حدیث نمبر: 25259
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ ، فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ ، وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جس شخص کو نرمی کا حصہ دیا گیا، اسے دنیا و آخرت کی بھلائی کا حصہ مل گیا اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی شہروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25260
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن من اجل الحارث
حدیث نمبر: 25261
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ ، فَقَسَمَ لِلْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فكَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ . قَالَ أَبِي : قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ : فَقَسَمَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25262
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَلَاتَانِ لَمْ يَتْرُكْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دو نمازیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشیدہ یا علانیہ کبھی ترک نہیں فرمائیں، عصر کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 592، م: 835
حدیث نمبر: 25263
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ سورة المؤمنون آية 60 يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَهُوَ يَخَافُ اللَّهَ ؟ قَالَ : " لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يُصَلِّي وَيَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يُخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت۔ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ ۔ کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بدکاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق ! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25264
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ ، فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ ، إِلَّا حُطَّتْ بِهِ عَنْهُ خَطِيئَةٌ ، وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے بار بار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو حَتَّى أَسْمَعَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَلَا تُعَاقِبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنْ آذَيْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی تاکہ میں بھی سن لوں کہ اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذه السياقة. رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 25266
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي ، وَفِي لَيْلَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25267
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَذَكَرَتْ شَيْئًا قَلِيلًا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِي وَلَا تُوعِي فَيُوعَى عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا تو وہ کچھ لے کر آیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25268
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُبَاعُ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ " . قَالَ أَبِي : خَارِجَةُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے پھلوں کو اس وقت تک نہ بیچا کرو جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوط نہ ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خارجة
حدیث نمبر: 25269
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ عُرُوقٌ " . أَوْ قَالَ : " عِرْقٌ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم بكر
حدیث نمبر: 25270
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل أسامة
حدیث نمبر: 25271
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضْرِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ " ، قَالَ : " وَسِهَامُ الْإِسْلَامِ : الصَّوْمُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَهُ ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَاءَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " وَالرَّابِعَةُ : لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَبْدٍ ذَنْبًا إِلَّا سَتَرَهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ " . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو، اس کی طرح نہیں کرے گا جس کا کوئی حصہ نہ ہو اور اسلام کا حصہ تین چیزیں ہیں، نماز، روزہ اور زکوٰۃ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کا سرپرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا اور تیسرے یہ کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اللہ اسے ان ہی میں شمار فرماتا ہے اور ایک چوتھی بات بھی ہے جس پر اگر میں قسم اٹھا لوں تو امید ہے کہ میں اس میں بھی حانث نہیں ہوں گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتا ہے، قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيبة الخضري
حدیث نمبر: 25272
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بیمار ہوتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں یہ پڑھ کر دم کرتے " اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں کہ وہ ہر بیماری سے آپ کو شفاء دے، حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے اور ہر نظر بد والے کے شر سے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم لم يسمع من عائشة، م: 2185
حدیث نمبر: 25273
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ ، فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا اسْتَاكَ قَبْلَ الْوُضُوءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی رات یا دن کے جس حصے میں بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة أم محمد
حدیث نمبر: 25274
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا ، فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2068، م: 1603
حدیث نمبر: 25275
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ إِذَا طَمِثْتُ شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارًا ، ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعَارَهُ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب " ایام " سے ہوتی تو اپنا تہبند اچھی طرح باندھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25276
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إنَّ الْغَلَّةَ بِالضَّمَانِ " . قال عبد الله : قال أبي : سَمِعْتُ مِنْ قُرَّانَ بْنِ تَمَّامٍ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِئَةٍ ، وَكَانَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ها هنا ، وَفِيهَا مَاتَ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف
حدیث نمبر: 25277
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور وہ برتن دونوں کے درمیان ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ، 250، م: 321
حدیث نمبر: 25278
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا أَلْفِيتُهُ بِالسَّحَرِ الْآخِرِ إِلَّا نَائِمًا عِنْدِي " . تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1133، م: 742
حدیث نمبر: 25279
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاخْتَنَثَهَا وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت کے پاس تشریف لے گئے، اس کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ لگا کر کھڑے کھڑے پانی پیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لأجل محمد بن مسلم
حدیث نمبر: 25280
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ ، ثُمَّ أُخِذَ عَنْهُ " . قَالَ الْقَاسِمُ : إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹا گیا تھا، بعد میں اسے ہٹا دیا گیا تھا، قاسم کہتے ہیں کہ اس کپڑے کا کچھ حصہ ان تک ہمارے پاس موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، الوليد بن مسلم مدلس ولكن صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 25281
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاغْتَسَلْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے ایک مرتبہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تو بعد میں غسل کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد أعله البخاري
حدیث نمبر: 25282
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالْقِدْرِ ، فَيَأْخُذُ الْعَرْقَ ، فَيُصِيبُ مِنْهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے تو اس میں سے ہڈی والی بوٹی نکالتے اور اسے تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اور نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25283
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ ، فَيُوضَعُ لَهُ الْإِنَاءُ فِيهِ الْمَاءُ ، فَيُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ ، فَيَغْسِلُهَا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْمَاءِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ ، فَيُفْرِغُ بِهَا عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا ، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ يَغْرِفُ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ ، فَيَصُبُّهَا عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوجاتا تو ان کے لئے پانی کا برتن رکھا جاتا اور وہ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے، پھر دائیں ہاتھ کو برتن میں داخل کر کے اس سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے اور شرمگاہ کو دھوتے، پھر تین مرتبہ کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر چہرہ اور دونوں بازو دھوتے، پھر تین چلو پانی لے کر سر پر بہاتے، پھر غسل کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25284
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 25285
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ ، أَرَى رَجُلًا يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ امْرَأَتُكَ ، فَأَكْشِفُهَا ، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ ، فَأَقُولُ : إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، يُمْضِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہارے تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5078، م: 2438
حدیث نمبر: 25286
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، وَكَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ سَجَدَاتٍ لَا يَجْلِسُ بَيْنَهُنَّ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے، ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتے تھے بلکہ آخر میں بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 25287
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، ثُمَّ يُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ احرام سے پہلے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے جس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1189
حدیث نمبر: 25288
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا ، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25289
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ . قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ لِي يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عُرْوَةَ : هِشَامٌ يُخْبِرُ بِهِ عَنِّي.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 25290
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ ، يُقَالُ لَهُ : طَلْحَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : تَنَاوَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : " وَأَنَا صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25291
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَنِعُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صالح الأسدي
حدیث نمبر: 25292
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25293
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ " تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 232
حدیث نمبر: 25294
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، صَامَهُ " وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ ، وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4504، م: 1125
حدیث نمبر: 25295
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَجَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت نکلے تو کالے بالوں کی ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2081
حدیث نمبر: 25296
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز جو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 25297
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَكَلَّمُوهُ ، فَكَلَّمَ أُسَامَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيها ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُسَامَةُ ، ألَا أَرَاكَ تُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو لوگوں سے عاریۃً چیزیں مانگتی تھی اور پھر بعد میں مکر جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کا ٹنے کا حکم دے دیا، اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اوس سلسلے میں ان سے بات چیت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسامہ ! کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود کے بارے بات کر رہے ہو ؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم سے پہلے لوگ صرف اس لئے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو لوگ اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کر لتیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخزومیہ عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3475، م: 1688
حدیث نمبر: 25298
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، قَالَتْ : كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ يُهِلُّ لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنَاةُ صَنَمٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ ، فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطُوفَ بِهِمَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کا یہ جو فرمان ہےإِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ کے متعلق مروی ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار کے لوگ " مناۃ " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص اس کا احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کیا حکم ہے ؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، اس لئے جو شخص حج یا عمرہ کرے، اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح