حدیث نمبر: 24699
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا ، ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور افطار کرنے تک جب چاہتے مجھے بو سہ دے دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24700
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَوَضَّأُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَيَتَتَبَّعُ أُصُولَ شَعَرِهِ ، فَإِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ كُلَّهَا ، أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ " ، وقَالَ عُرْوَةُ : غَيْرَ أَنَّهُ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَهُ ، ثُمَّ فَرْجَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے اور جب یقین ہوجاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 316
حدیث نمبر: 24701
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيَبِيتُ جُنُبًا ، فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ ، وَشَعَرِهِ ، فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا " قَالَ مُطَرِّفٌ : قُلْتُ لِعَامِرٍ : فِي رَمَضَانَ ؟ قَالَ : سَوَاءٌ عَلَيْكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر جنبی ہوتے، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹک رہا ہے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24702
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَةٍ أَصَابَتْ ثَوْبِي ، فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ قُلْتُ : جَنَابَةٌ أَصَابَتْ ثَوْبِي ، فَقَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّهُ يُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِهِ هَكَذَا : وَوَصَفَهُ مَهْدِيٌّ : حَكَّ يَدَهُ عَلَى الْأُخْرَى.
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ نے مجھے جنابت کے نشانات دھوتے ہوئے دیکھا جو میرے کپڑوں پر لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے کپڑوں پر جنابت کے نشان لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر یہ نشان لگ جاتے تو وہ اس طرح کردیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں، راوی نے رگڑتے ہوئے دکھا یا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24703
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، وَرَوْحٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ " قَالَ عَفَّانُ : " وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " . وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : " وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ " ، وَقَالَ رَوْحٌ : " وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حو اس میں آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 24704
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ ، فَقَالَ : " لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ " ، فَقَالَتْ النِّسَاءُ : ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ ، فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس میں مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابوقحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24705
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، كَانَ جُنُبًا فَاغْتَسَلَ ، وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24706
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ، قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ ، قَالَتْ : وَثَبَ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ : قَامَ ، فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ : اغْتَسَلَ ، وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِيدُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا ، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 24707
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ حَتَّى بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟ قَالَتْ : " لَا ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا ، ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، زهير سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه، ولكن توبع
حدیث نمبر: 24708
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، وَكَانَ لِي أَخًا أَوْ صَدِيقًا ، فقلت أبا عمرو ، حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَالَتْ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ، فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ، ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ وَثَبَ ، وَمَا قَالَتْ : قَامَ ، فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، وَمَا قَالَتْ : اغْتَسَلَ ، وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا ، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: قبل أن يمس ماء، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 24709
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ : حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ . قَالَ : قُلْتُ : لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ ، أَوْ قَالَ : " بِكُفْرٍ " ، قَالَ : يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ : " لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ، فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ ، بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ ، وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ " قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سناؤ، جو ام المومنین حضرت عائشہ نے صرف تم سے ہی بیان کی ہو کیونکہ وہ بہت سی چیزیں صرف تم سے بیان کرتی تھیں اور عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی جس کا پہلا حصہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں تک پہنچ کر اسود رک گئے) آگے حضرت ابن زبیر نے اسے مکمل کردیا کہ میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1584، م: 1333
حدیث نمبر: 24710
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے، یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 24711
حَدَّثَنَا بِهِ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : وَمَا يَدَعُ حَاجَةً إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ ، حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 24712
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ، مِنْ خَالٍ ، أَوْ عَمٍّ ، أَوْ ابْنِ أَخٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں مثلاً ماموں، چچا، بھتیجا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، إن ثبت سماع محمد بن عبدالرحمن من عائشة
حدیث نمبر: 24713
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں عورت فوت ہوگئی اور اسے راحت نصیب ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی سے فرمایا اصل راحت تو اسے ملتی ہے جس کی بخشش ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، قد تفرد برفعه ، ومرسله هو الصحيح
حدیث نمبر: 24714
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ ، غَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ يَأْكُلُ ، أَوْ يَشْرَبُ ، إِنْ شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھوکر کھاتے پیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، ولكن توبع، أنظر: 24872
حدیث نمبر: 24715
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً ، وَكَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَائِمًا ، فَلَمَّا كَبُرَ وَثَقُلَ ، كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا ، وَكَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ ، حَتَّى يُرِيدَ أَنْ يُوتِرَ ، فَيَغْمِزُنِي ، فَأَقُومُ ، فَيُوتِرُ ثُمَّ يَضْطَجِعُ ، حَتَّى يَسْمَعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ يُلْصِقُ جَنْبَهُ بِالْأَرْضَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور اکثر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں اسی بستر پر ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرماتے تھے اور جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں بھی کھڑی ہو کر وتر پڑھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جا تے، جب اذان کی آواز سن لیتے تو اٹھ کردو رکعتیں ہلکی سی پڑھتے پھر اپنے پہلو کو زمین پر لگا دیتے اور اس کے بعد نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن الهيعة
حدیث نمبر: 24716
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ ، يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ ، وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَيَوْمَئِذٍ لا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلا جَانٌّ سورة الرحمن آية 39 يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ سورة الرحمن آية 41 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن کسی شخص کا حساب نہیں کیا جائے گا کہ اسے بخش دیا جائے، مسلمان تو اپنے اعمال کا انجام اپنی قبر میں ہی دیکھ لیتا ہے، ارشاد ربانی ہے " اس دن کسی کے گناہ سے متعلق کسی انسان یا جن سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی "۔۔۔۔ اور " مجرم اپنی علامات سے پہچان لئے جائیں گے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 24717
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبن لهيعة توبع
حدیث نمبر: 24718
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ، " فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ ، نَظَرَ إِلَيْهِ ، فَهَتَكَهُ " , قَالَتْ : فَأَخَذْتُهُ ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ ، " فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کردیئے، جس کے میں نے دو تکیے بنا لئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة ، ولانقطاعه بين بكير والقاسم، خ: 2479، م: 2107
حدیث نمبر: 24719
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَكُنْتِ تَغْتَسِلِينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 250، م: 321
حدیث نمبر: 24720
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ ، فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي ، إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ ، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ ، يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ ، فَقَالَ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ " فَقُلْتُ : بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ ، فَقَرَأَ : الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ حَتَّى بَلَغَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ سورة النور آية 4 - 26 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی تو میں اس سے ناواقف تھی، کچھ عرصے بعد مجھے اس کے متعلق پتہ چلا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی، نزولِ وحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی، بہرکیف ! نزول وحی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا یا اور پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے اور فرمایا عائشہ ! خوشخبری قبول کرو، میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت الَذِینَ یَرمُونَ المُحصَنَاتِ حَتی بَلَغَ مُبرَوُونَ مِمَا بَقُولوُ نَ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون ذكر الآيات، وهذا إسناد ضعيف لأجل عمر بن أبى سلمة، فقد جاء فى الرواية الصحيحة: 25623، فأنزل الله عزو جل: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ..﴾
حدیث نمبر: 24721
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا أُنْزِلَ الْخِيَارُ ، قَالَ لِي : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا لَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " ، قُلْتُ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : فَقَرَأَ آيَةَ الْخِيَارِ ، فَقُلْتُ : بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَرِحَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24722
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمر بن أبى سلمة فهو ضعيف
حدیث نمبر: 24723
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَ : أَبُو سَعِيدٍ : إِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، فَأُبَادِرُهُ وَأَقُولُ دَعْ لِي ، دَعْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 24724
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَالْخُزَاعِيُّ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ ، قَالَ الْخُزَاعِيُّ : عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ ، وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ الْمِسْوَرُ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا , فَقَالَتْ : مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا ؟ فَقُلْتُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ " سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ.
مولانا ظفر اقبال
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف
حدیث نمبر: 24725
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینا ریا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔ ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين أبى بكر بن حزم وعائشة
حدیث نمبر: 24726
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّه ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24727
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مُهِلًّا بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24728
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ الْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : " فَلَمَّا اشْتَكَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ ، وَأَمْسَحُهُ بِكَفِّهِ رَجَاءَ بَرَكَةِ يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 24729
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْرَدَ الْحَجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24730
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24731
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو محض انسانی ضرورت کی وجہ سے ہی گھر میں داخل ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 24732
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ ؟ قَالَتْ : " كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِ رَمَضَانَ وَاحِدَةً ، كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَقَلْبِي لَا يَنَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3569، م: 738
حدیث نمبر: 24733
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ ، قَالَتْ : وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ ، قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ ، قَالَتْ : فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا ، قَالَتْ : فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ ، قَالَتْ : ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا ؟ فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ السِّتَّةُ ؟ قَالَ : أَوْ السَّبْعَةُ ؟ " قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ ، قَالَتْ : فَدَعَا بِهَا ، ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ ، فَقَالَ : " مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ایک دن میں اور عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کاش ! تم دونوں نے اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوتا جس دن وہ بیمار ہوئے تھے، میرے پاس اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ یا سات دینار پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں تقسیم کردوں، لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے فرصت نہ مل سکی، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تندرست ہوگئے اور مجھ سے ان کے متعلق پوچھا کہ ان چھ (یاسات) دیناروں کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کیا واللہ اب تک نہیں ہوسکا، آپ کی بیماری نے مجھے مصروف کردیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگوایا اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمانے لگے اللہ کے نبی کا کیا گمان ہوگا، اگر وہ اللہ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، تفرد به موسي بن جبير
حدیث نمبر: 24734
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي ، فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا ، دَلَّهُمْ عَلَى بَابِ الرِّفْقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ ! نرمی سے کام لیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی رہنمائی کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24735
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفْسِ ، شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی عجوہ کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں ہر سحر یا زہر سے شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24736
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ ؟ قَالَ : " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله:لا تطعموهم مما لا تأكلون، وهذا إسناد اختلف فيه على حماد، وذكر الأسود بين إبراهيم وعائشة غير صحيح
حدیث نمبر: 24737
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْعَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءٌ ، أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ ، أَوَّلَ الْبُكْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی عجوہ کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھانے میں شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24738
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ , يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ ، إِذْ ضَحِكَ فِي مَنَامِهِ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ : " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ هَذَا الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَيْدَاءَ خُسِفَ بِهِمْ ، مَصَادِرُهُمْ شَتَّى يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " . قُلْتُ : وَكَيْفَ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ قَالَ : " جَمَعَهُمْ الطَّرِيقُ ، مِنْهُمْ الْمُسْتَبْصِرُ ، وَابْنُ السَّبِيلِ ، وَالْمَجْبُورُ ، يَهْلِكُونَ مَهْلِكًا وَاحِدًا ، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، سوتے سوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا یارسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ پر حملے کا ارادہ کریں گے، اس ایک آدمی کی وجہ سے جو حرم شریف میں پناہ گزین ہوگا، جب وہ مقام بیداء تک پہنچیں گے تو سب کے سب زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے اور ان سب کے اٹھنے کی جگہ مختلف ہوگی کیونکہ اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا، میں نے عرض کیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ ان سب کے اٹھنے کی جگہیں مختلف ہوں گی اور اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل اس لشکر میں کئی لوگ صرف دیکھنے کے لئے کئی مسافر اور کئی زبردستی شامل کئے گئے ہوں گے، یہ سب ایک ہی جگہ پر ہلاک ہوجائیں گے لیکن اپنی نیتوں کے اعتبار سے مختلف جگہوں سے اٹھائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2118