حدیث نمبر: 25499
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُهُمَا " ، قَالَتْ : فَأَظُنُّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِنَحْوٍ مِنْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فجر کی سنتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں مختصر پڑھتے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس میں سورت کافرون سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: فأظنه كان ... وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25500
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِخَلَائِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ بِهِ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فيه، راجع: 25063
حدیث نمبر: 25501
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طوری پر وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن ابن سيرين لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25502
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ الْقَصَّابَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا ، فَإِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ قَامَ ، فَقَرَأَ قَدْرَ عَشْرِ آيَاتٍ ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يرَكَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو کر دس یا زیادہ آیات پڑھتے پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25503
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرْدٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ بَابُنَا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَاسْتَفْتَحْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ جا کر کھڑے ہوجاتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، على بن عاصم ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 25504
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ مَرْدُودٌ ، وَإِنْ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں موجود نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہوگی، اگرچہ سینکڑوں مرتبہ اسے شرط ٹھہرا لیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 25505
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا كُنْتُ أَدْعُو بِهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، أَوْ : مَا كُنْتُ أَسْأَلُهُ ؟ قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، على بن عاصم ضعيف ولكن تابع
حدیث نمبر: 25506
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ الْعَصْرَ فَالْتَفَتَ ، فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ ، فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ ، فَجَلَسَ مَعَهُ ، قَالَ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا ، وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا ؟ قَالَ : ذَاكَ مَا يُفْتِيهِمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا ؟ قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا ، قَالَ : فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ ، أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا ؟ فَقَالَتْ : لَمْ يَحْفَظْ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَذِهِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي ، فَسَأَلْتُهُ ، قُلْتُ : إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا ؟ قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ ، فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَأَتَانِي بِلَالٌ ، فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا " . قَالَ : فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا ؟ فَلَا نَدَعُهُمَا ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد انہوں نے کچھ لوگوں کو نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا، وہ اندر چلے گئے، اسی اثناء میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے جن کے ہمراہ میں بھی تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ساتھ تخت پر بٹھایا اور ان سے پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے جو میں نے لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کا حکم دیتے ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس کا فتویٰ دیتے ہیں، اتنے میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر ! آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں یہ نماز پڑھی ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی دو رکعتیں ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ ابن زبیر صحیح طرح یاد نہیں رکھ سکے، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یہاں عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسیم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑ نا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے ؟ واللہ میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت ہی کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وشيخه حنظلة
حدیث نمبر: 25507
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں کہتے تھے اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے ! تو بہت بابرکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، على بن عاصم توبع، م: 592
حدیث نمبر: 25508
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ ، أَنْ يَقُولَ قَبْلَ مَوْتِهِ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ " . قَالَتْ : وَكَانَ يُكْثِرُ ، أَنْ يَقُولَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَنِي ، أَنِّي سَأَرَى عَلَمًا فِي أُمَّتِي ، وَأَنِّي إِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعَلَمَ أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرَهُ ، فَقَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! میں آپ کو کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی وجہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا پوری سورت تلاوت فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، على بن عاصم توبع، م: 484
حدیث نمبر: 25509
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ ، قَالَ : فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ نَسْأَلُهُمَا عَنِ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ ، قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَ : فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا : قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ ، وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ " ، قَالَ : وَقَالَتْ الْأُخْرَى : كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ ، ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ " . قَالَ : فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ ، وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ !.
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا، مروان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے خیال اور گمان پر فتویٰ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لأجل على وعبدالرحمن بن عتاب مبهم
حدیث نمبر: 25510
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ خَالِدٍ ، وَهِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ب ِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . وحَدَّثَنَا عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي عَلِيًّا ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ بِهِمَا ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں یہ سورتیں پست آواز سے پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: وكان رسول الله ﷺ يسير بهما وهذا إسناد منقطع وضعيف
حدیث نمبر: 25511
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ ، قَالَ : وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلَا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ عِرَاكٌ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ ، قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ " أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فيه
حدیث نمبر: 25512
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكِعَابُ مِنْ خِدْرِهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عید گاہ لے جایا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل علي
حدیث نمبر: 25513
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَفِيَّةَ ، تَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ حَفْصَةُ أَوْ هُمَا تَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہ سے یا دونوں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح على وهم فى إسناده ومتنه، م: 1490
حدیث نمبر: 25514
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجرَشيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَانْسَلَلْتُ ، فَقَالَ لِي : " أَحِضْتِ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكَ ، ثُمَّ عُودِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہوگئے، اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، سو میں پیچھے کھسک گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا ؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہوگئے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایام شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك. والوليد لم يدرك عائشه
حدیث نمبر: 25515
