حدیث نمبر: 24739
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الرِّجَالِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير عبدالرحمن بن أبى الرجال، وهو صدوق
حدیث نمبر: 24740
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أبي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ كَأَنَّ لَيْسَ فِيهِ طَعَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ گھر جس میں کھجور نہ ہو، ایسے ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24741
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَقْعِ الْبِئْرِ ، وَهُوَ الرَّهْوُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جگہ سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے، جہاں لوگوں کا گندہ پانی اکٹھا ہوجاتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24742
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي ، ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمَرَةَ أَرْضِهِ ، فَأَتَيْنَاهُ نَسْتَوْضِعُهُ ، وَاللَّهِ مَا أَصَبْنَا مِنْ ثَمَرِهِ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا أَكَلْنَا فِي بُطُونِنَا ، أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا ، تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا ، تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا ! " فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ شِئْتَ الثَّمَرَ كُلَّهُ ، وَإِنْ شِئْتَ مَا وَضَعُوا ، فَوَضَعَ عَنْهُمْ مَا وَضَعُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ، آپ پر قربان ہوں، میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں آدمی سے اس کی زمین کے پھل خریدے، ہم نے اس فصل کو کاٹا اور پھلوں کو الگ کیا تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو معزز کیا، ہمیں اس میں سے صرف اتنا ہی حاصل ہوسکا جو ہم خود اپنے پیٹ میں کھا سکے یا برکت کی امید سے کسی مسکین کو کھلا دیں، اس طرح ہمیں نقصان ہوگیا، ہم مالک کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمارے اس نقصان کی تلافی کر دے تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ وہ ہمارے نقصان کی کوئی تلافی نہیں کرے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کیا اس نے نیکی نہ کرنے کی قسم کھالی ؟ اس آدمی کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اگر آپ چاہیں تو میں ان کے نقصان کی تلافی کردوں (اور مزید پھل دے دوں) اور اگر آپ چاہیں تو میں انہیں پیسے دے دیتا ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر اس نے ان کے نقصان کی تلافی کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24743
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنَ الشَّهْرِ ، جَاءَ لِيَدْخُلَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلَمْ تَحْلِفْ شَهْرًا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی ؟ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24744
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ ، حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، وَتَأْمَنَ مِنَ الْعَاهَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو اس وقت تک بیچنے کی ممانعت فرمائی ہے، جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوظ نہ ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24745
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو قُدَامَةَ الْعُمَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ عَائِشَةَ تُصَلِّي الضُّحَى ، وَتَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ام ذرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ فرماتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف چار رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف لجهالة عثمان بن عبدالملك
حدیث نمبر: 24746
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران نماز دائیں بائیں دیکھنے کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اچک لینے والا حملہ ہوتا ہے جو شیطان انسان کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 751
حدیث نمبر: 24747
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، قَالَتْ : أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا ، فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، قَالَتْ : إِنَّهَا حَائِضٌ ؟ قَالَ : " إِنَّ حَيْضَهَا لَيْسَ فِي يَدِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے " ایام " اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 298
حدیث نمبر: 24748
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَحَرَّى صَوْمَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے روزے کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن خالد بن معدان لم يلق عائشة
حدیث نمبر: 24749
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ كَمَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ : " يَخْصِفُ نَعْلَهُ ، وَيُرَقِّعُ ثَوْبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24750
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ سَالِمٌ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا يَرْمِي الْجَمْرَةَ ، قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ إِلَى الْبَيْتِ " ، قَالَ سَالِمٌ : فَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ نَأْخُذَ بِهَا مِنْ قَوْلِ عُمَرَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، سالم کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے قول کو لینے سے سنت رسول پر عمل کرنے کا حق زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مؤمل ضعيف ولكن روايته عن سفيان صحيحة، ثم هو متابع
حدیث نمبر: 24751
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، قَالَ : " ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ ، فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ ، وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ " . ثُمَّ قَالَ : " يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ " مَرَّتَيْنِ ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً : " وَالْمُؤْمِنُونَ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً : وَالْمُؤْمِنُونَ . إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي ، فَكَانَ أَبِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو فرمایا ابوبکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ وہ ایک تحریر لکھ دے اور ابوبکر کے معاملے میں کوئی طمع رکھنے والا طمع نہ کرسکے اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا نہ کرسکے، پھر فرمایا اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کردیں گے کہ ابوبکر کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مؤمل
حدیث نمبر: 24752
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ خَالِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا ، لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ ، كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مریو ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے اپنے آپ کو پیش آنے والے وساوس کی شکایت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں ایسے وسو سے آتے ہیں کہ ہمیں وہ زبان پرندے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ ہم آسمان سے نیچے گرپڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل و شهر بن حوشب ، ولابهام خاله
حدیث نمبر: 24753
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ ، فَتَرَكَتْهُ ، فَدَخَلَتْ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ ؟ فَقَالَتْ : مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ ، قُلْتُ : لَهَا مَا لَكِ ؟ قَالَتْ : عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ , فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا " ..
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے شوہر موجود ہیں یا کہیں گئے ہوئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ہونا بھی نہ ہونے کی طرح ہے، میں نے کہا کیا مطلب ؟ انہوں نے کہا کہ عثمان دنیا اور عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے، تھوڑی دیر بعد بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ پات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان ! کیا تم ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہو جن پر ہم ایمان لائے ؟ انہوں نے عرض کیا جی یارسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ہمارے اسوہ پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل مؤمل
حدیث نمبر: 24754
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ فِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعُثْمَانَ : " أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ ".
