حدیث نمبر: 25219
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا ، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا ، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتْ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : كُلْنَ مِنْهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اہل خانہ میں سے کوئی فوت ہوجاتا تو جماعت کی عورتوں کے جانے کے بعد جب خاص ان کے گھر کی عورتیں رہ جاتیں تو وہ ایک ہانڈی چڑھانے کا حکم دیتیں جبس میں دلیا پکایا جاتا، پھر ثرید بنانے کا حکم دیتیں پھر اس دلیے کو ثرید پر ڈال کر فرماتیں اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دلیا مریض کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور غم کے اثرات کو دور کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5417، م: 2216
حدیث نمبر: 25220
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ ، قَالَ : " غُفْرَانَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو یوں کہتے " غُفْرَانَكَ ۔ " اے اللہ ! میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25221
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! جس طرح تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے، سیرت بھی اچھی کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25222
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِإِزَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25223
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَعْفُرَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ دَخَلَ الْمَنْزِلَ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ أَطْوَلَ مِنْهُمَا ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ لَا يَفْصِلُ فِيهِنَّ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، يَرْكَعُ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر گھر میں تشریف لے آتے تھے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، اس کے بعد اس کی نسبت لمبی دو رکعتیں مزید پڑھتے، پھر تین وتر پڑھتے اور ان میں وقفہ نہ کرتے۔ پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ جس میں بیٹھ کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھے بیٹھے ہی سجدے میں چلے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف لأجل يزيد، والحسن مدلس
حدیث نمبر: 25224
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ثَلَاثًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى قُبِضَ ، وَمَا رُفِعَ مِنْ مَائِدَتِهِ كِسْرَةٌ قَطُّ حَتَّى قُبِضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ان کے دستر خوان سے کبھی روٹی کا ٹکڑا نہیں اٹھایا گیا حتیٰ کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: وما رفع من مائدته..... وهذا اسناد ضعيف لاجل محمد بن طلحة
حدیث نمبر: 25225
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ، اهْدِنِي لِمَا اخْتَلَفْتُ فِيهِ مَنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " . .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز کس طرح فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے اے اللہ ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ! پوشیدہ ظاہر چیزوں کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کرسکتا ہے، ان اختلافی معاملات میں مجھے اپنے حکم سے صحیح راستے پر چلا، کیونکہ تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے۔ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے، اے اللہ ! میں شیطان مردود کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ تم بھی اللہ سے یہ پناہ مانگا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! شیطان کے ہمز نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " ہمز " سے مراد موت ہے جو بنی آدم کو آتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 770، عكرمة بن عمار ضعيف الرواية عن يحيى ولكن انتقى له مسلم هذا الحديث
حدیث نمبر: 25226
قَالَ قَالَ يَحْيَى : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ " . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل عكرمة
حدیث نمبر: 25227
قَالَ : قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا هَمْزُهُ وَنَفْخُهُ وَنَفْثُهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا هَمْزُهُ ، فَهَذِهِ الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ بَنِي آدَمَ ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَالْكِبْرُ ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 25228
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، قَالَ : أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ " . قَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكَ ، أَنْتَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا واللہ مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1110
حدیث نمبر: 25229
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَلِلْأَمَةِ " ، وَقَالَتْ : كَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25230
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل جابر، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25231
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ ؟ قَالَتْ : قَدْ كَانَ يَتَمَثَّلُ مِنْ شِعْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَيَقُولُ : " وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك وتمثل النبى صلى الله عليه وسلم بشعر ابن رواحة صحيح لغيره
حدیث نمبر: 25232
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، أَخْبَرَتْنِي أُمِّي ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي مِنَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم المبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 25233
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " الْقَرْنُ الَّذِينَ أَنَا فِيهِ ، ثُمَّ الثَّانِي ، ثُمَّ الثَّالِثُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے بہترین آدمی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ زمانہ جس میں میں ہوں، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2536
حدیث نمبر: 25234
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَبْغُضَ أُسَامَةَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ ، فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص کے لئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا مناسب نہیں ہے جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو، اسے چاہیے کہ اسامہ سے محبت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25235
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَإِنَّا لَجُنُبَانِ ، وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ ہم تو جنبی ہوتے ہیں لیکن پانی جنبی نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25236
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ، ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجائیں اور اس کے پاس گناہوں کا کفارہ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے غم میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل ليث وهو ابن أبى سليم
حدیث نمبر: 25237
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 25238
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كُنَّا مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى الْحُجْرَةِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ السِّوَاكِ أَوْ سِوَاكَهَا وَهِيَ تَسْتَنُّ . قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تَسْتَمِعِينَ ، مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَتْ : وَمَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ . قَالَتْ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَاللَّهِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمْرَةٍ أَوْ عُمْرَةً إِلَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعَهُ ، وَمَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ مسواک کر رہی تھی اور مجھے اس کی آواز آرہی تھی، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبد الرحمٰن پر رحم فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں (لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1777، م: 1255
حدیث نمبر: 25239
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25240
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ جَلَسَ حَتَّى أَقْضِيَ سُبْحَتِي لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عروہ سے فرمایا کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تعجب نہیں ہوتا ؟ وہ آئے اور میرے حجرے کی جانب بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیثیں بیان کرنے لگے اور میرے کانوں تک اس کی آواز آتی رہی، میں اس وقت نوافل پڑھ رہی تھی، وہ میرے نوافل ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے، اگر میں انہیں ان کی جگہ پر پا لیتی تو انہیں بات پلٹا کر ضرور سمجھاتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25241
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ ، إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْتَرَ مِنْهَا ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِنَّهُمَا يَقْتُلَانِ الصَّبِيَّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَيُغَشِّيَانِ الْأَبْصَارَ ، مَنْ تَرَكَهُمَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: اقتلوا الحيات كلهن وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 25242
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 25243
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انتہائی کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
حدیث نمبر: 25244
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ الْحَدِيثُ حَدِيثَ خُرَافَةَ ؟ فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ ، أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَمَكَثَ فِيهِنَّ دَهْرًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ ، فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ ، فَقَالَ النَّاسُ : حَدِيثُ خُرَافَةَ " . قَالَ أَبِي : أَبُو عَقِيلٍ هَذَا ثِقَةٌ ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازوج مطہرات کو رات کے وقت ایک کہانی سنائی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو خرافہ جیسی کہانی معلوم ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ " خرافہ " کون تھا ؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک آدمی تھا جسے زمانہ جاہلیت میں ایک جن نے قید کرلیا تھا اور وہ آدمی ایک طویل عرصے تک ان میں رہتا رہا، پھر وہ لوگ اسے انسانوں میں چھوڑ گئے اور اس نے وہاں جو تعجب خیز چیزیں دیکھی تھیں، وہ لوگوں سے بیان کیا کرتا تھا، وہاں سے لوگوں نے مشہور کردیا کہ " خرافہ کی کہانی ہے "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد ابن سعيد وللاختلاف عليه فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 25245
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَوُادُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ : التَّمْرِ وَالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5383، م: 2975
حدیث نمبر: 25246
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 25247
حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا دَوُادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 25248
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرْتْهُ ، أنه لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ . فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ . قَالَ : فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ ، وَلَمْ يَسْجُدْ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَسَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ، ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، حکم دیا، نماز کا اعلان کردیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالباً اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر "۔ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دوبارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة
حدیث نمبر: 25249
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا اگر قریش کے فخر و غرور میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ کے یہاں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25250
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعِقَّ عَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً ، وَعَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ ، وَأَمَرَنَا بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث العقيقة صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل حفصة بنت عبدالرحمن
حدیث نمبر: 25251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تُعَيِّرُ النِّسَاءَ اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَلَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَعْرِضَ نَفْسَهَا بِغَيْرِ صَدَاقٍ ؟ فَنَزَلَ ، أَوْ قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51 ، قَالَتْ : إِنِّي أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان عورتوں پر طعنہ زنی کرتی تھیں جو خود اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیتی تھیں اور ان کی رائے یہ تھی کہ کسی عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے آپ کو بغیر مہر کے پیش کردیتی ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
حدیث نمبر: 25252
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ قَالَ : " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، ثُمَّ يُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ ، فَأَعِي مَا يَقُولُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الہٰی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3215، م: 2333
حدیث نمبر: 25253
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عامر ابن صالح وهو متروك
حدیث نمبر: 25254
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النعمان ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ ، هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ ، لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ كَمَا انْبَسَطَ إِلَى الْآخَرِ ، وَلَمْ يَهَشَّ لَهُ كَمَا هَشَّ . فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَأْذَنَ فُلَانٌ ، فَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ، ثُمَّ هَشَشْتَ لَهُ ، وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ ، وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ بِهِ مَا صَنَعْتَ لِلْآخَرِ ؟ ! فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ اتُّقِيَ لِفُحْشِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، جب وہ چلا گیا تو ایک اور آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت اچھا آدمی ہے، لیکن جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کی طرح اس سے ہشاش بشاش ہو کر اس کی جانب توجہ نہ فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس اس طرح فرمایا : پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی اور دوسرے آدمی کے ساتھ اس طرح نہ کیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کیلئے چھوڑ دیا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون ذكر الرجل الآخر الذى قال فيه النبى ﷺ : نعم أبن العشير فإسناده حسن
حدیث نمبر: 25255
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا ، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبُكُمْ ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ ، وَتَسْتَنْصِرُونِي ، فَلَا أَنْصُرُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں کچھ گھٹن ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے، میں نے حجروں کے قریب ہو کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے لوگو ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعائیں قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد مانگو تو میں تمہاری مدد نہ کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم بن عمر، الصحيح فى عثمان بن عمرو، عمرو بن عثمان بن هاني
حدیث نمبر: 25256
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ يُحَدِّثُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صف میں تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25257
حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25258
حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ ، فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَةُ ؟ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3384