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِسَابِ الْيَسِيرِ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ ؟ فَقَالَ : " الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ ، ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ ، وَلَا يُصِيبُ عَبْدًا شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا ، إِلَّا قَاصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! میرا حساب آسان کردیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آسان حساب سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے، عائشہ ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہوجائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 25516
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ، وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 321
حدیث نمبر: 25517
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا ، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ " ، فَقُلْتُ : وَمَا هَذَا الْأَمْرُ ؟ قَالَتْ : فَتَلَا عَلَيَّ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أُشَاوِرُ أَبَوَيَّ ؟ ! بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ . قَالَتْ : فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ ، وَقَالَ : " سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهُ : فَلَا تُخْبِرْهُنَّ بِالَّذِي اخْتَرْتُ ، فَلَمْ يَفْعَلْ ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : " قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں کو کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری دوسری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی چیز کھوں گا، میں نے عرض کیا کہ آپ انہیں اس چیز کے متعلق نہ بتائیے گا جسے میں نے اختیار کیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور وہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بتا کر کہتے تھے کہ عائشہ نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا لیکن ہم نے اسے طلاق نہیں سمجھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح جعفر ابن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 25518
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ وَهِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى بَعْدَ أَنْ أَفَاضَتْ . قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ ، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَسَى أَنْ تَحْبِسَنَا " ، قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ ، قَالَ : " فَلْتَنْفِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں ہی ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہئیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح محمد بن إسحاق مدلس ولكن توبع، خ: 1772، م: 1211
حدیث نمبر: 25519
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُف ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا أَمَةً وَلَا عَبْدًا ، وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: ولا أمة ولا عبدا فإسناده حسن من أجل عاصم
حدیث نمبر: 25520
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتُجْزِئُ الْحَائِضُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَتْ : " أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قَدْ حِضْنَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَجْزِينَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ازواجِ مطہرات کو " ایام " آتے تھے تو کیا انہیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 321، م: 335
حدیث نمبر: 25521
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بن أبي إسحاق ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ : أَيُّ سَاعَةٍ تُوتِرِينَ ؟ لَعَلَّهُ ، قَالَتْ : مَا أُوتِرُ حَتَّى يُؤَذِّنُونَ ، وَمَا يُؤَذِّنُونَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، قَالَتْ : وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ ، وَعَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ ، فَإِنَّ بِلَالًا لَا يُؤَذِّنُ كَذَا قَالَ حَتَّى يُصْبِحَ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ وتر کس طرح پڑھتی ہیں ؟ شاید انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس وقت وتر پڑھتی ہوں جب مؤذن اذان دینے لگیں اور مؤذن طلوع فجر کے وقت اذان دیتے ہیں، نیز انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے، ایک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے عمروبن ام مکتوم رضی اللہ عنہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن ام مکتوم اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھا پی سکتے ہو، یہاں تک کہ بلال اذان دے دیں، تو ہاتھ اٹھا لیا کرو، کیونکہ بلال اس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک صبح نہیں ہوجاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، يونس بن أبى إسحاق ضعيف الرواية فى أبيه ولكن تابعه ابنه إسرائيل
حدیث نمبر: 25522
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، يونس بن أبى إسحاق ضعيف الرواية فى أبيه ولكن تابعه ابنه إسرائيل
حدیث نمبر: 25523
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ، قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1191
حدیث نمبر: 25524
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ يُحْرِمُ ، وَلِحِلِّهِ حِينَ يُحِلُّ ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1191
حدیث نمبر: 25525
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وصَخْرٌ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ ، إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا : لِحُرْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25526
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، وَيُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ ، وَعَطَاءً يذكرون ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْلَالِهِ وَعِنْدَ إِحْرَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عباد بن منصور توبع
حدیث نمبر: 25527
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25528
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: بعد أيام ، وهذا إسناد حسن لأجل حماد
حدیث نمبر: 25529
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ فَيُخَفِّفُهُمَا ، حَتَّى إِنِّي لَأَشُكُّ أَقَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَمْ لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25530
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَكْتَنِينَ " ، قَالَتْ : بِمَنْ أَكْتَنِي . قَالَ : " اكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ " . يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کوئی کنیت کیوں نہیں رکھ لیتیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کس کے نام پر کنیت رکھوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
حدیث نمبر: 25531
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي ، قَالَ : " أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25532
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ الرِّبَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ جب سورة بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے سامنے تلاوت فرمایا اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2084، م: 1580
حدیث نمبر: 25533
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ وَأَعْتَقَ وَوَلِيِّ النِّعْمَةِ " ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ، فَخُيِّرَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے، جو غلام کو آزاد کرے اور اس کا خاوند آزاد تھا، سو اسے اختیار دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قولها: وكان زوجها حرا ه من قول أسود، خ: 2536، 6760
حدیث نمبر: 25534
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ يَوْمَ عِيدٍ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ أَطَّلِعُ مِنْ عَاتِقِهِ ، فَأَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهَا ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے، میں انہیں دیکھتی رہی اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا اسے چھوڑ دو ، کیونکہ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 25535
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے صفیہ بنت عبدالمطلب ! اور اے بنو عبدالمطلب، میں اللہ کے یہاں تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ مجھ سے جتنا چاہو مال لے لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 205
حدیث نمبر: 25536
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، يُقَالُ لَهُ : طَلْحَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ ، إِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ، قَالَ : " إِلَى أَقْرَبِهِمَا بَابًا مِنْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2259
حدیث نمبر: 25537
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ يَعْنِي ابْنَ حَنْطَبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پا لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع لأن المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25538
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا " . قَالَ سُفْيَانُ : عُلِمْنَ ، وَأَشُكُّ فِي الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: فى العبد والأمة فإسناده حسن من أجل عاصم