حدیث نمبر: 25299
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29 دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَدَأَ بِي ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا ، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ ، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ؟ " قَالَتْ : قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ ، أنَّ أبوي لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ . قَالَتْ : فَقَرَأَ عَلَيَّ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 ، فَقُلْتُ : أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ ! فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4786، م: 1475
حدیث نمبر: 25300
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ الْمُؤْمِنَاتِ إِلَّا بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ سورة الممتحنة آية 12 وَلَا وَلَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کا امتحان اسی آیت سے کرتے تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا " جب آپ کے پاس مومن عورتیں آئیں "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7214، م: 1866
حدیث نمبر: 25301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَتْ : بَدَأَ بِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا ، وَإِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " . ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا ، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ حَتَّى بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ . قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی ؟ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا اس معاملے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1083، 1475
حدیث نمبر: 25302
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25303
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَأْتِينِي أَحْيَانًا لَهُ صَلْصَلَةٌ كَصَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، فَيَنْفَصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ ، وَذَلِكَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي صُورَةِ الرَّجُلِ أَوْ قَالَ : الْمَلَكِ فَيُخْبِرُنِي ، فَأَعِي مَا يَقُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغامِ الہٰی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2، م: 2333
حدیث نمبر: 25304
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6789، م: 1684
حدیث نمبر: 25305
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ يَهُودَ أن َيَأْخُذُوه بِذَلِكَ الْخَرْصِ ، أَمْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ ؟ وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالْخَرْصِ ، لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ ، قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَيُفَرَّقَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیبر کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تھے، جب کھجور کھانے کے قابل ہوجاتی تو وہ اس کا اندازہ لگاتے تھے، پھر یہودیوں کو اس بات کا اختیار دے دیتے تھے کہ وہ اس اندازے کے مطابق اسے لیتے ہیں یا مسلمانوں کو دیتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ پھل کھانے اور الگ کرنے سے پہلے زکوٰۃ کا حساب لگا لیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن ابن جريج لم يسمع هذا الحديث من ابن شهاب
حدیث نمبر: 25306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْهُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التَّمْرِ " ، وَقَالَ : " قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25307
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " . فَحِضْتُ ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي ؟ قَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي ، أَمْرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ عَنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ھدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 25308
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَهِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زیبر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میں بیمار ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کے لئے روانہ ہوجاؤ اور یہ شرط ٹھہرا لو کہ اے اللہ ! میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں تو نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناداه صحيحان، خ: 5089، م: 1207
حدیث نمبر: 25309
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ ، أُخْبِرَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " فَأُخْبِرَ أَنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ، فَأَمَرَهَا بِالْخُرُوجِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی للہ عنہا کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
حدیث نمبر: 25310
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحِدَأَةِ ، وَالْعَقْرَبِ ، وَالْفَأْرَةِ ، وَالْغُرَابِ ، وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 25311
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْفَأْرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 25312
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثم ركع ، فأطالَ الركوع جدًَّا ، وهو دون الركوع الأوَّل ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، وَهُوَ دُونَ القيامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ . فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا ، فَكَبِّرُوا ، وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا . يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ ، أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ . يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جنہیں کسی کی موت وحیات سے گہن نہیں لگتا، جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو اللہ کی کبریائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیا کرو، نماز اور خیرات کیا کرو، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے زیادہ کسی کو اس بات پر غیرت نہیں آسکتی کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی بدکاری کرے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بخد اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہوتا جو مجھ معلوم ہے تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
حدیث نمبر: 25313
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يا رَسُولُ اللَّهِ ، مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتُنَا . قَالَ : " أَوَلَمْ تَكُنْ أَفَاضَتْ " ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ " . فَنَفَرَ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طواف زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح على قلب فى متنه
حدیث نمبر: 25314
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى ، وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ . فَقِيلَ لَهَا : وَكَانَتْ اسْتَأْذَنَتْهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، إِنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَذِنَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کاش ! میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کرلیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 25315
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَيُخَفِّفُهُمَا ، حَتَّى أَقُولَ : هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25316
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَرْجِعُ نِسَاؤُكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ لَيْسَ مَعَهَا عُمْرَةٌ ؟ " فَأَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْبَطْحَاءِ ، وَأَمَرَهَا فَخَرَجَتْ إِلَى التَّنْعِيمِ " ، وَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَحْرَمَتْ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ أَتَتْ الْبَيْتَ ، فَطَافَتْ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَقَصَّرَتْ ، فَذَبَحَ عَنْهَا بَقَرَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤنگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خاطر بطحاء میں رک گئے اور اپنے بھائی عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم روانہ ہوگئیں، وہاں عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور قصر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے گائے ذبح کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25317
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 783
حدیث نمبر: 25318
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ ، كَيْفَ كَانَ صِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، وَلَمْ أَرَهُ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد
حدیث نمبر: 25319
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَرَوْحٌ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ . قَالَ رَوْحٌ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ ، يُوتِرُ بِسَجْدَةٍ ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کو نماز گیارہ رکعتوں پر مشتمل ہوتی تھی اور ایک رکعت پر وتر بناتے تھے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1140، م: 738
حدیث نمبر: 25320
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَبْطَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا حَبَسَكِ يَا عَائِشَةُ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ ، قَالَ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے میں تاخیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! تمہیں کس چیز نے رکے رکھا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے اچھی تلاوت کرنے والا نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ کا شکر جس نے میری امت میں تم جیسا آدمی بنایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 25321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ ، وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه و شاهده، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن مسروق
حدیث نمبر: 25322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ : الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا عورتیں پر بھی جہاد فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں قتال نہیں ہے یعنی حج اور عمرہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 25323
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیص اور عمامہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1271، م: 941
حدیث نمبر: 25324
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهُ : فَإِنَّهَا تَسْتَحِي ، فَتَسْكُتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، میں نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
حدیث نمبر: 25325
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : " حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ ، أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 25326
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أُنْكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا ، فَإِنْ اشْتَجَرُوا ، فَإِنَّ السُّلْطَانَ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہوجائے گا اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان
حدیث نمبر: 25327
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ يَطْلُبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 25328
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجِهَادِ ؟ فَقَالَ : " بِحَسْبِكُنَّ الْحَجُّ ، أَوْ قَالَ : جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 25329
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا " . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ ؟ قَالَتْ : " كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25330
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25331
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَتْ لِي : " رُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً.
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں سوجاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا بعض اوقات سونے سے پہلے غسل کرلیتے تھے اور بعض اوقات غسل سے پہلے سوجاتے تھے البتہ وضو کرلیتے تھے، میں نے کہا اس اللہ کا شکر ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 307
حدیث نمبر: 25332
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَكَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَأَخَذَتْهَا ، فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَتْ ، فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا ( اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح بإثبات عبدالله بن أبى بكر، خ: 1418، م: 2629
حدیث نمبر: 25333
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي ، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ مِنْ بَيْنِ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ ، الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشی صحن میں کرتب دکھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وہ کرتب دکھانے کے لئے اپنی چادر سے پردہ کرنے لگے، میں ان کے کانوں اور کندھے کے درمیان سر رکھے ہوئے تھی، پھر وہ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی واپس چلی گیئں، اب تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5190، م: 892
حدیث نمبر: 25334
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ ، فَيَأْتِينِي صَوَاحِبِي ، فَإِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْنَ مِنْهُ ، فَيَأْخُذُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَرُدُّهُنَّ إِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی، میری سہیلیاں آ جاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں اور جونہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6130، م: 2440
حدیث نمبر: 25335
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مِنْهُ بِالْمُعَوِّذَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں " معوذات " پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5735، م: 2192
حدیث نمبر: 25336
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْغَيْثَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25337
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم : " نِمْتُ ، فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَلِكَ الْبِرُّ ، كَذَلِكَ الْبِرُّ " . وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25338
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَرَضٍ ، أَوْ وَجَعٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِذَنْبِهِ ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ، أَوْ النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت یا بیماری پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572