حدیث نمبر: 25459
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ . قَالَ : عَفَّانُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25460
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، قَالَتْ : أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے " ایام " اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 298
حدیث نمبر: 25461
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25462
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَبْقَى عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا إِلَّا فِي شَعْبَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالبهي اختلف فى سماعه من عائشة، خ: 1950، م: 1146
حدیث نمبر: 25463
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ ، بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا ، وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ ، فَإِنَّ قُرِيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے اور حطیم کی جانب سے چھ گز زمین بیت اللہ میں شامل کردیتا، کیونکہ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجل الراوي عن عائشة
حدیث نمبر: 25464
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ يَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً ، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سوجاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
حدیث نمبر: 25465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي ، فَلَا يَدَعُ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنا قلادہ باندھتے تھے، پھر میرے والد کے ساتھ اسے بھیج دیتے اور ہدی کا جانور ذبح ہونے تک کوئی حلال چیز نہ چھوڑتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1700، م: 1321
حدیث نمبر: 25466
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ خَالَتِهِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ " ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
حدیث نمبر: 25467
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک ان کے لئے عورتیں حلال نہیں کردی گئیں۔ فائدہ : دراصل یہ سورت احزاب کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ اب آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے، بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف لاختلاف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 25468
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، تَقُولُ : إِنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتِبَةً لِأُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَا ، فَأَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَهُمْ ، فَتُخْبِرَهُمْ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْتَاعَهَا ، فَأُعْتِقَهَا ، فَقَالُوا : إِنْ جَعَلْتِ لَنَا وَلَاءَهَا ابْتَعْنَاهَا مِنْهَا . فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمِرْجَلُ يَفُورُ بِلَحْمٍ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أَهْدَتْهُ لَنَا بَرِيرَةُ ، وَتُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " هَذَا لبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . قَالَتْ : وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهَا ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَارِي ، فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ ، وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ انصار کے کچھ لوگوں کی " مکاتبہ " تھی، میں نے اسے خرید نے کا ارادہ کیا اور اس سے کہا کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ میں تمہیں خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں، وہ کہنے لگے کہ اگر آپ اس کی ولاء ہمیں دینے کا وعدہ کریں تو ہم اسے آپ کو بیچ دیتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولا اسی کو ملتی ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو ہنڈ یا میں گوشت ابل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہاں سے آیا ؟ میں نے عرض کیا کہ بریرہ نے ہمیں ہدیہ دیا ہے اور اسے صدقہ میں ملا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بریرہ کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ غلام کے نکاح میں تھی، جب وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیتے ہوئے فرمایا کہ چاہو تو اسی غلام کے نکاح میں رہو اور چاہو تو جدائی اختیار کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: اختاري ... تفارقيه وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25469
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَبَسَطَ يَدَهُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ ، أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 25470
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیجے تھے، وہ ان کے پاس پہنچ چکے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1393
حدیث نمبر: 25471
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أبي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَائِشَة قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ عَائِشَةَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ دَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، فَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ : تُؤَجَّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے دو پہر گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع تشریف لے گئے، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 974
حدیث نمبر: 25472
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ الْقَاسِمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا ، فَهُوَ رَدٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 25473
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ " . قَالَ : وَسَمِعْتُهُ قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگر تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6465، م: 782
حدیث نمبر: 25474
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عام طور پر جرائم میں ملوث نہ ہونے والے افراد کی معمولی لغزشوں کی نظر انداز کردیا کرو، الاّ یہ کہ حدود اللہ کا معاملہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث جيد بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 25475
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ : التَّارِكُ الْإِسْلَامَ ، وَالْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ " . قَالَ الْأَعْمَشُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصاً قتل کرنا پڑے یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کردے اور جماعت سے جدا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6878، م: 1676
حدیث نمبر: 25476
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 25477
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، أَنَّ عَائِشَة قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ : أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي ؟ قَالَ : قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ ، وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي . قَالَتْ : أَوَمَا عَلِمْتَ ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ ، إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ ، أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ ، أَوْ زَنَى ، بَعْدَمَا أُحْصِنَ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں ! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمرو بن غالب تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق
حدیث نمبر: 25478
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ مِنْ عَذْقِ نَخْلَةٍ ، فَمَاتَ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ لَهُ مِنْ نَسَبٍ أَوْ رَحِمٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا . قَالَ : " أَعْطُوا مِيرَاثَهُ بَعْضَ أَهْلِ قَرْيَتِهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25479
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى أَهْلِ قَرْيَتِهِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25480
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدُ لَبَّتْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1550
حدیث نمبر: 25481
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5646، م: 2570
حدیث نمبر: 25482
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ ، فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ الْأَمْرَ يَرْغَبُونَ عَنْهُ وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، واللہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6101، م: 2356
حدیث نمبر: 25483
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَرِضَ يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَنْفُثُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں " معوذات " پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 25484
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ أُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتَهُ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور انسانی ضرورت کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر نہ آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5925، م: 297
حدیث نمبر: 25485
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ ، إِثْمٌ فَإِذَا كَانَ فِيهِ إِثْمٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25486
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں اور ان میں سے ایک وتر پڑھتے تھے اور جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 25487
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ ، وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ ، وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
حدیث نمبر: 25488
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَبَقْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 25489
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ ، غَمَزَنِي بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : " تَنَحَّيْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں پر چٹکی بھر دیتے اور مجھے پیچھے ہٹنے کے لئے فرما دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو
حدیث نمبر: 25490
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، تِسْعًا قَائِمًا ، وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ " . يَعْنِي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَبَيْنَ الْإِقَامَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، نو رکعتیں کھڑے ہو کر اور دو بیٹھ کر، پھر صبح کی اذان سن کردو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25491
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ " ، قُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، وَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ ؟ قَالَتْ : " الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ لَهُمْ رَبَائِبُ ، فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گزارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
حدیث نمبر: 25492
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : " ائْتِينِي بِهَا " فَجِئْتُ بِهَا ، وَهِيَ مَا بَيْنَ التِّسْعِ أَوْ الْخَمْسِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ بِهَا وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ : " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ، أَنْفِقِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! وہ سونا کیا ہوا ؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں ؟ انہیں خرچ کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن عمرو
حدیث نمبر: 25493
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ : " إِنْ كُنْتُ لَأَتَّزِرُ ، ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب " ایام " سے ہوتی تو اپنی تہبند اچھی طرح باندھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 974
حدیث نمبر: 25494
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ ، ثُمَّ يَنَامُ ، فَإِذَا قَامَ ، اغْتَسَلَ ، وَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، ثُمَّ يَصُومُ بَقِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور وہ سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو غسل کرلیتے اور جس وقت باہر نکلتے تو ان کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے بقیہ حصے میں روزہ رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حجاج- إن كان ضعيفا - ولكن توبع
حدیث نمبر: 25495
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَبِمَ أَدْعُو ؟ قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25496
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخبرنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ ، وَصَلَّى خَلْفَهُ نَاسٌ بِصَلَاتِهِ ، ثُمَّ نَزَلَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ ، فَكَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ كَثُرُوا فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ ، غَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ ، فَلَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا فِي ذَلِكَ : مَا شَأْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَنْزِلْ ؟ فَسَمِعَ مَقَالَتَهُمْ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْكُمْ إِلَّا مَخَافَةَ ، أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ قِيَامُ هَذَا الشَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 924، م: 761
حدیث نمبر: 25497
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، بِمَ أَدْعُو ؟ قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، فَاعْفُ عَنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرمادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25498
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا ، وَلَا يَدَعُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑ تے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321