حدیث نمبر: 25379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا ، ثُمَّ أَفَاضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، فَغَسَلَ مَرَاقَّهُ ، حَتَّى إِذَا أَنْقَى أَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ ، ثُمَّ غَسَلَهَا ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الطَّهُورَ ، وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اچھی طرح دھوتے، شرمگاہ دھوتے، پھر دیوار پر ہاتھ مل کر اسے دھوتے، پھر وضو فرماتے تھے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، سماع محمد بن جعفر من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع بعبد الوهاب وهو ممن سمع منه قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 25380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 25381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأن محمد بن عمرو حسن الحديث
حدیث نمبر: 25382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَيَخْتِمُهَا بِالتَّسْلِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن جعفر توبع
حدیث نمبر: 25383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ، فَنَفْتِلُ لَهَا قَلَائِدَهَا ، ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
حدیث نمبر: 25384
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : " تَقُولِينَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، فَاعْفُ عَنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ بتایئے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ . وَيَزِيدُ ، قَالَ . وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى ؟ قَالَتْ : " لَا ، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ " قَالَ : قُلْتُ : أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا ؟ قَالَتْ : " بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ " قَالَ : قُلْتُ : أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ ؟ فَقَالَتْ : " الْمُفَصَّلَ " قَالَ : قُلْتُ : أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ ؟ قَالَتْ : " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ ، وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ " . قَالَ يَزِيدُ : يَقْرِنُ ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الاّ یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آتے، میں نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سورتیں نماز میں پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا مفصلات، میں نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہینہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو اور یہ معمول تا دم آخر چلتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 717
حدیث نمبر: 25386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا ، وَكَانَ مِنْهُ صُعُوبَةٌ ، فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ ، فَإِنَّهُ لَا يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہوئیں جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2594
حدیث نمبر: 25387
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، فَيُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ ، حَتَّى أَقُولَ : دَعْ لِي ، دَعْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 25388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : قَالَتْ : " نَعَمْ ، وَيُزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 25389
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ فَقَالَتْ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ، قَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 25390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ ؟ قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ : " إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَانِدٌ ، وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ ، وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا ، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا ، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : غُسْلًا وَاحِدًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک دشمن رگ کا خون ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف
حدیث نمبر: 25392
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرٌ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " أَخِّرِيهِ عَنِّي " ، قَالَتْ : فَأَخَّرْتُهُ ، فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اسے دور کرو، چنانچہ میں نے اسے وہاں سے ہٹا لیا اور اس کے تکیے بنا لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2107
حدیث نمبر: 25393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا ، فَذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ وَخُيِّرَتْ " . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا . قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا ؟ فَقَالَ : لَا أَدْرِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولاء اپنے لئے مشروط کرلی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کرو، کیونکہ غلام کی وراثت اس کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے تمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد آدمی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2578، م: 1075
حدیث نمبر: 25394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 25395
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : " كَانَ يَخْرُجُ مَعَ خَالِهِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَائِشَةَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے جاتے تھے اور ان کے گھر میں داخل ہوجاتے تھے، راوی نے پوچھا کہ ابراہیم نخعی ان کے یہاں کیسے چلے جاتے تھے ؟ انہوں جواب ملا کہ وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے اور اسود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان عقد مواخات و مودت قائم تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
حدیث نمبر: 25396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، أَقُولُ : يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25397
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح على خطأ فى اسم أحد رواته، وهم شعبة فى اسم خالد بن علقمة فسماه هنا مالك ابن عرفطة، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25398
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5646، م: 2570
حدیث نمبر: 25399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : قُلْنَا لِعَائِشَةَ ، إِنَّ فِينَا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ ؟ ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ ؟ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَتْ : " كَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مسرق حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی ہیں، ان میں سے ایک صحابی افطار میں بھی جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی، جبکہ دوسرے صحابی افطار میں بھی تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی " انہوں نے فرمایا کہ افطار اور نماز میں عجلت کون کرتے ہیں ؟ ہم نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سليمان
حدیث نمبر: 25400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ ، مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے اور پاکیزہ کمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 25401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5264، م: 1477
حدیث نمبر: 25402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 25403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2572
حدیث نمبر: 25404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ . وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " . فَنَاوَلْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناداه صحيحان، م: 298
حدیث نمبر: 25405
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 25406
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ " ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَة .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں اس کا کوئی مقام و مرتبہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 6054، م: 2591
حدیث نمبر: 25407
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : أَنْتُنَّ اللَّاتِي تَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ سِتْرًا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ حَجَّاجٌ : إِلَّا هَتَكَتْ سِتْرَهَا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر پنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25408
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 25409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُؤْتَى بِإِنَائِهِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَصُبُّ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى فَرْجِهِ فَيَغْسِلُهُ ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَيَغْسِلُهَا ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ ، وَيَسْتَنْشِقُ ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو پہلے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرمگاہ کو اچھی طرح دھوتے، پھر اس ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے، تین مرتبہ چہرہ دھوتے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے، تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن، سمع شعبة من عطاء قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 25410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ ، فَتَتَّزِرُ ، ثُمَّ يُضَاجِعُهَا " . قَالَ هَذَا بالْمُبَارَكِ ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 302، م: 293
حدیث نمبر: 25411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ، ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 25412
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ ، كَرِهْتُ أَنْ أَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب میں وہاں سے اٹھنا چاہتی اور سامنے سے گذرنا اچھا نہ لگتا تو میں کھسک جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 511، م: 512
حدیث نمبر: 25413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَتْ دِيمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، لِعَائِشَةَ : إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ قَالَتْ : إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ کے پاس آپ کا غلام بےجھجک آتا ہے، لیکن مجھے اس کا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا، انہوں نے فرمایا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں آپ کے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے، حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے یہاں سالم کے آنے جانے سے (اپنے شوہر) ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے یہاں آسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1453
حدیث نمبر: 25416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْروِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كَانَتْ إِحْدَانَا حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ، ثُمَّ تَدْخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 301، م: 293
حدیث نمبر: 25417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا ، وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ ، وَلَا يُجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور درگذر فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25418
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . قَالَ بَهْزٌ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ ، فَكَأَنَّهُ غَضِبَ ، فَقَالَتْ : إِنَّهُ أَخِي ، قَالَ : " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، محسوس ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5102، م: 1455