حدیث نمبر: 24779
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ آخِرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1146
حدیث نمبر: 24780
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ : أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ ؟ قَالَتْ : نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا : " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ ، غَيْرُ الْوَزَغِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِقَتْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندی تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین ! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الأمر بقتل الوزغ صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة
حدیث نمبر: 24781
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ . وَعَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِهِ ، وَهُوَ يُلَبِّي " . قَيْلَ لِسُلَيْمَانَ : أَفِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 24782
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 24783
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، قالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَتْ : " مَا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ ، إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام موسیٰ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أم موسي توبعت
حدیث نمبر: 24784
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ " . يَعْنِي : وَلَدَ الزِّنَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناجائز بچہ بھی اگر اپنے ماں باپ جیسے کام کرنے لگے تو وہ تیسرا شر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لأجل إبراهيم بن إسحاق، فإنه متروك
حدیث نمبر: 24785
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ الْعِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی آنکھوں والے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: العين، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إبراهيم النخعي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24786
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے پھر باہر نکلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24787
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَهْدَى إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24788
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، قَالَ : " وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ ، مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص برداشت کرکے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 24789
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ ، فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1134، م: 741
حدیث نمبر: 24790
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هُرَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن فوت ہوئے تھے بدھ کی رات تدفین عمل میں آئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24791
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 24792
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " فَعَلْنَاهُ مَرَّةً فَاغْتَسَلْنَا " . فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایسا کیا تو غسل کیا تھا، مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو (تو غسل کرے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا ، أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ ، فَلَا ، وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ ، أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ ، فَلَا ، وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ ، وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ : وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ ، وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ ، وُكِّلْتُ بِثَلاَثَةٍ : وُكِّلْتُ بِمَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ، وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ، وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ " . قَالَ : " فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ ، وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ : رَبِّ سَلِّمْ ، رَبِّ سَلِّمْ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ ، وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن کوئی دوست اپنے دوست کو یاد رکھے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! تین جگہوں پر تو بالکل نہیں، ایک تو میزان عمل کے پاس، جب تک کہ اس کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری یا ہلکا نہ ہوجائے دوسرے اس وقت جب ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا کہ وہ دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرے اس وقت جب جہنم سے ایک گردن باہر نکلے گی، وہ غیظ و غضب سے ان پر الٹ پڑے گی اور تین مرتبہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتا رہا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مجھے ہر ظالم سرکش پر مسلط کیا گیا ہے، پھر وہ انہیں لپیٹے گی اور جہنم کی تاریکیوں میں پھینک دے گی۔ اور جہنم پر ایک پل ہوگا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کانٹے اور آنکڑے ہوں گے جو ہر اس شخص کو پکڑ لیں گے جسے اللہ چاہے گا، پھر کچھ لوگ اس پر پلک جھپکنے کی مقدار میں، کچھ بجلی کی طرح، کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور کچھ دوسرے سواروں کی طرح سے گذر جائیں گے اور فرشتے یہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار ! بچانا، بچانا، اسی طرح کچھ لوگ صحیح سلامت بچ جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ جائیں گے اور کچھ چہروں کے بل جہنم میں گرپڑیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 24794
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " . قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ : قَالَ أَبِي : وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك، م: 298
حدیث نمبر: 24795
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ " أَوَّلُ مَا يَبْدَأُ بِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ السِّوَاكَ ، وَآخِرُهُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
حدیث نمبر: 24796
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، وَحَجَّاجٌ الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَالَتْ : ائْتِ عَلِيًّا فَاسْأَلْهُ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا إِذَا سَافَرْنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا " . قَالَ أَسْوَدُ فِي حَدِيثِهِ : وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ : كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مَسَحْنَا عَلَى خِفَافِنَا.
مولانا ظفر اقبال
شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا موزوں پر مسح کرنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ہم سفر پر ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24797
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَجْمَرْتُ رَأْسِي إِجْمَارًا شَدِيدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن عائشة، ولضعف شريك
حدیث نمبر: 24798
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَدْنَاهُ وَقَرَّبَ مَجْلِسَهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَكُ تَشْكُو هَذَا الرَّجُلَ ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنْ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ شَرِّ النَّاسِ ، الَّذِينَ إِنَّمَا يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ شَرِّهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب جگہ عطاء فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس طرح فرمایا : پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لئے چھوڑ دیا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك ابن عبدالله ضعيف، ولكن توبع
حدیث نمبر: 24799
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُجْنِبُ ، ثُمَّ يَنَامُ ، ثُمَّ يَنْتَبِهُ ، ثُمَّ يَنَامُ ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے، پھر بیدار ہوتے اور دوبارہ یونہی سوجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير شريك، فهو ضعيف، راجع 24778
حدیث نمبر: 24800
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4 . قَالَ : قُلْتُ : حَدِّثِينِي عَنْ ذَاكَ ، قَالَتْ : صَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا ، وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا ، فَقُلْتُ : لِجَارِيَتِي اذْهَبِي ، فَإِنْ جَاءَتْ هِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَتْهُ قَبْلُ فَاطْرَحِي الطَّعَامَ ، قَالَتْ : فَجَاءَتْ بِالطَّعَامِ ، قَالَتْ : فَأَلْقَتْهُ الْجَارِيَةُ ، فَوَقَعَتْ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ ، وَكَانَ نِطْعًا , قَالَتْ : فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " اقْتَصُّوا أَوْ اقْتَصِّي شَكَّ أَسْوَدُ ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكِ " ، فَمَا قَالَ شَيْءٌ.
مولانا ظفر اقبال
بنو سواء کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی واقعہ سنایئے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا، ادھر حضرت حفصہ نے بھی کھانا پکا لیا، میں نے اپنی باندی کو سمجھا دیا کہ جا کر دیکھ اگر حفصہ کھانا لے آئیں اور پہلے رکھ دیں تو تم وہ کھانا گرا دینا، چنانچہ حضرت حفصہ کھانا پہلے لے آئیں، باندی نے اسے گرادیا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، نیچے دستر خوان بچھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جمع کرنے لگے اور فرمایا کہ اس برتن کے بدلے میں دوسرا برتن قصاص کے طور پر وصول کرلو، لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 24801
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِرَاشِهِ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ بَعْضَ نِسَائِهِ ، فَتَبِعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْمَقَابِرِ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ " . قَالَتْ : فَالْتَفَتَ فَرَآنِي ، فَقَالَ : " وَيْحَهَا لَوْ تَسْتَطِيعُ مَا فَعَلَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرمایا اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑگئی اور فرمایا افسوس ! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24802
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، شَكَّ شَرِيكٌ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ یا ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر سجدہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 24803
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِي عَرُوسٌ مَرِضَتْ ، فَتَمَرَّقَ شَعَرُهَا ، أَفَأَصِلُ فِيهِ ؟ فَقَالَتْ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " , أَوْ قَالَتْ : الْوَاصِلَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24804
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْت أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ لِي ابْنَةً عَرُوسًا ، وَإِنَّهَا مَرِضَتْ ، فَتَمَرَّقَ شَعَرُهَا ، أَفَأَصِلُهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24805
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زُوِّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ ، فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ ، " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5934، م: 2123
حدیث نمبر: 24806
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24807
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ؟ قَالَ : " إِنَّ حَيْضَكِ لَيْسَ بِيَدِكِ " . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 24808
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ ، إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي ، فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمًَا صَعْبًا ، لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، ارْفُقِي بِهِ ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2594
حدیث نمبر: 24809
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى قَائِمًا ، رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا ، رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24810
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ ؟ فَقَالَتْ : لَا تَفْعَلْ ، أَلَمْ تَقْرَأْ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 قَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوُلِدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین ! میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے " تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے یہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24811
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ ، وَلَا رَهْوُ بِئْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24812
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَتْهُ إِيَّاهُ ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً ، فَقَالَ لَهَا : " اقْطَعِيهِ وِسَادَتَيْنِ " . قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَكُنْتُ أَتَوَسَّدُهُمَا ، وَيَتَوَسَّدُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک چادر خریدی جس پر کچھ تصویریں بنی ہوئی تھیں، ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس سے چھپر کھٹ بنائیں گی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہیں دکھایا اور اپنا ارادہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کاٹ کردو تکیے بنا لو، میں نے ایسا ہی کیا اور میں بھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے ٹیک لگالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أبى أويس
حدیث نمبر: 24813
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ ، قَالَ : وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي بِهَا ، قَالَ : فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَأَسَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءَ ، فَقَالَتْ : عَائِشَةُ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن ! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول، ولكن تابعه يحيي بن أبى كثير
حدیث نمبر: 24814
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، عَنْ حَبَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24815
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " . فَقَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6253، م: 2447
حدیث نمبر: 24816
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهِ بِلَالٌ ، فَيُؤْذِنُهُ لِلصَّلَاةِ وَهُوَ جُنُبٌ ، " فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ، وَأَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ ، وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹپک رہا ہے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 24817
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد
حدیث نمبر: 24818
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ ، فَإِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعِبَ وَاشْتَدَّ ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ ، رَبَضَ ، فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر ہوتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لارہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات إلا أن مجاهد لم يصرح بما يفيد سماعه هذا الحديث من عائشة