حدیث نمبر: 24659
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ النَّخَعِيِّ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ ، فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكَ ، فَارْشُشْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اس لئے جب تم اسے دیکھا کرو تو کپڑے کو دھو لیا کرو، ورنہ پانی چھڑک دیا کرو۔
حدیث نمبر: 24660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَقْضِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ ؟ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ " لَقَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَقْضِي شَيْئًا مِنَ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 24661
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحَيَّةُ ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْحِدَأَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا، کتا اور کوا۔
حدیث نمبر: 24662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ : " كَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔
حدیث نمبر: 24663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِنْسَانٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً ، لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا ، نَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبر کو ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس عمل سے بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے۔
حدیث نمبر: 24664
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَهُوَ يُصَلِّي " قَالَ سَعْدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَهِيَ حَائِضٌ . قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : سَعْدٌ الَّذِي يَشُكُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 24665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی مسلسل دو دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 24666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بھی ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ إِمْلَاءً ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَهَذَا الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ ، لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کرکے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حدیث نمبر: 24668
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَأَيُّكُمْ أَمْلَكُ لِإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24669
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا ، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24670
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّأَ وَأَمَرَ ، فَنُودِيَ : إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ ، قَالَتْ : فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ ، وَلَمْ يَسْجُدْ ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ، ثُمَّ جَلَسَ ، وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو رباسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا حکم دیا، نماز کا اعلان کردیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالباً اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دو بارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔
حدیث نمبر: 24671
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 24672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ حِينَ أَحْرَمَ ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ بِمِنًى ، قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حدیث نمبر: 24673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى ، وَأُوَافِي قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ النَّاسُ ، فَقَالُوا لِعَائِشَةَ : وَاسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ؟ قَالَتْ : إِنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً ، " فَأَذِنَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کہ کاش ! میں بھی حضرت سودہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کرلیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
حدیث نمبر: 24674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ بِمِنًى ، وَقَدْ أَفَاضَتْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أُرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا ؟ قَالَ : " لِمَ ؟ " قُلْتُ : حَاضَتْ ، قَالَ : " أَوَلَمْ تَكُنْ قَدْ أَفَاضَتْ ؟ " قُلْتُ : قَالَ : أَظُنُّهُ قَالَتْ : بَلَى ، شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ ، فَارْتَحِلِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طواف زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طواف زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
حدیث نمبر: 24675
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ هَذِهِ الْمُرَحَّلَاتِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ ، وَعَلَيَّ بَعْضُهُ ، وَالْمِرْطُ مِنْ أَكْسِيَةٍ سُودٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کو نا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
حدیث نمبر: 24676
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمَيْنَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ فَقَالَتْ : تَعْجِزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ مِنْ أُضْحِيَّتِهَا سِقَاءً ! ثُمّ قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " ، وَكَذَا وَكَذَا نَسِيَهُ سُلَيْمَانُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے مٹ کی کی نبیذ کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم عورتیں اس بات سے بھی عاجز ہو کہ اپنی قربانی کے جانور کی کھال کا کوئی مشکیزہ ہی بنالو، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور فلاں فلاں چیز سے منع فرمایا ہے۔ " فلاں فلاں چیز " کی وضاحت سلیمان بھول گئے۔
حدیث نمبر: 24677
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ أَكْمَلَ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کامل ترین ایمان والا وہ آدمی ہوتا ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہوں اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہو۔
حدیث نمبر: 24678
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى دَوْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن ! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حدیث نمبر: 24679
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ ، فَقِيلَ لَهَا : مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ ؟ فَقَالَتْ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ " فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ.
مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حدیث نمبر: 24680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا تَصَدَّقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا ، كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ ، وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا ، لِلزَّوْجِ بِمَا اكْتَسَبَ ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔
حدیث نمبر: 24681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ ، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " ، فَأَخْبَرْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بِقَوْلِهَا ، فَقَالَ لِي : أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ . فَقُلْتُ : إِنَّهُ لِي صَدِيقٌ ، فَأُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنِي ، فَقَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ إِلَيْهِ . فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا ، فَقَالَ عَائِشَةُ : إِذَنْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے، میں نے مروان بن حکم کو یہ حدیث سنائی تو اس نے مجھ سے کہا کہ حضرت عائشہ کی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کر آؤ، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے دوست ہیں، آپ مجھے اس سے معاف ہی رکھیں تو بہتر ہے، اس نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ان کے پاس ضرور جاؤ، چنانچہ میں اور مروان حضرات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوگئے اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق زیادہ جانتی ہیں۔
حدیث نمبر: 24682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ ، أَوْ أَضْحًى ، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا ، وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو ، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
حدیث نمبر: 24683
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَتَجِيءُ عَائِشَةُ ، فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ ، فَتُرَجِّلُهُ وَهِيَ حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 24684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَخْبِرِينِي بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ ، وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میں نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
حدیث نمبر: 24685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 24686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَمْرَةُ أَعْطِنِي قِطْعَةً مِنْ أَرْضِكَ أُدْفَنْ فِيهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ " . قَالَ مُحَمَّدٌ : وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، يُحَدِّثُهُ عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی تو ڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
حدیث نمبر: 24687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، أَقُولُ : يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔
حدیث نمبر: 24688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا ، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ ، أَوْ خَشَعَ ، قَائِمًا ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَزْيَدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 24690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَبَّتْ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حدیث نمبر: 24691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَقَرَّ وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔
حدیث نمبر: 24692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " ہیں نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے، ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 24693
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 24694
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : " وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حواس میں آجائے۔
حدیث نمبر: 24695
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ ثَابِتٍ ، قالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، قَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ؟ قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24696
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : قَالَ الْحَسَنُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا فِي مَوَاطِنَ ثَلَاثَةٍ فَلَا : الْكِتَابُ ، وَالْمِيزَانُ ، وَالصِّرَاطُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین جگہوں پر نہیں، حساب کتاب کے موقع پر، میزان عمل کے پاس اور پل صراط پر۔
حدیث نمبر: 24697
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : قَالَ الْحَسَنُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48 أَيْنَ النَّاسُ ؟ قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ ، النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تُبدَ لُ الارضُ غَیرَ الاَرضِ ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر اور یہ ایسا سوال ہے جو تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔
حدیث نمبر: 24698
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا " قَالَ بِشْرٌ : هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے " شعار " میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے، بشر کہتے ہیں کہ " شعار " سے مراد وہ کپڑا ہے جو جسم پر اوپر والے کپڑے کے نیچے پہنا جاتا ہے۔
…