حدیث نمبر: 25699
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَنَمْ ، فَلَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ ، فَيَسُبَّ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہئے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 25700
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : جَاءَ عَمَّارٌ وَمَعَهُ الْأَشْتَرُ يستأذن على عائشة ، قَالَ : يَا أُمَّهْ ، فَقَالَتْ : لَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ ، قَالَ : بَلَى ، وَإِنْ كَرِهْتِ . قَالَتْ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا الْأَشْتَرُ ، قَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي ، قَالَ : قَدْ أَرَدْتُ قَتْلَهُ وَأَرَادَ قَتْلِي ، قَالَتْ : أَمَا لَوْ قَتَلْتَهُ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُحِلُّ دَمَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا إِحْدَى ثَلَاثَةٍ : رَجُلٌ قَتَلَ فَقُتِلَ ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ ، أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، عمار اور اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان ! انہوں نے فرمایا میں تیری ماں نہیں ہوں، اس نے کہا واللہ آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں ! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهذا إسناد فيه عمر بن غالب تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق
حدیث نمبر: 25701
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَأَصَابَتْهُ بُحَّةٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69 فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے مرض الوفات میں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا کہ اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء اکرام علیہ السلام اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت بہت عمدہ ہے " تو میں سمجھ گئی کہ انہیں اختیار دے دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444
حدیث نمبر: 25702
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ ، لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور سب سے آخر میں بیٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 25703
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ ، فَهَلْ كَانَ طَلَاقًا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5263
حدیث نمبر: 25704
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2457، م:2668
حدیث نمبر: 25705
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60 أَهُوَ الرَّجُلُ يَزْنِي وَيَسْرِقُ ، وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ ؟ قَالَ : " لَا ، يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ ، وَيُصَلِّي ، وَيَتَصَدَّقُ ، وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت " الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ " کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بدکاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق ! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25706
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ ، فَكَذَّبْتُهَا ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " صَدَقَتْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ حَتَّى تَسْمَعَ أَصْوَاتَهُمْ الْبَهَائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی اور کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، وہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! لوگوں کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے جنہیں درندے اور چوپائے سنتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6366، م: 586
حدیث نمبر: 25707
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حُوسِبَ هَلَكَ " قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ، قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، ذَاكَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ فَقَدْ هَلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
حدیث نمبر: 25708
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ امْرَأَةً ، وَقَالَتْ مَرَّةً : حَكَتْ امْرَأَةً وَقَالَتْ : إِنَّهَا قَصِيرَةٌ ، فَقَالَ : " اغْتَبْتِهَا ، مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا ، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25709
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَشَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا كَانَ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا عُزِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2594
حدیث نمبر: 25710
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ، فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، خَرَجَ فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 25711
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ، هَذَا غَاسِقٌ إِذَا وَقَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25712
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : قَالَتْ : قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ ، قَالَتْ : فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ " . يَعْنِي عُثْمَانَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ ، أَوْ قَالَ : وَهُوَ يَبْكِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نعش کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 25713
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَلَيْسَ يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ . قَالَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک ایسے آدمی ہیں جن میں کفایت شعاری کا مادہ کچھ زیادہ ہی ہے اور میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ گھر میں لاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے مال میں سے اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہوجائے لیکن یہ ہو بھلے طریقے سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5364، م: 1714
حدیث نمبر: 25714
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملالیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 293
حدیث نمبر: 25715
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا قَطُّ وَلَا امْرَأَةً وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2328
حدیث نمبر: 25716
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي " . وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شوال کے مہینے میں مجھ سے نکاح فرمایا اور شوال ہی میں مجھے ان کے یہاں رخصت کیا گیا، اب یہ بتاؤ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ کس بیوی کا حصہ تھا ؟ (لہذا یہ کہنا کہ شوال کا مہینہ منحوس ہے، غلط ہے) اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند فرماتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی ماہ شوال ہی میں ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1423
حدیث نمبر: 25717
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں موجود نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہوگی، اگرچہ سینکڑوں مرتبہ اسے شرط ٹھہرا لیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2168، م: 1504
حدیث نمبر: 25718
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بَيْتًا بِمِنًى يُظِلُّكَ ؟ قَالَ : " لَا ، مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنادیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میدان منیٰ میں تو جو آگے بڑھ جائے، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مسيكة أم يوسف ولضعف إبراهيم بن مهاجر
حدیث نمبر: 25719
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ الْبَيْتَ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لئے رات کے وقت تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، راجع: 2611
حدیث نمبر: 25720
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَيْسَ نُزُولُ الْمُحَصَّبِ بِالسُّنَّةِ ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
حدیث نمبر: 25721
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ صَفِيَّةَ ، فَقَالَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ ، قَالَ : " فَلَا إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1757، م: 1211
حدیث نمبر: 25722
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہماری نیت صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1788، م: 1211
حدیث نمبر: 25723
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5918، م: 1190
حدیث نمبر: 25724
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 25725
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5928، م: 1189
حدیث نمبر: 25726
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ تَعْنِي بَرِيرَةَ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2578، م: 1504
حدیث نمبر: 25727
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں جہنم کے فتنے سے اور عذاب جہنم سے، قبر کے فتنے سے اور عذاب قبر سے مالداری کے فتنے اور تنگدستی کے فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، میرے گناہوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ پیدا فرما دے، اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، گناھوں اور تاوان سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6375، م: 589
حدیث نمبر: 25728
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2684
حدیث نمبر: 25729
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6456، م: 2082
حدیث نمبر: 25730
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصَّوْمَ ، فَقَالَ : " أَنْتَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1943، م: 1121
حدیث نمبر: 25731
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ الْمَعْنَى ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " قُلْنَا : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ " ، ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ ، فَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَأَخْبَأْنَا لَكَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " أَدْنِيهِ ، فَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " فَأَكَلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے اور روزے سے ہوتے، پھر پوچھتے کہ آج صبح کے اس وقت تمہارے پاس کچھ ہے جو تم مجھے کھلا سکو ؟ وہ جواب دیتیں کہ نہیں، آج ہمارے پاس صبح کے اس وقت کچھ نہیں ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ پھر میں روزے سے ہی ہوں اور کبھی آتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ دیتیں کہ ہمارے پاس سے کہیں سے ہدیہ آیا ہے جو ہم نے اپ کے لئے رکھا ہوا ہے اور حیس (ایک قسم کا حلوہ) ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے صبح تو روزے کی نیت کی تھی، پھر اسے تناول فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1154
حدیث نمبر: 25732
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ " ، ثُمَّ ضَحِكَتْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک بیوی کو روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے پھر وہ ہنسنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25733
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ ، يُقَالُ لَهَا : أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا ، فَلْيَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ ، فَلْيَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرے بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بشواهده وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
حدیث نمبر: 25734
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ مُعَلَّمَةٌ ، وَكَانَ يَعْرِضُ لَهُ عَلَمُهَا فِي الصَّلَاةِ ، فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ ، وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ان کی سادہ چادر لے لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 373، م: 556
حدیث نمبر: 25735
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ شَعَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 295، م: 297
حدیث نمبر: 25736
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُقَلِّدُهَا ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 25737
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا مُقَلَّدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703
حدیث نمبر: 25738
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح