حدیث نمبر: 24619
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ، وَقَالَ : " هَذَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجور سے گھٹی دی اور فرمایا یہ عبداللہ ہے تم ام عبداللہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
حدیث نمبر: 24620
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ، ثُمّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَتَيْهَا . ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ ، فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا ، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دُونَكِ فَانْتَصِرِي " . فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا ، مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب میرے گھر میں غصے کی حالت میں اجازت لئے بغیر آگئیں اور مجھے پتہ بھی نہ چلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے جب ابوبکر کی بیٹی اپنی قمیض پلٹتی ہے (تو آپ کو مسحور کرلیتی ہے) پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئیں لیکن میں نے ان سے اعراض کیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا بدلہ لے سکتی ہو، چنانچہ میں ان کی طرف متوجہ ہوئی اور پھر میں نے دیکھا کہ ان کے منہ میں ان کا تھوک خشک ہوگیا ہے اور وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے پا رہیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر خوشی کے آثار دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24621
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، يَا عَائِشَةُ ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار ! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 214
حدیث نمبر: 24622
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَتْ : أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا : " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَرَفَقَ بِهِمْ ، فَارْفُقْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی گھر میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی کہ اے اللہ ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 24623
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا ، فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ ، وَقَالَتْ : مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ " عَائِشَةُ تَقُولُهُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے اور یہ بواسیر کے مرض کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: وهو شفاء من
حدیث نمبر: 24624
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، بقية توبع
حدیث نمبر: 24625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں دفن دیا گیا تھا ؟ انہوں نے بتایا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا " ، قَالَتْ : أَتَدْرِي مَا النَّشُّ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَتْ : نِصْفُ أُوقِيَّةٍ ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِئَةِ دِرْهَمٍ ، " فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو کتنا کتنا مہر دیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج (میں سے ہر ایک) کو بارہ اوقیہ اور ایک نش دیا تھا، تم جانتے ہو کہ " نش " کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا نصف اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہ ہے وہ مہر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24627
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ , عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ " . قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ أَشْعَثُ الْكُوفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 24628
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " الدَّائِمُ " . قُلْتُ : فَأَيُّ سَاعَةٍ كَانَ يَقُومُ ؟ قَالَتْ : " إِذَا سَمِعَ الصَّرْخَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1134، م: 741
حدیث نمبر: 24629
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبیلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 24630
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 24631
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا ، فَأَمْسَكْتُ ، وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَتْ : أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ ، قَالَتْ : تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ : هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ . قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا " . قَالَ حُمَيْدٌ : فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، فَقَالَ : لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایا بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہوا اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن محرز کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے دو مہینوں کا ذکر کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن حميد الم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24632
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ . قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور محسوس ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5102، م: 1455
حدیث نمبر: 24633
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ : إِحْدَانَا تَحِيضُ ، أَتُجْزِئُ صَلَاتَهَا ؟ فَقَالَتْ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ " قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا نَفْعَلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 321، م: 335
حدیث نمبر: 24634
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْمَاهِرَ بِهِ ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ تَشْتَدُّ عَلَيْهِ قِرَاءَتُهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4937 ، م: 798
حدیث نمبر: 24635
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً ، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ ، فَأَذِنَ لَهَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ ، فَأَذِنَ لِي ، وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 24636
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنَ اللَّيْلِ ، غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ النَّهَارِ . قَالَتْ : وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا حَتَّى الصَّبَاحِ ، وَلَمْ يَقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ يُتِمُّهُ ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا اے ام المومنین ! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوڑ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 24637
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ أَخْطَأَ سَمْعُهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ رَجُلًا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِعَمَلِهِ ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ " ، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ مَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے ! حضرت ابن عمر سے سننے میں چوک ہوگئی ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر پر گذر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے اس کے اعمال کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں ورنہ واللہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24638
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَتْ : " أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چار رکعتیں اور اللہ کو جتنی رکعتیں منظور ہوتیں، اس پر اضافہ بھی فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 24639
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24640
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ : يَا عَائِشَةُ ، أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِ يَوْمِي ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ ، فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ " . قَالَتْ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ ، " فَرَضِيَ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ نے ان سے کہا کہ عائشہ ! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہوں، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا گیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! پیچھے ہٹو، آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرما دے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ سے راضی ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لأن سمية مجهولة
حدیث نمبر: 24641
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرَهَا ، فَقَالَتْ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا ؟ فَقَالَ : أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ ، فَقَالَتْ : مَا كُنْتَ تَفْعَلُ ؟ قَالَ : جِئْتُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ؟ فَقَالَتْ : أَيَّةُ آيَةٍ ؟ فَقَالَ : الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا سورة المؤمنون آية 60 أَوْ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ : أَيَّتُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَإِحْدَاهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَتْ : أَيَّتُهُمَا ؟ قُلْتُ : الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ : " أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا ، وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ " ، أَوْ قَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ ، وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ، وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حُرِّف.
مولانا ظفر اقبال
ابو خلف " جو بنو جمح کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو چشمہ زمزم کے پاس تھیں اور اس وقت پوری مسجد میں اس کے علاوہ کہیں اور سایہ نہ تھا، انہوں نے فرمایا ابوعاصم یعنی عبید بن عمیر کو خوش آمدید، تم ہم سے ملاقات کے لئے کیوں نہیں آتے ؟ انہوں نے عرض کیا اس خوف سے کہ کہیں آپ اکتا نہ جائیں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، عبید نے عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کون سی آیت ؟ عبید نے عرض کیا " کہ یہ آیت اس طرح ہے الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا یا اس طرح ہے الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قراءتوں میں سے کون سی قرأت پسند ہے ؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرأت تو مجھے تمام دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی ؟ عبید نے عرض کیا الذین یاتون ما اتوا انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں (دونوں کا مادہ ایک ہی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى خلف
حدیث نمبر: 24642
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي ، وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24643
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ، فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عُمَرُ ؟ " قَالَ : مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لئے تشریف لے گئے، ان کے پیچھے حضرت عمر ایک پیالے میں پانی لے کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت کے بعد پوچھا عمر ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کے وضو کے لئے پانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو ضرور ہی کروں کیونکہ اگر میں ایسا کرنے لگوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن يحيي ضعيف، وقد تفرد به، وأم عبدالله بن أبى مليكة مجهولة
حدیث نمبر: 24644
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ ، وَلَا الْمَصَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1450
حدیث نمبر: 24645
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا بھانجے ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یہاں کبھی بھی عصر کے بعد دو رکعتیں ترک نہیں فرمائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 591، م:835
حدیث نمبر: 24646
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ ، فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ قَدْ حِضْنَ ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ ، فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ ، فَقَالَ : " شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کرکے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کردو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 24647
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَرَضِهِ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ ، فَإِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَقَالَ : " مُرُوهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ " ، قَالَ : فَرَدَّتْ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ , يَقُولُ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " دَعِينِي ، فَإِنَّكُنَّ أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، لِيَؤُمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
حدیث نمبر: 24648
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ ، يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ لِيَصُبَّ عَلَى شِمَالِهِ ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ حَتَّى يُنَقِّيَهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَهُ غَسْلًا حَسَنًا ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا ، وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا ، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ ، فَإِذَا خَرَجَ غَسَلَ قَدَمَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو پہلے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرمگاہ کو اچھی طرح دھوتے، پھر اس ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے، تین مرتبہ چہرہ دھوتے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے، تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے اور اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھولیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24649
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَمْسُ نِسْوَةٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24650
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ لَهُ ، حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَصْنَعُ الشَّيْءَ وَلَمْ يَصْنَعْ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ رَأَيْتُهُ يَدْعُو ، فَقَالَ : " شَعَرْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ " . فَقَالَ : أَتَانِي رَجُلَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ الْآخَرُ : مَطْبُوبٌ . قَالَ : مَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ . قَالَ : فِي مَاذَا ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُبِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ . قَالَ : فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي ذِي أَرْوَانَ " . قَالَ : فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ عَائِشَةَ ، قَالَ : " وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينِ ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْرَجْتَهُ لِلنَّاسِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ شَفَانِي ، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی " جس کا نام لبید بن اعصم تھا " نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتادیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے ؟ اس نے پو چھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے ؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے ؟ دوسرے نے بتایا ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشہ غلاف میں، اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے بتیا کہ " اروان " نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ کو بتایا کہ اے عائشہ ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہوتا ہے اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
حدیث نمبر: 24651
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا آخَرُ ، ثُمَّ طَلَّقَهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمَسَّهَا ، قَالَ : " لَا يَنْكِحُهَا الْأَوَّلُ حَتَّى تَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهِ ، وَيَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وقد تفرد عن أم محمد، وهى أيضا مجهولة
حدیث نمبر: 24652
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ ، وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق پوچھا " جسے اہل یمن پیتے تھے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5586، م: 2001
حدیث نمبر: 24653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ " ، أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5264، م: 1477
حدیث نمبر: 24654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْءَبِ ، سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ ، فَقَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَنَا : " أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْءَبِ ؟ " فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : تَرْجِعِينَ ؟ ! عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ جب عائشہ صدیقہ رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ نے پوچھا یہ کون ساچشمہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمرا ہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کر وادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہوگی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ ، فَقَالَتْ : سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ ، فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ ؟ فَقَالَتْ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آرہی ہے، انہوں نے فرمایا شرماؤ نہیں، پوچھ لو، میں تمہاری ماں ہوں، چنانچہ انہوں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی پر " چھا جائے " لیکن انزال نہ ہو، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد، فإنه ضعيف
حدیث نمبر: 24656
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ يَعْنِي الْقَرِيعِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَمَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ ، تَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نقیر، دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، رَضِيعِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ كُلُّهُمْ يَشْفَعُ لَهُ ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 947
حدیث نمبر: 24658
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ أَبِي : حُصَيْنٌ هَذَا ، صَالِحُ الْحَدِيثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَذَكَرَتْ الْوُضُوءَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِلَى صَلَاتِهِ ، فَيَأْمُرُ بِطَهُورِهِ وَسِوَاكِهِ ، فَلَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ ، وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، قَالَتْ : فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُبِضَ " . قُلْتُ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ ، فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ ؟ قَالَتْ : فَلَا تَفْعَلْ ، أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38 فَلَا تَبَتَّلْ قَالَ : فَخَرَجَ ، وَقَدْ فَقُهَ ، فَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مُكْرَانَ ، فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ.
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سعد بن ہشام ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے تھے اور نویں رکعت پر وتر بناتے تھے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے، حضرت عائشہ نے وضو کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے بیدار ہوتے تو وضو کا پانی اور مسواک لانے کا حکم دیتے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ رکعتیں پڑھتے اور ساتویں پر وتر بنالیتے تھے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھ لیتے اور وصال تک اسی طرح کرتے رہے، میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے گوشہ نشینی کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی اس میں کیا رائے ہے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا " ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ان کی بیویاں اور اولاد بنائی تھی " لہٰذا تم گوشہ نشین نہ ہونا، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کر بصرہ پہنچے اور کچھ ہی عرصے بعد " مکران " کی طرف نکل پڑے اور وہیں بہترین اعمال کے ساتھ شہید ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح