حدیث نمبر: 25779
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُكِ إِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، وَإِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً ، إِذَا غَضِبْتِ ، قُلْتِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِذَا رَضِيتِ ، قُلْتِ : لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جاتا ہے اور جب تم راضی ہوتی ہو تو مجھے اس کا بھی پتا چل جاتا ہے، جب تم ناراض ہوتی ہو تو تم لا ورب ابراہیم کہتی ہو اور جب تم راضی ہوتی ہو تو لا ورب محمد کہتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5228، م: 2439
حدیث نمبر: 25780
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي ، قَالَ : " أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهذا إسناد فيه مجهول
حدیث نمبر: 25781
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 25782
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہ سمجھتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25783
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . قَالَ عَبْد اللَّهِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة صالح الأسدي
حدیث نمبر: 25784
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 25785
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَارُونَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت فروح وریحان راء کے ضمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25786
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ ، قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ ، فَقَالَتْ لَهَا : إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي . فَأَتَتْ أَهْلَهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ ، وَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ لَهُمْ ، فَذَكَرَتْهُ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلِي " ، فَفَعَلَتْ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ : كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَهُوَ بَاطِلٌ ، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ ، وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ ، وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں ؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1563، م: 1504
حدیث نمبر: 25787
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَعْنَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ ، فَلَا تُصَدِّقْهُ ، مَا بَالَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بات کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلا عذر کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25788
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ سَوْدَةَ كَانَتْ امْرَأَةً ثَبْطَةً ثَقِيلَةً اسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صلي الله عليه وسلم أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ دَفْعِتهِ مِنْ جَمْعٍ ، فَأَذِنَ لَهَا . قَالَتْ عَائِشَةُ : وَدِدْتُ ، أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں، کاش ! میں نے بھی اس سے اجازت لے لی ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 25789
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سُتِرْتُ بِنَمَطٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، قَالَتْ : فَنَحَّاهُ ، قَالَتْ : وَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ " . وَقَالَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ، وَحِينَ رَمَى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آئے تو میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکایا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہٹا دیا، پھر میں نے اس کے دو تکیے بنا لئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1321، قصة الستر، م: 2107
حدیث نمبر: 25790
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ ، قَالَ : فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قَالَتْ : أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا مَنْ تُرْضِعُونَ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ ، إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے ( جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2647، م: 1455
حدیث نمبر: 25791
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقالْتُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ ، فَإِذَا قَامَ تَوَضَّأَ ، وَصَلَّى مَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ، أَتَى أَهْلَهُ ، وَإِلَّا مَالَ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَإِنْ كَانَ أَتَى أَهْلَهُ ، نَامَ كَهَيْئَتِهِ ، لَمْ يَمَسَّ مَاءً ، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ أَوَّلِ الْأَذَانِ ، وَثَبَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ : قَامَ وَإِنْ كَانَ جُنُبًا ، أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ : اغْتَسَلَ وَإلَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرما لیتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد کی طرف چلے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: لم يمس ماء، م: 739
حدیث نمبر: 25792
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ الْمَعْنَى ، عَنْ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَكُونُ حَائِضًا ، فَآخُذُ الْعَرْقَ فَأَتَعَرَّقُهُ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ ، وَأَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اس طرح میں ایک ہڈی پکڑ کا اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 25793
حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ : عَائِشَةُ : " كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 25794
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٍ قَتَلَ فَقُتِلَ ، أَوْ رَجُلٍ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ ، أَوْ رَجُلٍ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وانظر برقم: 25700
حدیث نمبر: 25795
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قُبِضَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ كُرْسُفٍ ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیص اور عمامہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1271، م: 941
حدیث نمبر: 25796
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَالْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، قَالَ شَرِيكٌ : قَالَ الْعَبَّاسُ : عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، قَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك، م: 298
حدیث نمبر: 25797
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ ؟ فَسَكَتَ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَدْعُو لَكَ عَلِيًّا ؟ فَسَكَتَ ، قُلْنَا : أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : " بَلَى " ، قَالَت : أَرْسَلْنَا إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءَ ، فَخَلَا بِهِ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے پاس بلاؤ، میں نے عرض کیا ابوبکر کو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا عمر کو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا علی کو ؟ وہ پھر خاموش رہے، میں نے عرض کیا عثمان کو بلاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! جب وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہاں سے ہٹ جانے کے لئے فرمایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدلتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح