حدیث نمبر: 24579
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ " . فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 24580
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ , أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ : عَمَّا مَسَّتْ النَّارُ ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 353
حدیث نمبر: 24581
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ تُوُفِّيَ ، سُجِّيَ بِثَوْبٍ حِبَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 24582
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ وَهِيَ تَقُولُ لِي : أَشَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ ، فَارْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا تُفْتَنُ الْيَهُودُ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ ؟ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ " يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ یہ کہہ رہی تھی کیا تمہیں معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کی ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کی مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا ؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24583
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ ، يَقُولُ : " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يَحْيَا " ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخْذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : إِنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی، جب اس سے افاقہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں چھت کی طرف اٹھ گئیں اور فرمایا اے اللہ ! رفیق اعلیٰ سے ملا دے، میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4437، م: 2444
حدیث نمبر: 24584
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ ، وَكَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمِ الْخَمِيسِ وَالِاثْنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل بقية ، فإنه يدلس تدليس التسوية
حدیث نمبر: 24585
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ خِيَارِ بْنِ سَلَمَةَ , أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الْبَصَلِ ؟ فَقَالَتْ : " إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزیاد خیار ابن سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لہسن کھانے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری کھانا جو کھایا تھا اس میں لہسن شامل تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي
حدیث نمبر: 24586
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1964، م: 1105
حدیث نمبر: 24587
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ عَلَيْهِمْ السَّلَام ، يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً ، رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کو ملا کر رکھنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں اور جو شخص صفوں کا درمیانی خلاء پر کردے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل إسماعيل بن عياش
حدیث نمبر: 24588
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا " ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ ؟ ! قَالَ : " لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں جمع کئے جاؤ گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد و عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن ہر آدمی کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بےنیاز کردے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24589
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24590
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! خوب موسلادھار اور خو شگوار بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24591
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اپنی طرف سے اس کا تبادلہ بھی فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2585
حدیث نمبر: 24592
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى ، فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى ، وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ ، فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ، وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ لَا يَقِفُ عِنْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری دن ظہر کی نماز پڑھ کر واپس منیٰ کی طرف روانہ ہوتے اور ایام تشریق وہیں گذارے، زوال شمس کے بعد جمرات کی رمی فرماتے تھے، ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے تھے اور جمرہ اولیٰ اور جمرہ ثانیہ کی رمی کر کے رک جاتے تھے اور کافی دیر کھڑے رہ کر دعائیں کرتے تھے، لیکن تیسرے جمرے کی رمی کے بعد نہیں رکتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 24593
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أَتَى إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ ، فَلْيُكَافِئْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَلْيَذْكُرْهُ ، فَمَنْ ذَكَرَهُ ، فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَنَلْ ، فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے کسی سے کوئی احسان کیا ہو تو اسے اس کا بدلہ اتارنا چاہیے اور جو شخص ایسا نہ کرسکے وہ اس کا اچھے انداز میں ذکر ہی کر دے کیونکہ اچھے انداز میں ذکر کرنا بھی شکر یہ ادا کرنے کا طرح ہے اور جو شخص ایسی چیز سے اپنے آپ کو سیراب ظاہر کرتا ہو جو اسے حاصل نہ ہو تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله : من تشيع ... صحيح، وبقية الحديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبى الأخضر
حدیث نمبر: 24594
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ " إِذَا دَهَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَدَعْتُ فَرْقَةً مِنْ فَوْقِ يَافُوخِهِ ، وَأَرْسَلْتُ لَهُ نَاصِيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تیل لگاتی تھی تو مانگ سر کے اوپر سے نکالتی تھی اور پیشانی کو چھوڑ دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فيه
حدیث نمبر: 24595
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24596
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، قَوْمُكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا " . قَالَتْ : فَلَمَّا جَلَسَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي . فَقَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " قَالَتْ : تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَّتِكَ بِكَ لَحَاقًا . قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ : وَعَمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا ، فَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : فَكَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ . قَالَ : " دَبًى يَأْكُلُ شِدَادُهُ ضِعَافَهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمْ السَّاعَةُ " وَالدَّبَى الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنوتیم کے لوگ مراد ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بیماری ہوگی جس میں مضبوط لوگ کمزوروں کو کھا جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24597
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قِيلَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، هَذَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ! قَالَتْ : وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَلِكَ ، " لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ اے ام المومنین ! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24598
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ " قَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَمْ أَسْمَعْ مِنْ هِشَامٍ شَيْئًا إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24599
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَأَنَا أَقُولُ لَهُ أَبْقِ لِي ، أَبْقِ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أم المبارك وابنها قد توبعا
حدیث نمبر: 24600
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 24601
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ ، أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4 " . قُلْتُ : فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ ، قَالَتْ : " لَا تَفْعَلْ ، أَمَا تَقْرَأُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 , فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ وُلِدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المومنین ! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی تھا، کیا تم قرآن نہیں پڑھتے، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ» [سورۃ القلم، آیت 4] میں نے عرض کیا کہ میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا: ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے، «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» [سورۃ الأحزاب، آیت 21] تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، المبارك بن فضالة مدلس ولكن توبع
حدیث نمبر: 24602
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مِنَ النِّسَاءِ مَا رَأَيْنَا ، لَمَنَعَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، كَمَا مَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا " , قُلْتْ لِعَمْرَةَ : وَمَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرئیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 869، م: 445
حدیث نمبر: 24603
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ ، ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میری نظروں کے سامنے اب بھی وہ منظر موجود ہے، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 24604
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، وَهِشَامٍ , وَيُونُسَ , عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَعَوَاتٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ يَدْعُوَ بِهَا : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُكْثِرُ تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِيِّ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ ، وَإِذَا شَاءَ أَقَامَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24605
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَئِذٍ عُذِّبَ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ، قَالَ : " ذَاكَ الْعَرْضُ ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ ، عُذِّبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
حدیث نمبر: 24606
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ قُرَيْط الصَّدَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاجِعُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، إِذَا شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارِي ، وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِذْ ذَاكَ إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ ، فَلَمَّا رَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اعْتَزَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پو چھا کیا ایام کی حالت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، میں جب اپنا ازار باندھ لیتی تھی، کیونکہ اس وقت ہمارے پاس ایک ہی بستر ہوتا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے مجھے دوسرا بستر دیدیا تو میں الگ ہوجاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن قريط الصدفي
حدیث نمبر: 24607
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُمْنُ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا ، وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہوجائے اور اس کا مہر آسان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24608
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا ، وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، وَكَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہے، اسے نماز والا وضو کرلینا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح من فعله، وصحيح لغيره من قوله ابن لهيعة توبع ، راجع: 24083
حدیث نمبر: 24609
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَتْ : أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا ، " كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ ، فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، وَآلِ عِمْرَانَ ، وَالنِّسَاءِ ، فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَرَغِبَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورت آل عمران اور سورت نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال مسلم بن مخراق
حدیث نمبر: 24610
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ : لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ ، وَأَبْصَرَتْ الْمَاءَ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ : ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ تَرِبَتْ يَدَاكِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعِيهَا ، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ . إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ ، أَشْبَهَ أَخْوَالَهُ ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا ، أَشْبَهَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت " خواب " دیکھے اور اسے " پانی " کے اثرات نظر آئیں تو کیا وہ بھی غسل کرے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! حضرت عائشہ نے اس عورت سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں (کیا عورت بھی اس کیفیت سے دوچار ہوتی ہے ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اسے چھوڑ دو ، بچے کی اپنے والدین سے مشابہت اسی وجہ سے تو ہوتی ہے کہ اگر عورت کا " پانی " مرد کے " پانی " پر غالب آجائے تو بچہ اپنے ماموں کے مشابہہ ہوتا ہے اور اگر مرد کا " پانی " عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ اس کے مشابہہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، مصعب بن شيبة لين الحديث، ولكن توبع م: 314
حدیث نمبر: 24611
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَهُ , عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا ، فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً ، وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا ، فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا ، فَشَقَّتْ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا ، قَالَتْ : فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ ، وَأَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بچیوں کو اٹھائے میرے پاس آئی، میں نے اسے تین کھجوریں دی، اس نے ان میں سے ہر بچی کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف بڑھائی، لیکن اسی وقت اس کی بچیوں نے اس سے مزید کھجور مانگی تو اس نے اسی کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کرکے انہیں دے دیا، مجھے اس واقعے پر بڑا تعجب ہوا، بعد میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے لئے اس بناء پر جنت واجب کردی اور اسے جہنم سے آزاد کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2630
حدیث نمبر: 24612
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَرْسَلْتُ بَرِيرَةَ فِي أَثَرِهِ لِتَنْظُرَ أَيْنَ ذَهَبَ ، قَالَتْ : فَسَلَكَ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَوَقَفَ فِي أَدْنَى الْبَقِيعِ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَرَجَعَتْ إِلَيَّ بَرِيرَةُ ، فَأَخْبَرَتْنِي ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ خَرَجْتَ اللَّيْلَةَ ؟ قَالَ : " بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت گھر سے نکلے، میں نے بریرہ کو ان کے پیچھے یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع کی طرف چل پڑے، وہاں پہنچ کر اس کے قریبی حصے میں کھڑے رہے، پھر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرکے واپس آگئے، بریرہ نے مجھے واپس آکر اس کی اطلاع کردی، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ رات کو کہاں گئے تھے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ ان کے لئے دعا کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين ،
حدیث نمبر: 24613
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2026، م: 1172
حدیث نمبر: 24614
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخَرِ مَرَّتَيْنِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی دو مرتبہ کوئی نماز اس کے آخری وقت میں نہیں پڑھی حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إسحاق بن عمر مجهول، ولم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24615
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ ، فَلْيَفْعَلْ " . وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ ، وَلَمْ يَعْتَمِرْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے سال لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص حج سے پہلے عمرہ کرنا چاہے تو وہ ایسا کرلے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہدی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے) صرف حج کیا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: ولم يعتمر ، وهذا إسناد ضعيف لأجل جهالة حال أم علقمة
حدیث نمبر: 24616
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ ، فَقَالَ لِي : " صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ ، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ ، فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حطیم میں داخل کردیا اور فرمایا اگر تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے لیکن تمہاری قوم کے پاس جب حلال سرمایہ کم ہوگیا تو انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اس حصے کو اس تعمیر سے باہر نکال دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: صلى فى الحجر ... من البيت فحسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24617
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ : " بِسْمِ اللَّهِ ، بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا ، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا ، لِيُشْفَى سَقِيمُنَا ، بِإِذْنِ رَبِّنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مریض پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے " بسم اللہ " ہماری زمین کی مٹی میں ہم میں سے کسی کا لعاب شامل ہوا، تاکہ ہمارے رب کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفاء یابی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5746، م: 2194
حدیث نمبر: 24618
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3536، م: 2349