حدیث نمبر: 25659
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ لَهَا : " أَرَدْتِ الْحَجَّ ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً ، فَقَالَ لَهَا : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي " ، فَقَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ضاعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میں بیمار ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کے لئے روانہ ہوجاؤ اور یہ شرط ٹھہرا لو کہ اے اللہ ! میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں تو نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا اور وہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5089، م: 1207
حدیث نمبر: 25660
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي ، فَأَضَعُ ثَوْبِي ، فَأَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے گھر کے جس کمرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد کی قبریں تھیں، میں وہاں اپنے سر پر دو بٹہ نہ ہونے کی حالت میں بھی چلی جاتی تھی کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ یہاں صرف میرے شوہر اور والد ہی تو ہیں، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی تدفین ہوئی تو واللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حیاء کی وجہ سے میں جب بھی اس کمرے میں گئی تو اپنی چادر اچھی طرح لپیٹ کر ہی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25661
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ ، فَيَسُبُّ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہئے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 25662
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ ، قَالُوا : حَاضَتْ ، قَالَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " قَالُوا : إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ، قَالَ : " فَلَا إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
حدیث نمبر: 25663
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " ، قُلْتُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ " . فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ، فَقَالَ : " صَوَاحِبَ يُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " . فَالْتَفَتَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ ، فَقَالَتْ : لَمْ أَكُنْ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، میں نے حفصہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو آہ و بکاء کی وجہ سے کچھ سنا نہیں پائیں گے اس لئے آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) یہ سن کر حضصہ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ مجھے تم سے بھلائی حاصل نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
حدیث نمبر: 25664
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَفِي تَرَجُّلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے پھر کام میں وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 25665
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ بن عروة ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَصُومُ ، يَعْنِي أَسْرُدُ الصَّوْمَ ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کیا یا سول اللہ ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
حدیث نمبر: 25666
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ ؟ فَقَالَتْ : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5263
حدیث نمبر: 25667
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، وَلَكِنْ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوءِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو اختیار فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 288، م: 305
حدیث نمبر: 25668
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : ابْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی اولاد بھی اس کی پاکیزہ کمائی ہے لہذا ان کا مال تم رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم عمارة
حدیث نمبر: 25669
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " . إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ قَالَ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ : فَقُلْتُ : الْجَرِّ أَوْ الْحَنْتَمِ ؟ قَالَ : مَا أَنَا بِزَائِدِكَ عَلَى مَا سَمِعْتُ.
مولانا ظفر اقبال
ام المونین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25670
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَقْضِي لَهُ بِمَا يَقُولُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ ، بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ، فَلَا يَأْخُذْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کر دے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں، (اس لئے یاد رکھو ! ) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، لہذا اسے چاہئے کہ وہ نہ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6967، م: 1713
حدیث نمبر: 25671
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدَّائِمُ مِنَ الْعَمَلِ " . قَالَ : فَقُلْتُ : أَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ ؟ قَالَتْ : " إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
حدیث نمبر: 25672
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ " . قَالَ : قِيلَ : فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي ، فَتَسْكُتُ ؟ قَالَ : " فَهُوَ إِذْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، کسی نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
حدیث نمبر: 25673
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ . قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ ، فَكِلْتَاهُمَا قَالَتَا : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يَصُومُ " . فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَيَا مَرْوَانَ ، فَحَدَّثَاهُ . قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَّا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَحَدَّثْتُمَاهُ ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَأَخْبَرَاهُ ، قَالَ : هُمَا قَالَتَاهُ لَكُمَا ؟ قَالَا : نَعَمْ ، قَالَ : هُمَا أَعْلَمُ ، إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ.
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے ؟ دونوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو یہ بات فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، البتہ وہ دونوں زیادہ بہتر جانتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1109
حدیث نمبر: 25674
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ ، فَيَغْتَسِلُ بَعْدَمَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ ، ثُمَّ يُتِمُّ صِيَامَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوجاتا اور ان کا ارادہ روزہ رکھنے کا ہوتا تو وہ طلوع فجر کے بعد غسل کر کے اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1926، م: 1109
حدیث نمبر: 25675
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُفْتِينَا أَنَّهُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صِيَامَ لَهُ ، فَمَا تَقُولِينَ فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَتْ : " لَسْتُ أَقُولُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَدْ كَانَ الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَأَرَى حَدَرَ الْمَاءِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، ثُمَّ يُصَلِّي الْفَجْرَ ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ان کی رائے معلوم کی، انہوں نے فرمایا میں تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، بعض اوقات مؤذن اذان دیتا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان پانی بہتے ہوئے دیکھتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور اس دن روزہ رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
حدیث نمبر: 25676
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا تَعْنِي إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کفارہ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 25677
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَرَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز دو حفیف رکعتوں سے فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 382، م: 767
حدیث نمبر: 25678
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ : الْحَيَّةُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الكلب " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 25679
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ سَوَاءٍ ، قَالَ : " الْكَلْبُ الْعَقُورُ " . وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " الْعَقُورُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر ماقبله
حدیث نمبر: 25680
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ كُرْسُفٍ يَعْنِي قُطْنًا ، قَالَتْ : لَيْسَ فِي كَفَنِهِ قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دے گیا تھا جن میں کوئی قمیض اور عمامہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1271، م: 941
حدیث نمبر: 25681
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ ، فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : " لَا ، اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي ، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ، ثُمَّ صَلِّي ، وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . وَقَدْ قَالَ وَكِيعٌ : اجْلِسِي أَيَّامَ أَقْرَائِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے کیا میں نماز چھوڑ سکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25682
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُجَاوِرٌ ، وَهُوَ مُعْتَكِفٌ ، وَأَنَا فِي حُجْرَتِي ، فَأَغْسِلُهُ وَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 295، م: 297
حدیث نمبر: 25683
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرمالیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7549
حدیث نمبر: 25684
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ ، كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 293
حدیث نمبر: 25685
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 544، م: 611
حدیث نمبر: 25686
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، سَمِعَهُ مِنْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَانِبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ عَلَيَّ مِرْطٌ ، وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر " جو کہ ایام سے ہوتی تھیں " ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 25687
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي رَكْعَةٍ ؟ قَالَتْ : " الْمُفَصَّلُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا مفصلات۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 717
حدیث نمبر: 25688
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا ، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا ، رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا ، رَكَعَ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25689
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا بَعْدَمَا دَخَلَ فِي السِّنِّ ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً ، قَامَ ، فَقَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
حدیث نمبر: 25690
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَرُّوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2020، م: 1169
حدیث نمبر: 25691
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَتْ : " لَا ، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، الاّ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے ہوں تو دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 717
حدیث نمبر: 25692
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ بن عروة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 724
حدیث نمبر: 25693
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ ، فَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ ، فَمَاتَ وَهُوَ يُوتِرُ بِالسَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 996، م: 745
حدیث نمبر: 25694
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَوَسَطِهِ وَآخِرِهِ ، فَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 996، م: 745
حدیث نمبر: 25695
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، فَذَكَرَهُمَا جَمِيعًا.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له إسنادان، الأول إسناده قوي، والثاني مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25696
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي ، فَأَوْتَرْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 512، م: 512
حدیث نمبر: 25697
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَيْقَظَنِي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " قُومِي فَأَوْتِرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جگا کر فرماتے اٹھو اور وتر پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 744
حدیث نمبر: 25698
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا كُنْتُ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1133، م: 742