حدیث نمبر: 25579
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ ، إِلَّا أَخَذَ الَّذِي هُوَ أَيْسَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25580
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا ، ثُمَّ يُقِيمُ عِنْدَنَا ، وَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
حدیث نمبر: 25581
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَمِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُحْرِمُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 25582
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : غَنَمًا.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 25583
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 301 م: 293
حدیث نمبر: 25584
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا ، فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ " . قَالَ أَبِي : وقَالَ وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ ، أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ " . قَالَ يَحْيَى : تَرَكَ شُعْبَةُ حَدِيثَ الْحَكَمِ فِي الْجُنُبِ : " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 305
حدیث نمبر: 25585
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 1075
حدیث نمبر: 25586
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رَأَيْتُ الطِّيبَ قَالَ أَحَدُهُمَا : فِي رَأْسِ أَوْ شَعَرِ ، وَقَالَ الْآخَرُ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبولگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 25587
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ يَحْيَى : أَمْلَاهُ عَلَيَّ هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَلْيُهِلَّ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ ، فَلْيُهِلَّ ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ ، أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " . قَالَتْ : فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " دَعِي عُمْرَتَكِ ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَرْدَفَهَا فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا ، فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا ، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ ، وَلَا صَوْمٌ ، وَلَا صَدَقَةٌ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1786، م: 1211
حدیث نمبر: 25588
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، نَحْوَهُ ، قَالَ وَكِيعٌ : " وَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . قَالَ عُرْوَةُ : فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 25589
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَتْ عَائِشَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَحْسِنْ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن ! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 25590
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ شَهِيدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَلَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے اور تمہارے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اسوہ حسنہ موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25591
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہو، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 25592
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ : " بِالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا مسواک۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 253
حدیث نمبر: 25593
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ : وَنَحْنُ جُنُبَانِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 261، م: 321
حدیث نمبر: 25594
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَأُنَاوِلُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لتیی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 25595
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 25596
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا ، فَلَا تُصَدِّقْهُ ، مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ، مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلا عذر کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25597
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . وَمُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ . قَالَ مُحَمَّدٌ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَأْكُلَ ، وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 305
حدیث نمبر: 25598
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وأبي سلمة ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ ، غَسَلَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل صالح ولكنه توبع
حدیث نمبر: 25599
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي ، فَأَوْتَرْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 512، م: 512
حدیث نمبر: 25600
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی بیوی کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25601
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : " كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیض اور عمامہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1272، م: 941
حدیث نمبر: 25602
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ ، قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ أَوْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1189
حدیث نمبر: 25603
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُهَا " ، قُلْتُ : حَاضَتْ . قَالَ : " أَمَا كَانَتْ أَفَاضَتْ " ، قُلْتُ : بَلَى ، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدُ ، قَالَ : " فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ " . فَنَفَرَ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح على قلب فى متنه
حدیث نمبر: 25604
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، أو حدثني ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، فَتَزَوَّجَهَا آخَرُ ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ؟ فَقَالَ : " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5261، م: 1433
حدیث نمبر: 25605
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْهُمْ ، فَطَلَّقَهَا ، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَتِي هَذِهِ . فَقَالَ : " لَا ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ، أَوْ يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " . هِشَامٌ شَكَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو قریظہ کی ایک عورت آئی جسے اس کے پہلے شوہر نے طلاق دے دی، پھر اس نے کسی اور سے شادی کرلی اور اس نے بھی اسے طلاق دے دی، وہ عورت کہنے لگی کہ میرے دوسرے شوہر کے پاس تو اس کپڑے کے ایک کونے جیسی چیز ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25606
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ثُمَّ شَكَّ يَحْيَى فِي ثَلَاثٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں تین مرتبہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
حدیث نمبر: 25607
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ ، فَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
حدیث نمبر: 25608
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، أَغْتَرِفُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور اس سے چلو بھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 25609
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، فَأَقُولُ : أَبْقِ لِي ، أَبْقِ لِي " . كَذَا قَالَ أَبِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 25610
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " لَوْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ ، مَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرَةَ : وَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ ؟ قَالَت : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 849، م: 445
حدیث نمبر: 25611
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 25612
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَرَاهُ عَلَى ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْمَنِيَّ ، فَأَحُكُّهُ " . وَقَالَ يَحْيَى : مَرَّةً فَأَفْرُكُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر مادہ منویہ کانشان دکھائی دیتا تو اسے کھرچ دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 25613
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " ..
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25614
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ هَذَا : يَعْنِي فِي فَرْكِ الْمَنِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 25615
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنّ لِي جَارَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ قَالَ : " أَقْرَبُهُمَا مِنْكِ بَابًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، 2595
حدیث نمبر: 25616
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمِقْسَمٍ : أُوتِرُ بِثَلَاثٍ ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ ، مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي ، قَالَ : " لَا وَتْرَ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ " . قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ ، لِيَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، وْمُجَاهِدٍ ، فَقَالَا لِي : سَلْهُ عَمَّنْ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : عَنِ الثِّقَةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، ومَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ میں نے مقسم سے پوچھا میں تین رکعتوں پر وتر بنا کر نماز کے لئے جاسکتا ہوں تاکہ نماز فوت نہ ہوجائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر تو صرف پانچ یا سات رکعتوں پر بنائے جاتے ہیں، میں نے یہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ مقسم سے اس کا حوالہ پوچھو چنانچہ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ دو ثقہ راویوں کے حوالے سے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مجھ تک پہنچایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الثقةعنه مقسم الراوي
حدیث نمبر: 25617
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَإِذَا رَكَعَ ، لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا ، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ : التَّحِيَّةَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک سیدھے کھڑے نہ جاتے اور جب ایک سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دو رکعتوں پر " التحیات " پڑھتے تھے اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیتے تھے اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھالے اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 25618
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا ، فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا رَكَعَ ، فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ ، فَارْفَعُوا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کو عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5658، م: 415