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ سالم کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دے، پھر وہ اس رضاعت کی وجہ سے ان کے یہاں چلا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26180
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَمْرَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ : إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا , فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا , لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1289، م: 932
حدیث نمبر: 26181
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَرِجْلِي فِي قِبْلَتِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ , غَمَزَنِي , فَقَبَضْتُهَا , فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رو رہی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
حدیث نمبر: 26182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ , فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ , الْمُقِيمُ فِيهَا كَالشَّهِيدِ , وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے، اس میں ثابت قدم والا شہید کی طرح ہوگا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 26183
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ الْعَدَوِيَّةُ , قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث جيد
حدیث نمبر: 26184
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى بِهَا طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 833
حدیث نمبر: 26185
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَوْتَرَ , صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر پڑھ لیتے تو بیٹھے بیٹھے دو کعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 26186
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ شَجَّاحٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ بِنْتُ هُذَامٍ الْهُنَائِيَّةُ , قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : " رُبَّمَا رَأَيْتُ فِي ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَابَةَ , فَأَفْرُكُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے بھی اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ورقاء الهنائية، م: 288
حدیث نمبر: 26187
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ , أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ , لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص پر کوئی قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی فکر میں ہو تو اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ لگا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 26188
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 26189
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا مَرِضَ قَرَأَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَيَنْفُثُ , قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا ثَقُلَ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِمَا , وَأَمْسَحُ بِيَمِينِهِ الْتِمَاسَ بَرَكَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر بیمار ہوجاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5061، م: 2192
حدیث نمبر: 26190
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " , قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ : فِي رَمَضَانَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 26191
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِثَلَاثِ مَسَاكِنَ لَهُ , فَقَالَ : الْقَاسِمُ يُخْرَجُ ذَاكَ حَتَّى يُجْعَلَ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ , وَقَدْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 26192
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا أَفْلَحُ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ , فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 26193
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ مَوْلَى عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا , فَقَدْ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي , وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ , وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ , إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ , وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ , مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ , لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ , وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " , قَالَ أَبِي : وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ : قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ , وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ آذَى لِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے کسی دوست کی تذلیل کرتا ہے وہ مجھ سے جنگ کو حلال کرلیتا ہے اور فرائض کی ادائیگی سے زیادہ بندہ کسی چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرتا اور بندہ میرا قرب حاصل کرنے کے لئے مسلسل نوافل پڑھتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے عطاء کرتا ہوں اور اگر دعاء کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہوں اور مجھے اپنے کسی کام میں ایسا تردد نہیں ہوتا جیسا اپنے بندے کی موت پر ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور میں اسے تنگ کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالواحد مولي عروة
حدیث نمبر: 26194
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سُئِلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ , وَيَحْلُبُ شَاتَهُ , وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک بشر تھے، وہ اپنے کپڑوں کو صاف کرلیتے تھے، بکری کا دودھ دو لیتے تھے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26195
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ , وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا , قَالَ : " يَغْتَسِلُ " وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ , وَلَا يَرَى بَلَلًا , قَالَ : " لَا غُسْلَ عَلَيْهِ " فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِك شَيْءٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ , إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کا حکم پوچھا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے خواب یاد نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ غسل کرے گا، سائل نے پوچھا کہ جو آدمی سمجھتا ہو کہ اس نے خواب دیکھا ہے لیکن اسے تری نہ آئے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ہے، حضرت ام سلیم نے عرض کیا اگر عورت ایسی کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس پر بھی غسل واجب ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کیونکہ عورتیں مردوں کا جوڑا ہی تو ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 26196
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَصَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف