حدیث نمبر: 25798
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِح , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِر , ٍعَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سُرِقَتْ مِخْنَقَتِي , فَدَعَوْتُ عَلَى صَاحِبِهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تُسَبِّخِي عَلَيْهِ دَعِيهِ بِذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بد دعائیں دیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف إبراهيم النخعي لم يثبت له سماع من عائشة
حدیث نمبر: 25799
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کے دن طواف زیارت کو رات تک کے لئے مؤخر کردیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتدليس أبى الزبير
حدیث نمبر: 25800
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25801
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5442، م: 2975
حدیث نمبر: 25802
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِر ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَر , فَقَال : " يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25803
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَقَالَ : حَدَّثَنَا عَلِي يَعْنِي ابْنَ ْمُبَارَكٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْر ؟ قَال : " إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ قَالَ : عُرُوقٌٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 25804
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَقَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌ , عَنْ يَحْيَى , قَال : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ ، خَازِنَ الْبَيْتِ , أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ , فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِه , فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَة : لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْه , فَقَال : " إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ نَكْبَةٌ شَوْكَةٌ وَلَا وَجَعٌ إِلَّا رَفَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً " أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے باربار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25805
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْب , عَنْ الزُّهْرِي ، عَنْ عُرْوَة , عَنْ عَائِشَة , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُسَمُّونَ أَوْ تَدْعُونَ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْر إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ سَجْدَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَة , وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْح , رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْن , ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَيَأْتِيهِ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو وہ مختصر پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25806
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيّ ، عَنْ عُرْوَة , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَت : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
حدیث نمبر: 25807
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَة , فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ , فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم , فَقَال : " مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَحَدٍ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ " , قَالَ : وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاس . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 566، م: 638
حدیث نمبر: 25808
حَدَّثَنَا حَجَّاج , حَدَّثَنَا لَيْث , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْل , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَة , عَنْ عَائِشَةَ أخبرته " أنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ ليلة فذكر مَعْنَاه ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 566، م: 638
حدیث نمبر: 25809
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , قَال : َأَخْبَرَنَا سُفْيَان , ُعَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَد , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 25810
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيم , قَال : َحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَة , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِين , قَال : نُبِّئْتُ عَنْ دِقْرَةَ أُمِّ عَبْد اللهِ بْنِ أُذَيْنَة , قَالَتْ : كُنَّا نَطُوفُ مَعَ عَائِشَةَ بِالْبَيْتِ فَأَتَاهَا بَعْضُ أَهْلِهَا ، فَقَالَ : إِنَّكِ قَدْ عَرَقْتِ , فَغَيِّرِي ثِيَابَكِ , فَوَضَعَتْ ثَوْبًا كَانَ عَلَيْهَا فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا عَلَيَّ مُصَلَّبًا , فَقَالَت : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ " , قَالَتْ : فَلَمْ تَلْبَسْه .
مولانا ظفر اقبال
دقرہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ طواف کر رہے تھے کہ ان کے پاس ان کے اہل خانہ میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو پسینہ آرہا ہے، کپڑے بدل لیجئے، چنانچہ انہوں نے اوپر کے کپڑے اتار دیئے، میں نے ان کے سامنے اپنی چادر پیش کی چس پر صیلب کا نشان بنا ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کپڑے پر صلیب کا نشان دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ چادر نہیں اوڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل دقرة
حدیث نمبر: 25811
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِد , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِث ، قَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ بَلَغَ مَرْوَانُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُب , فَلَا يَصُومَنَّ يَوْمَئِذ , فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَاكَ ؟ فَانْطَلَقَتْ مَعَه , فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَام , ثُمَّ يَصُومُ " فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ , فَحَدَّثَهُ , فَقَال : َالْقَ أَبَا هُرَيْرَةَ , فَحَدِّثْه , َقَالَ : إِنَّهُ لَجَارِي , وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِمَا يَكْرَهُ , فَقَال : َأَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَلْقَيَنَّهُ , قَال : َفَلَقِيَهُ , فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَكَ بِمَا تَكْرَهُ , وَلَكِنَّ الْأَمِيرَ عَزَمَ عَلَيَّ , قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ , فَقَال : َحَدَّثَنِيهِ الْفَضْلُ.
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، مروان کو پتہ چلا تو ایک مرتبہ اس نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں، میں اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتا کہ ان کے سامنے کوئی ناگوار بات رکھوں، اس نے مجھے قسم دے دی، چنانچہ میں نے اس سے ملاقات کی اور انہیں بتادیا کہ میں تو آپ کے سامنے اسے بیان نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن گورنر صاحب نے مجھے قسم دے دی تھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات مجھ سے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25812
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25813
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الْحَسَنِ , قَال : سُئِلَتْ عَائِشَةُ ، عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم , فَقَالَت : " كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تو قرآن تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع
حدیث نمبر: 25814
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَة ، قَال : قُلْتُ لِعَائِشَة : َأَيْ أُمَّهْ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَت : " نَعَمْ ، لَمْ يَكُنْ يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاة " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن عمرو
حدیث نمبر: 25815
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َأَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوق ، قَال : أَتَيْنَا عَائِشَةَ لِنَسْأَلَهَا عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِم , فَاسْتَحَيْنَا فَقُمْنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهَا فَمَشَيْنَا لَا أَدْرِي كَمْ , ثُمَّ قُلْنَا : جِئْنَا لِنَسْأَلَهَا عَنْ حَاجَةٍ , ثُمَّ نَرْجِعُ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهَا , فَرَجَعْنَا , فَقُلْنَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا جِئْنَا لِنَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ , فَاسْتَحَيْنَا فَقُمْنَا , فَقَالَتْ : مَا هُوَ ؟ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا , قُلْنَا : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَت : " قَدْ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے " مباشرتِ صائم " کا حکم پوچھنے لگے، لیکن ان سے پوچھتے ہوئے شرم آئی اس لئے ان سے پوچھے بغیر ہی کھڑے ہوگئے، تھوڑی دور ہی چل کر گئے تھے " جس کی مسافت مجھے یاد نہیں " کہ ہمارے دل میں خیال آیا کہ ہم ان سے ایک ضروری بات پوچھنے کے لئے گئے تھے اور بغیر پوچھے واپس آگئے، یہ سوچ کر ہم واپس آگئے اور عرض کیا ام المومنین ! ہم آپ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آئے تھے لیکن شرم کی وجہ سے پوچھے بغیر ہی چلے گئے تھے، انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو، ہم نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25816
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ , قَال : َقَالَ رَجُلٌ : قُلْتُ لِعَائِشَة : َمَا كَانَ يَقْضِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ , قَال : َ " فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ حَزَرَتْهُ صَاعًا بِصَاعِكُمْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ غسل جنابت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا پانی کفایت کرجاتا تھا ؟ اس پر انہوں نے ایک برتن منگوایا، میں نے اس کا اندازہ کیا تو وہ موجودہ صاع کے برابر ایک صاع تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25817
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَال : َسَمِعْتُ الْقَاسِمَ , يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَة ُ " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1189
حدیث نمبر: 25818
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ , فَأَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ , ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1321
حدیث نمبر: 25819
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَال : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا , وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا " , قُلْتُ : أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا ؟ قَالَتْ : " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا , وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا " , قُلْت : ُكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا ؟ وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا ؟ قَالَت : " إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْح " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے اور میرے گھر واپس آکر دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کردو رکعتیں پڑھتے، رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہوتے، رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور جب طلوع صبح صادق ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25820
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَال : َقَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَة ِ " ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ ؟ " فَقَالَ مَا هُنَّ ؟ بَلْ أَنَا أُباِيعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : " اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِك " , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً , فَقَالَتْ : " إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ " , وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا , فَلَا تَمَلُّ النَّاسُ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أَلْفيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ , فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنْ اتْرُكْهُمْ , فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کے ایک واعظ " جس کا نام ابن ابی السائب تھا " سے فرمایا کہ تین باتیں ہیں جنہیں میرے سامنے ماننے کا اقرار کرو، ورنہ میں تم سے جنگ کروں گی، اس نے پوچھا وہ کیا ؟ اے ام المومنین ! میں آپ کے سامنے ان کو تسلیم کرنے کا اقرار کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ دعا میں الفاظ کی تک بندی سے اجتناب کیا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ ایسا نہیں کرتے تھے، دوسرے یہ کہ جمعہ میں لوگوں کے سامنے صرف ایک مرتبہ وعظ کہا کرو، اگر نہ مانو تو دو مرتبہ ورنہ تین مرتبہ، تم اس کتاب سے لوگوں کو اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرو اور تیسرے یہ کہ میں تمہیں کبھی اس طرح نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کے درمیان قطع کلامی کرنے لگو، بلکہ انہیں چھوڑے رکھو، اگر وہ تمہیں آگے بڑھنے دیں اور گفتگو میں شریک ہونے کا حکم دیں تب ان کی گفتگو میں شریک ہوا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25821
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ , يَقُولُهُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا : " سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ تلاوت میں فرمایا کرتے تھے " میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے قوت شنوائی و گویائی عطاء فرمائی اور یہ سجدہ بھی اس کی توفیق اور مدد سے ہوا ہے "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل بن خالد و أبى العالية
حدیث نمبر: 25822
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َحَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے جن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ " تخلیہ " فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25823
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَال : َقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ , أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا ؟ فَقَال : َلَا أَبُوكَ أَبُوهَا , قَال : َثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ , فَقَال : َإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا , فَلَمْ تَأْذَنْ , لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَت : ْيَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ , فَلَمْ آذَنْ لَهُ , فَقَالَ : " هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ " فَقُلْتُ : إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ , وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ , فَقَال : َ " هُوَ عَمُّكَ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یار سول اللہ ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور، خ: 4796، م: 1445
حدیث نمبر: 25824
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , قَال : َقَالَتْ عَائِشَة " كَانَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے صرف سورت فاتحہ پڑھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة وقد سلف برقم: 24125، بإسناد صحيح بلفظ: كان النبى لا يخفف الركعتين
حدیث نمبر: 25825
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمغِيرَةِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , قَال : َقَالَتْ عَائِشَة " بَعَثَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا , فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ , أَوْ أَمْسَكْتُ وَقَطَعَ , فَقَالَ : الَّذِي تُحَدِّثُه : ُأَعَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ ؟ فَقَالَتْ : لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مِصْبَاحٌ لَائْتَدَمْنَا بِهِ , إِنْ كَانَ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا , وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایہ بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہو، اگر ہمارے پاس چراغ ہوتا تو اسی کے ذریعے سالن حاصل کرلیتے اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکارتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن حميدا لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25826
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
حدیث نمبر: 25827
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ , فَإِذَا رُمْحٌ مَنْصُوبٌ , فَقَالَت : ْمَا هَذَا الرُّمْحُ ؟ فَقَالَت : ْنَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ , ثُمَّ حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ جَعَلَتْ الدَّوَابُّ كُلُّهَا تُطْفِئُ عَنْهُ إِلَّا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَنْفُخُهَا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین ! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25828
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َأَخْبَرَنَا دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ , وَالسَّمَوَاتُ , وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ , أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَال : " النَّاسُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الصِّرَاطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت " یوم تبدل الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ " کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
حدیث نمبر: 25829
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَيَزِيدُ الْمَعْنَى , قَالَا : أَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَال : قُلْتُ لِعَائِشَة َأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقْرَأُ السُّوَرَ ؟ قَالَتْ : " الْمُفَصّلَ " قُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَت : " نَعَمْ بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ " قُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى , قَالَتْ : " لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ " قُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا سِوَى رَمَضَانَ ؟ قَالَت : ْلَا وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا تَامًّا سِوَى رَمَضَانَ , وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا , قُلْت : ُأَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ ؟ قَالَت : " أَبُو بَكْرٍ " , قُلْت : ُثُمَّ مَنْ ؟ قَالَت : " ثُمَّ عُمَرُ " , قُلْتُ : ثُمَّ مَن ؟ قَالَت : " أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " قَال : َيَزِيدُ , قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَال : َفَسَكَتَتْ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا مفصلات۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الاّ یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آئے ہوں۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہنیہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ اکرام میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا عمر، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ تو وہ خاموش رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 717
حدیث نمبر: 25830
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال : َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ , قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ أَبِي قِلَابَةَ خُرُوجَ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ , قَال : َقَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَتْ الْكِعَابُ تَخْرُجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خِدْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عیدگاہ لے جایا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو قلابة كثير الإرسال
حدیث نمبر: 25831
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : َ " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " , فَقَالَتْ عَائِشَة : ُيَا رَسُولَ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ أَنْ يَكْرَهَ الْمَوْتَ ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَكْرَهُهُ , فَقَال : َ " لَا لَيْسَ بِذَاكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ , فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرَامَتِهِ , فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يُحِبُّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَاللَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَهُ , وَإِنَّ الْكَافِرَ وَالْمُنَافِقَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ , فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهَوَانِهِ , فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ , وَاللَّهُ يَكْرَهُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے ناملنے کی ناپسندیدگی کا مطلب اگر موت سے نفرت ہے تو ہم میں واللہ ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ مراد نہیں بلکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ مومن کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو ثواب اور عزت تیار کر رکھی ہوتی ہے وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چنانچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اسے اللہ سے ملنے کی چاہت ہوتی ہے اور اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کافر کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو عذاب اور ذلت تیار کر رکھی ہوتی ہے، وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چنانچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عنعنة الحسن وفي سماعه من عائشة نظر
حدیث نمبر: 25832
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , قَال : َحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادہ بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 25833
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَيُونُسُ ، قَال : َحَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال َ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25834
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قَال : َأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25835
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أُمَيَّةَ , أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ هَذِهِ الْآيَة إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 , فَقَالَتْ : مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّةِ وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ , حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ , فَيَفْقِدُهَا , فَيَفْزَعُ لَهَا , فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ , حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
امیر سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو آیتوں کا مطلب پوچھا " اگر تم اپنے دلوں کی باتوں کو ظاہر کردیا یا چھپاؤ، دونوں صورتوں میں اللہ تم سے اس کا محاسبہ کرے گا " اور یہ کہ جو " شخص کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بد لہ دیا جائے گا " تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیتوں کے متعلق پوچھا ہے آج تک کسی نے مجھ سے ان کے متعلق نہیں پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے عائشہ ! اس سے مراد وہ پے درپے آنے والی مصیبتیں ہیں جو اللہ اپنے بندے پر مسلط کرتا ہے، مثلاً کسی جانور کا ڈس لینا، تکلیف پہنچ جانا اور کانٹا چبھ جانا، یا وہ سامان جو آدمی آستین میں رکھے اور اسے گم کر بیٹھے، پھر گھبرا کر تلاش کرے تو اسے اپنے پہلو کے درمیان پائے حتیٰ کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے، جیسے بھٹی سے سرخ سونے کی ڈلی نکل آتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف على بن زيد ولجهالة أمية
حدیث نمبر: 25836
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَال : َأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25837
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , قَال : َذَكَرُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ اسْتِقْبَالَ الْقِبْلَةِ بِالْفُرُوجِ , فَقَالَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَتْ عَائِشَة ُ : ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ ذَلِكَ , قَال : َفَقَالَ : " قَدْ فَعَلُوهَا ؟ حَوِّلُوا مَقْعَدَتِي نَحْوَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فى متنة