حدیث نمبر: 25339
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ . قَالَتْ : فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ وَهُوَ مَعِي فِي الْمِرْطِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ ، فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، وَجَلَسَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ ، فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُثْمَانُ ، فَكَأَنَّكَ احْتَفَظْتَ ؟ ، فَقَالَ : " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي لَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، خَشِيتُ أَنْ لَا يَقْضِيَ إِلَيَّ حَاجَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ میں ان کے ساتھ ایک چادر میں بیٹھی ہوئی تھی، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ سے ابوبکروعمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں، اگر میں انہیں اسی حال میں آنے کی اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت (جس کے لئے وہ آئے تھے) پوری نہ کر پاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه خطأ والصحيح عن الزهري عن يحيى بن سعيد عن أبيه عن عائشة، م: 2402
حدیث نمبر: 25340
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي زَوْجًا وَلِي ضَرَّةً ، وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي ، أَقُولُ : أَعْطَانِي كَذَا ، وَكَسَانِي كَذَا ، وَهُوَ كَذِبٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ ! میری شادی ہوئی ہے لیکن میرے شوہر کی ایک دوسری بیوی یعنی میری سوکن بھی ہے، بعض اوقات میں اپنے آپ کو اپنے شوہر کی طرف سے اپنی سوکن کے سامنے بڑا برا ظاہر کرتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ اس نے مجھے فلاں چیز دی اور فلاں کپڑا پہنایا تو کیا یہ جھوٹ ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ ملنے والی چیز سے اپنے آپ کو سیراب ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2129
حدیث نمبر: 25341
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25342
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً ، تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ ، سُرِّيَ عَنْهُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ إِلَى رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم باربار گھر میں داخل ہوتے اور باہر جاتے اور آگے پیچھے ہوتے، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں دردناک عذاب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
حدیث نمبر: 25343
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَقْرَأُ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا انہیں آل داؤد کی خوش الحانی کا ایک حصہ دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري، راجع، 24097
حدیث نمبر: 25344
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ : سَأَلَهَا رَجُلٌ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ مِنَ اللَّيْلِ إِذَا قَرَأَ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، رُبَّمَا رَفَعَ ، وَرُبَّمَا خَفَضَ " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً . قَالَ : قَالَ : فَهَلْ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنَ اللَّيْلِ ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی نے پوچھا یہ بتائیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں ؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری ؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 25345
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فَإِذَا فَجَرَ الْفَجْرُ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 25346
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا ضَعُفَ ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے اور پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے، جب وہ کمزور ہوگئے تو سات رکعتوں پر وتر بناتے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت حاضر ہوئے۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات نماز پڑھتے، ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے، پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے، پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25347
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ وَكَانَ جَارًا لَهُ أَخْبَرَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ ، وَيَدْعُو ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ ، فَيَقْعُدُ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ ، وَيَدْعُو ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25348
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 25349
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25350
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى " . قَالَ : قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : " لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ ، وَإِنَّهُ لَيُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ " . قَالَتْ : " وَكَانَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اسی وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے ( اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 25351
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ وَهِيَ دُونَ قِرَاءَتِهِ الْأُولَى ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوی میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شمس و قمر کو کسی کی موت یا حیات سے گہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم یہ دیکھو تو نماز کی طرف فورا متوجہ ہوجایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1058، م: 901
حدیث نمبر: 25352
قال مَعْمَرٌ ، وَأَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَ هَذَا وَزَادَ ، قَالَ : فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَتَصَدَّقُوا وَصَلُّوا.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
حدیث نمبر: 25353
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْهَا : " أَنَّهُمَا شَرَعَا جَمِيعًا وَهُمَا جُنُبٌ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 25354
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ ، وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہارے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2996
حدیث نمبر: 25355
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْمُعْتَكِفِ وَكَيْفَ سُنَّتُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2026، م: 1172
حدیث نمبر: 25356
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ ، كَكَسْرِهِ وَهُوَ حَيٌّ " . قَالَ : يَرَوْنَ أَنَّهُ فِي الْإِثْمِ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَظُنُّهُ قَوْلَ دَاوُدَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 25357
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهَا أَرْسَلَتْ هِيَ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ مُرُّوا بِهِ عَلَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى عَلَيْهِ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ : " أَلَا تَعْجَبُونَ مِنَ النَّاسِ حِينَ يُنْكِرُونَ هَذَا ، فَوَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَهْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 973
حدیث نمبر: 25358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ : يُحَدِّثُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ الْمَوْتُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَمِعْت أَبِي يَقُولُ : هَذَا الْحَدِيثُ هُوَ هَكَذَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَفِي الِاعْتِكَافَِ وَحْدَهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتی کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 2026، م: 1172
حدیث نمبر: 25359
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا قَطُّ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زیبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں جب بھی عصر کے بعد آئے، تو دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 593
حدیث نمبر: 25360
