حدیث نمبر: 25539
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ مُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6014، م: 2224
حدیث نمبر: 25540
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟ فَقَالَتْ : " نَعَمْ ، أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ " ، فَقُلْتُ لَهَا : مِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : فَضَحِكَتْ ، وَقَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ باللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کھانا حرام قراد دے دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے، میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی ؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5423، م: 2970
حدیث نمبر: 25541
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ الْمَعْنَى ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ ؟ فَقَالَ : " لَا ، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنادیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میدان منیٰ میں تو جو آگے بڑھ جائے، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف ووالدة يوسف مجهولة
حدیث نمبر: 25542
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي ، وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگرچہ میں ایام سے ہوتی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کا بوسہ لے لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25543
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءٍ وَلَا نَقْضِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
حدیث نمبر: 25544
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ قَالَ أَبُو كَامِلٍ : أُمُّ حَبِيبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ ، وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ هَذَا بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " . فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي ، وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ ، فَتَعْلُو حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ ، ثُمَّ تُصَلِّي.
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش (جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں) سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ " معمول کے ایام " نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 327، م: 334
حدیث نمبر: 25545
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ : فِي تَرَجُّلِهِ وَفِي طُهُورِهِ ، وَفِي نَعْلِهِ " . قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَوْ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 25546
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي ، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ : فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ ، قَالَ : قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ، ثُمَّ تَرَكْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا، عصر کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر آخر دم تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ترک نہیں فرمایا : عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے ہم یہ نماز پڑھتے تھے، بعد میں ہم نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 25547
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : " هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَتْ : " فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ ، فَاسْتَحِلُّوهُ ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ ، فَحَرِّمُوهُ " . وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " الْقُرْآنُ " .
مولانا ظفر اقبال
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم سورة مائدہ پڑھتے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ یہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے، اس لئے تمہیں اس میں جو چیز حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو اس سورت میں حرام قرار دیا گیا ہو اسے حرام سمجھو، پھر میں نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا قرآن۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25548
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كَانَ أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانَ ، ثُمَّ يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینے میں روزے رکھنا سب سے زیادہ محبوب تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إستاده صحيح
حدیث نمبر: 25549
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں رہنے والے بھوکے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2046
حدیث نمبر: 25550
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا ، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 25551
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : ذُكِرَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ ، وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا ، وَقَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ ، عَمَدْنَ إِلَى حُجَزِ أَوْ حُجُوزِ مَنَاطِقِهِنَّ ، فَشَقَقْنَهُ ، ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْهُ خُمُرًا ، وَأَنَّهَا دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي ، عَنِ الطُّهُورِ مِنَ الْمَحِيضِ ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، لِتَأْخُذْ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَلْتَطَّهَّرْ ، ثُمَّ لِتُحْسِنْ الطُّهُورَ ، ثُمَّ تَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا ، ثُمَّ لِتُلْزِقْ بِشُؤُونِ رَأْسِهَا ، ثُمَّ تَدْلُكْهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ طُهُورٌ ، ثُمَّ تَصُبَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ تَأْخُذْ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، فَلْتَطَّهَّرْ بِهَا " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْنِي عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : تَتْبَعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ . قَالَ عَفَّانُ : ثُمَّ لِتَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا مِنَ الْمَاءِ ، وَلْتُلْصِقْ شُؤُونَ رَأْسِهَا فَلْتَدْلُكْهُ ، قَالَ عَفَّانُ : إِلَى حُجَزٍ أَوْ حُجُوزٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " غسل حیض " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں " غسل جنابت " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 332
حدیث نمبر: 25552
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ صَدَقَةَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ابْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَتْ إِحْدَاهُمَا : كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
جمیع بن عمیر " جن کا تعلق بنوتیم اللہ بن ثعلبہ سے تھا " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا، ان میں سے ایک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے وقت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو نماز والا وضو فرماتے تھے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہاتے تھے اور ہم اپنی مینڈھیوں کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ مرتبہ پانی بہاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جميع بن عمير
حدیث نمبر: 25553
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 253
حدیث نمبر: 25554
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ ؟ فَقَالَتْ : " قَدْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25555
وَقَالَ : وَقَالَ : عَنْ عَائِشَةَ ، " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ ، وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، إسناده سابقه
حدیث نمبر: 25556
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَالزُّمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم کہتے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: وكان يقرأ ... وهذا إسناد فيه أبو لبابة فيه كلام
حدیث نمبر: 25557
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهِ إِثْمٌ ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25558
حَدَّثَنِا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صَوْمِهِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ ، وَكَانَ يَقُولُ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " . وَإِنَّهُ كَانَ " أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہنیے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو کہ جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782
حدیث نمبر: 25559
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قال : حدثنا . وَيَزِيدُ ، قَالَا : أَخبرنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ يُوتِرُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، قَامَ فَرَكَعَ ، ثُمَّ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 738
حدیث نمبر: 25560
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكَانَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ عَنْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، فَقَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا ، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا " قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَ بِيَدِهِ ، كَأَنَّهُ يَعْنِي قَصِيرَةً ، فَقَالَ : " لَقَدْ مَزَجْتِ بِكَلِمَةٍ لَوْ مُزِجَ بِهَا مَاءُ الْبَحْرِ مَزَجَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں، میں نے کہہ دیا یا رسول اللہ ! صفیہ تو اتنی سی ہے اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25561
قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ ، يَعْنِي حَدِيثَ جَابِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25562
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا ؟ قَالَتْ : " لَا ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً ، وَأَيُّكُمْ كَانَ يُطِيقُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے ؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1987، م: 782
حدیث نمبر: 25563
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ ، ثُمَّ يُبَاشِرُنِي ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ ، وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حا لان کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 301، م: 293
حدیث نمبر: 25564
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَشْتَرِي بَرِيرَةَ وَأَشْتَرِطُ لَهُمْ الْوَلَاءَ ، قَالَ : " اشْتَرِي ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ ، أَوْ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے بار گاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! بریرہ کو آزاد میں کروں اور ولاء اس کے مالکوں کے لئے مشروط کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2536، م: 6760
حدیث نمبر: 25565
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703
حدیث نمبر: 25566
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ الْعَشْرَ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَأَسْنَدَهُ أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے نہیں رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1176
حدیث نمبر: 25567
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَوَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ : " سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " . يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ . قَالَ وَكِيعٌ : اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن کریم پر عمل فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 817، م: 484
حدیث نمبر: 25568
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ پر نظر نہیں ڈالی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام مولاة لعائشه
حدیث نمبر: 25569
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَيُصْبِحُ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حماد
حدیث نمبر: 25570
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ ، تَرَكَ عَمَلَهُ ، وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ " ، فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ ، حَمِدَ اللَّهَ ، وَإِنْ مَطَرَتْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہی ہوتے اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ ! موسلادھار اور نفع بخش۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25571
حَدَّثَنَا عبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
حدیث نمبر: 25572
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ؟ فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5585، م: 2001
حدیث نمبر: 25573
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالا ن کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7549
حدیث نمبر: 25574
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ . قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَيَأْمُرُ الَّذِي يَسُوقُهَا لَهُ مِنْ مَعْلَمٍ قَدْ أَمَرَهُ فَيُقَلِّدُهَا ، وَلَا يَزَالُ مُحْرِمًا حَتَّى يُحِلَّ النَّاسُ . قَال : فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ : " لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہاں ایک آدمی جو خانہ کعبہ کی طرف ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے اور لے جانے والے سے کوئی علامت مقرر کرلیتا ہے، اس کے گلے میں قلادہ باندھتا ہے اور جب تک لوگ حلال نہیں ہوجاتے وہ بھی محرم بن کر رہتا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کی ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے یہاں تک کہ لوگ واپس آجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 25575
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ ، فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا، اس لئے جو چاہے پڑاؤ کرلے اور جو چاہے نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
حدیث نمبر: 25576
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ؟ قَرَأَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے سامنے تلاوت فرمایا اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2084، م: 1580
حدیث نمبر: 25577
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا ، وَمَا يُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 25578
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ . وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى ، إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 294، م: 1211