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24755
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَذَكَرَ رَجُلًا آخَرَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصِيبُ مِنْ أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، عَادَ إِلَى أَهْلِهِ وَاغْتَسَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے تھے، پھر جب سونے کے بعد رات کے آخری پہر میں بیدار ہوتے تو دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس جاتے اور پھر غسل فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24756
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي . قَالَ : " فَتَكَنَّيْ بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مؤمل متابع
حدیث نمبر: 24757
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، وَمَا اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
حدیث نمبر: 24758
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ ، إِنَّمَا ، مَرّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا ، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج کا انتقال ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، میں عمرہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، البتہ وہ بھول گئے ہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گذرے تھے جس پر لوگ رو رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہورہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1289، م: 932
حدیث نمبر: 24759
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَآخِرِهِ ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے شروع، درمیان اور آخر ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 996، م: 745
حدیث نمبر: 24760
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24761
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1189
حدیث نمبر: 24762
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ ، فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَمَاتَ ، فَدَخَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، چنانچہ مرنے سے کچھ پہلے وہ جہنمیوں والے اعمال کرنے لگتا ہے اور اسی حال میں مر کر جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے لہٰذا مرنے سے کچھ پہلے وہ اہل جنت والے اعمال کرنے لگتا ہے اور اس حال میں مر کر جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24763
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ , عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24764
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ ، وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يَفْرِجُونَ عَنْهُ ، حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ ، فَرَهِقُوهُ ، فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ ، فَدَخَلَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، لَقَدْ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عرب کے دیہاتی لوگ بڑی کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا، مہاجرین کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ بنانے لگے اور اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے گھر کی چوکھٹ تک پہنچ پائے، وہ دیہاتی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان کے حوالے کی اور خود تیزی سے چوکھٹ کی طرف بڑھے اور گھر میں داخل ہوگئے اور فرمایا ان پر اللہ کی لعنت ہو، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ لوگ تو ہلاک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر ! ہرگز نہیں، میں نے اپنے رب سے یہ شرط ٹھہرا رکھی ہے " جس کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی " کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور ان چیزوں سے تنگ ہوتا ہوں جن سے عام لوگ تنگ ہوتے ہیں، اب اگر کسی مسلمان کے لئے میرے منہ سے کوئی جملہ نکل جائے تو اسے اس شخص کے حق میں کفارہ بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: إنما أنا بشر أضيق...، صحيح، وهذا إسناد فيه ابن أبى الزناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 24765
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا ، امْرَأَةً امْرَأَةً ، فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ ، حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا ، فَيَبِيتَ عِنْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک ایک زوجہ کے پاس نہ جاتے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور مباشرت کے سوا ہمارے جسم کو چھو لیتے تھے، یہاں تک کہ اس زوجہ کے پاس پہنچ جاتے جس کی اس دن باری ہوتی اور اس کے یہاں رات گذارتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد ابن أبى الزناد
حدیث نمبر: 24766
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، لَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24767
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن أبى الزناد فيه ضعف، ولكن توبع
حدیث نمبر: 24768
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ ، وَدُونَ الْجُمَّةِ ، وَايْمُ اللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنْ كَانَ لَيَمُرُّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ ، مَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللُّحَيْمُ ، وَمَا هُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ ، إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَهْلَ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ ، فَكُلُّ يَوْمٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ ، يَعْنِي : فَيَنَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ ، وَلَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا قَرِيبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِيرٍ ، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ لَا يَفْنَى ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ ، فَلَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ كِلْتُهُ ، وَايْمُ اللَّهِ لَأَنْ كَانَ ضِجَاعُهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ . وقَالَ الْهَاشِمِيُّ : بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا ضِجَاعُهُ.
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے، واللہ اے بھانجے ! آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں، یعنی پانی اور کھجور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو الماری میں اتنا بھی کھانا نہ تھا جسے کوئی جگر رکھنے والا کھا سکے، صرف تھوڑے سے جو کے دانے تھے، لیکن میں انہیں ایک طویل عرصے تک کھاتی رہی تاہم وہ ختم نہ ہوئے، ایک دن میں نے انہیں ناپ لیا اور وہ ختم ہوگئے، کاش ! میں نے انہیں ماپا نہ ہوتا اور واللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 24769
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نُوقِشَ الُْحِساَبَ ، لَمْ يُغْفَرْ لَهُ " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ قَوْلُهُ : يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ؟ قَالَ : " ذَاكَ الْعَرْضُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدالله ابن أبى زياد، خ: 6536، م: 2876
حدیث نمبر: 24770
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : مُوسَى : عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامٍ . قَالَ : سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24771
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِحَاجَتِهِ ، فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھروں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن قرط
حدیث نمبر: 24772
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
حدیث نمبر: 24773
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : أَنَّ عَائِشَةَ تَصَدَّقَتْ بِشَيْءٍ ، فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا ، فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے بریرہ سے کہا تو وہ کچھ لے کر آئی، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24774
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ ، فَقُلْتُ : أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، أَنْتَ الطَّبِيبُ وَأَنْتَ الشَّافِي . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24775
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ أَوْ وَجِعَ ، فَلَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ صَلَّى بِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 24776
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا ، قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي ، وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5675، م: 2191
حدیث نمبر: 24777
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا مَرِضَ أَوْ نَامَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " . قَالَتْ : " وَمَا رَأَيْتُهُ قَامَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ ، وَلَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ " ، وَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْمَلُ عَمَلًا يُثْبِتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مری ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نین کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 24778
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَاهُمْ ، ثُمَّ يَعُودُ ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس آجاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير شريك، وهو سيئ الحفظ، ولكن تابعه سفيان كما فيي الرواية: 24755