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ . وابن بكر ، قَالَ : قال : عبيد اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : سَمِعْتُ أَهْلَ عَائِشَةَ يَذْكُرُونَ عَنْهَا ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْإِنْصَابِ لِجَسَدِهِ فِي الْعِبَادَةِ ، غَيْرَ أَنَّهُ حِينَ دَخَلَ فِي السِّنِّ وَثَقُلَ مِنَ اللَّحْمِ ، كَانَ أَكْثَرُ مَا يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم کو عبادت میں بہت زیادہ تھکا دیتے تھے، البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھنے لگی اور جسم مبارک گوشت سے بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس ابن جريج ولابهام أهل عائشة
حدیث نمبر: 25361
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى كان يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھنے لگی اور جسم مبارک گوشت سے بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 732
حدیث نمبر: 25362
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ، فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الْمُقْبِلَةَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ نَاسٌ كَثِيرٌ حَتَّى كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى ، فَصَلَّوْا مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ ، اجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّى كَادَ الْمَسْجِدُ يَعْجَزُ عَنْ أَهْلِهِ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ ، قَالَتْ : حَتَّى سَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ ، يَقُولُونَ : الصَّلَاةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ ، فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمْ اللَّيْلَةَ ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجَزُوا عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، صبح ہوئی تو لوگوں نے ایک دوسرے سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کو گھر سے نکلے تھے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھی تھی، چنانچہ اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق باہر تشریف لائے اور نماز پڑھنے لگے، لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز، نماز " کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کی گواہی دی اور امابعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوچلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 924، م: 761
حدیث نمبر: 25363
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى " . قَالَ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا . وَكَانَتْ تَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرمادیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 25364
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ بِأَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ أَمَامَ الصُّبْحِ " ، سَمِعْتُ هَذَا مِنْ عَطَاءٍ مِرَارًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کو اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1169، م: 724
حدیث نمبر: 25365
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْمَاهِرُ فِي الْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَؤه وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ ، يَتَتَعْتَعُ فِيهِ لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 25366
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ " ، قَالَتْ : فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا . قَالَتْ : فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کا خاوند آزاد آدمی تھا، جب بریرہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خیار عتق دے دیا، اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں کہ اس کے مالک اسے بیچنا چاہتے تھے لیکن ولاء کی شرط نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وقوله: وكان زوجها حر "من قوله اسود، خ: 2536، م: 6754
حدیث نمبر: 25367
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، اگر وہ آزاد ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ کو کبھی اختیار نہ دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1504
حدیث نمبر: 25368
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْمِخْضَبَ ، فَيَغْتَسِلُ مِنْهُ مِنَ الْجَنَابَةِ بَعْدَمَا يُصْبِحُ ، ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ ذَلِكَ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹب کے پاس آکر اس سے غسل فرماتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 25369
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پاس سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 25370
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مُغْتَسَلِهِ حَيْثُ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل خانے سے باہر نکل آتے تو اس کے بعد پاؤں دھوتے تھے ( کیونکہ غسل کرنے کی جگہ میں غسل کا پانی کھڑا ہوتا تھا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي الذى يروي عن الأسود بن يزيد
حدیث نمبر: 25371
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَكَانُ الْكَيِّ التَّكْمِيدُ ، وَمَكَانُ الْعِلَاقِ السَّعُوطُ ، وَمَكَانُ النَّفْخِ اللَّدُودُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا داغ کے ذریعے علاج کرنے کی بجائے، ٹکور کی جائے، گلے اٹھانے کی بجائے، ناک میں دوا ڈالی جائے اور جھاڑ پھونک کی بجائے منہ میں دوا ڈالی جائے، (یہ چیزیں متبادل کے طور پر موجود ہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إبراهيم وهو ابن يزيد، لم يسمع من عائشة ورواية مغيرة عن إبراهيم ضعيفة
حدیث نمبر: 25372
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ ، فَأُلْقُوا فِي الطُّوَى : عُتْبَةُ ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ ، وَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " جَزَاكُمْ اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ ، مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا قد جَيَّفُوا ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ ، أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں یعنی عقبہ اور ابوجہل وغیرہ کے پاس سے گذرے جنہیں کنویں میں پھینک دیا گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا اللہ تمہیں نبی کی قوم کی طرف سے بدترین بدلہ دے، یہ لوگ کتنے برے طریقے سے بھگانے والے اور کتنی سختی سے تکذیب کرنے والے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عنہھم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ان لوگوں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میری بات ان سے کچھ زیادہ نہیں سمجھ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 25373
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِغُ يَمِينَهُ لِمَطْعَمِهِ وَلِحَاجَتِهِ ، وَيُفْرِغُ شِمَالَهُ لِلِاسْتِنْجَاءِ وَلِمَا هُنَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ضروریات کے لے تھا اور بایاں ہاتھ استنجاء وغیرہ کرنے کے لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لأن إبراهيم لم يسمع من عائشة و رواية مغيرة عن إبراهيم ضعيفة
حدیث نمبر: 25374
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَهُوَ مُعْتَكِفٌ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى الْحُجْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، خ: 301
حدیث نمبر: 25375
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَأَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَافَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ایام کی حالت میں تہبند باندھ لیتی تھی اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاف میں گھس جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 25376
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ طَلَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ومختلف فيه، م: 1477
حدیث نمبر: 25377
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: ولا يمس ماء، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 25378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَبَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مُرُوا أَزْوَاجَكُنَّ ، أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ . قَالَ بَهْزٌ : مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، ہمیں خود بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح