حدیث نمبر: 24499
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَصَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَمَرَتْ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يُمَرَّ بِهَا عَلَيْهَا ، فَمُرَّ بِهَا عَلَيْهَا ، فَبَلَغَهَا أَنْ قَدْ قِيلَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ , وَاللَّهِ " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24500
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ : إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
حدیث نمبر: 24501
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، اسْتَتِرِي مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنَّهَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّهَا مِنَ الشَّبْعَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے عائشہ ! جہنم کی آگ سے کوئی رکاوٹ تیار کرلو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو، کیونکہ کھجور بھی بھوکے آدمی کو سہارا دے دیتی ہے جو سیراب آدمی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله : استري ... بشق تمرة وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24502
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْت طَلْحَةَ تَذْكُرُ ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الْمُحْرِمُ يَتَطَيَّبُ ، فَذَكَرَتْ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ : " أَنَّهُنَّ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ ، قَدْ اضْطَمَدْنَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ، ثُمَّ يَغْتَسِلْنَ وَهُوَ عَلَيْهِنَّ ، يَعْرَقْنَ وَيَغْتَسِلْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سوید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عائشہ بنت طلحہ کے سامنے محرم کے خوشبو لگانے کا مسئلہ بیان ہو رہا تھا، انہوں نے بتایا کہ ام المومینن حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں، انہوں نے اپنے سر کے بال چپکا رکھے تھے اور یہ پٹی انہوں نے احرام سے پہلے باندھ رکھی تھی، پھر وہ اس پٹی کو سر پر باندھے باندھے غسل کرلیتی تھیں، انہیں پسینہ آتا تو وہ غسل کرلیتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24503
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهَا عَائِشَةُ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْجًا حَتَّى يَرَى غَيْمًا ، فَإِذَا أَمْطَرَ ذَلِكَ الْغَيْمُ ، ذَهَبَ ذَلِكَ الْهَيْجُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہیجان کے آثار کبھی نہیں دیکھے، ہاں ! اگر کوئی بادل نظر آجاتا (تو اس کے آثار واضح ہوتے) اور جب وہ بادل برس جاتا تو وہ اثرات بھی ختم ہوجاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24504
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : وَقَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا سَلَمَةَ ، اجْتَنِبْ الْأَرْضَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ ! زمین چھوڑ دو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2453، م: 1612
حدیث نمبر: 24505
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ أَخُو الْعَشِيرَةِ " ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف سے طرح متوجہ ہیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید بارگاہ رسالت میں اس کا بڑا اونچا مقام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى الأحوص
حدیث نمبر: 24506
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُحَنَّسَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کیا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں کے لئے ضرور آتے خواہ انہیں اپنے گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آنا پڑتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24507
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کا استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله بن معقل مجهول ولكن توبع
حدیث نمبر: 24508
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ ، وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، لأن خالد بن معدان لم يلق عائشة
حدیث نمبر: 24509
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَد : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَحَرَّى صَوْمَ شَعْبَانَ ، وَصَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24510
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
حدیث نمبر: 24511
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: راجع حديث: 4475
حدیث نمبر: 24512
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ إِذَا أُصِيبَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهَا ، فَتَفَرَّقَ نِسَاءُ الْجَمَاعَةِ عَنْهَا ، وَبَقِيَ نِسَاءُ أَهْلِ خَاصَّتِهَا ، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ ، فَطُبِخَتْ ، ثُمَّ أَمَرَتْ بِثَرِيدٍ فَيُثْرَدُ ، وَصَبَّتْ التَّلْبِينَةَ عَلَى الثَّرِيدِ ، ثُمَّ قَالَتْ : كُلُوا مِنْهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ التَّلْبِينَةَ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو جماعت کی عورتوں کے جانے کے بعد جب خاص ان کے گھر کی عورتیں رہ جاتیں تو وہ ایک ہانڈی چڑھانے کا حکم دیتیں جس میں دلیا پکایا جاتا، پھر ثرید بنانے کا حکم دیتیں پھر اس دلیے کو ثرید پر ڈال کر فرماتیں اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دلیا مریض کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور غم کے کچھ اثرات کو دور کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5417 م: 2216
حدیث نمبر: 24513
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، فَإِنَّهُمْ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . قَالَتْ : وَلَوْلَا ذَلِكَ ، أُبْرِزَ قَبْرُهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1330، م: 529
حدیث نمبر: 24514
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا ، فَاسْتَغَلَّهُ ، ثُمَّ وَجَدَ أَوْ رَأَى بِهِ عَيْبًا ، فَرَدَّهُ بِالْعَيْبِ ، فَقَالَ الْبَائِعُ : غَلَّةُ عَبْدِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک غلام خریدا، اسے اپنے کام میں لگایا، پھر اس میں کوئی عیب نظر آیا تو بائع (بچنے والا) کو واپس لوٹا دیا، بائع (بچنے والا) کہنے لگے کہ میرے غلام نے جتنے دن کام کیا ہے اس کی مزدوری ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، مسلم إن كان ضعيفاً ولكن تابعه غير واحد
حدیث نمبر: 24515
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : أُتِيتُ بِسَارِقٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ خَالَتِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنْ لَا تَعْجَلَ فِي أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ ، حَتَّى آتِيَكَ ، فَأُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مَنْ عَائِشَةَ فِي أَمْرِ السَّارِقِ . قَالَ : فَأَتَتْنِي وَأَخْبَرَتْنِي ، أنها سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْطَعُوا فِي رُبُعِ الدِّينَارِ ، وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ " وَكَانَ رُبُعُ الدِّينَارِ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ ، وَالدِّينَارُ اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا . قَالَ : وَكَانَتْ سَرِقَتُهُ دُونَ رُبُعِ الدِّينَارِ ، فَلَمْ أَقْطَعْهُ.
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن غسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو ابوبکر بن محمد بن عمرہ رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی جو اس زمانے میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک چور لایا گیا تو مجھے میری خالہ عمرہ بنت عبدالرحمن نے یہ پیغام بھجوایا کہ میرے آنے تک اس شخص کے معاملے میں عجلت نہ کر، میں تمہیں آکر بتاتی ہوں کہ چور کے حوالے سے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کیا حدیث سنی ہے، چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوتھائی دینار چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا کرو، لیکن اس سے کم میں نہ کاٹا کرو، اس زمانے میں چوتھائی دینار تین درہم کے برابر تھا اور ایک دینار بارہ درہم کے ہوتا تھا اور اس نے جو چوری کی تھی وہ چوتھائی دینار سے کم تھی لہٰذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6789، م: 1684
حدیث نمبر: 24516
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى دَوْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ , تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : أَسْبِغْ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن ! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24517
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 619، م: 724
حدیث نمبر: 24518
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قِيلَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، رُؤِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ! قَالَتْ : وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَاكَ ، لَمَا " صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ اے ام المومنین ! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24519
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، قَوْمُكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا " , قَالَتْ : فَلَمَّا جَلَسَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي ، قَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " قَالَتْ : تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَّتِكَ بِكَ لَحَاقًا . قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ : وَمِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا وَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : فَكَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " دَبًى يَأْكُلُ شِدَادُهُ ضِعَافَهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمْ السَّاعَةُ " قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : فَسَّرَهُ رَجُلٌ : هُوَ الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنو تیم کے لوگ مراد ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بیماری ہوگی جس میں مضبوط لوگ کمزوروں کو کھا جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24520
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدُمُهَا ، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ : وَقَاكِ اللَّهُ عذاب القبر . لَهَا الْيَهُودِيَّةُ , قَالَتْ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَعَمَّ ذَاكَ ؟ " قَالَتْ : هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا إِلَّا قَالَتْ : وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ . قَالَ : " كَذَبَتْ يَهُودُ ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَكْذَبُ ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَتْ : ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَاكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ ، مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَظَلَّتْكُمْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، بَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، أَيُّهَا النَّاسُ ، اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت کیا کرتی تھی، حضرت عائشہ اس کے ساتھ جب بھی کوئی نیکی کرتیں تو وہ انہیں یہ دعا دیتی کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان سے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ اس یہودیہ کے ساتھ میں جب بھی کوئی بھلائی کرتی ہوں تو وہ یہی کہتی ہے کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جھوٹی نسبت کردیتے ہیں قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہ ہوگا۔ تھوڑے عرصے بعد " جب تک اللہ کو منظور ہوا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت اپنے کپڑے اوپر لپیٹے ہوئے اس حال میں نکلے کہ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور بآ واز بلند فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا گئے ہیں، اے لوگو ! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے، اے لوگو ! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو اور عذاب قبر برحق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24521
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ أَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ " ، قَالَ يُونُسُ : إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اعتکاف کی حالت میں کسی ضرورت کی وجہ سے گھر میں داخل ہوتی اور وہاں کوئی شخص بیمار ہوتا تو میں محض گذرتے بڑھتے اس کی خیریت دریافت کرلیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا ضرورت گھر میں نہ آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 24522
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا ، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ ، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي ، فَعَلْتُ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا ، فَأَبَوْا ، وَقَالُوا : إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ ، فَلْتَفْعَلْ ، وَلْيَكُنْ لَنَا وَلَاؤُكِ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، قَالَتْ : ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَيْسَ لَهُ ، وَإِنْ شَرَطَ مِئَةَ مَرَّةٍ ، شَرْطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں ؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کرو دو ، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگالے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2561، م: 1504
حدیث نمبر: 24523
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُسْتَحَاضُ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي " فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : لَمْ يَأْمُرْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، إِنَّمَا فَعَلَتْهُ هِيَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام حبیبہ بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو ایک رگ کا خون ہے اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 334
حدیث نمبر: 24524
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ بُدْنِهِ ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی کا جانور بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
حدیث نمبر: 24525
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَذَكَرَتْ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْتَنْفِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
حدیث نمبر: 24526
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، قَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ بَعْضَ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے اور فرمایا دیکھو تو سہی، ابھی مجزز آیا تھا، اس نے دیکھا کہ زید اور اسامہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6770، م: 1459
حدیث نمبر: 24527
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْعَدَوِيَّةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث جيد
حدیث نمبر: 24528
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 24529
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤْنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24530
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهَا عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَرَعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ ، مِنَ الْخَمْسَةِ وَاحِدَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ پہلونٹھی کے بچے میں سے پانچ بکریاں ہوجائیں تو ایک بکری اللہ کے نام پر صدقہ کردی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن عثمان
حدیث نمبر: 24531
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَهُوَ حَبْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم کی ابتدائی سات سورتیں حاصل کرلے وہ بہت بڑا عالم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وهو مكرر: 24443
حدیث نمبر: 24532
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَعَكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى ، قَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ تَغَنَّى ، فَقَالَ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر کو جب بخار ہوا تو وہ کہنے لگے " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " حضرت بلال کو جب بخار کچھ کم ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھتے " ہائے ! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور شامہ اور طفیل میرے سامنے آسکیں گے، اے اللہ ! عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا فرما، جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24533
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ ، فَجَعَلَ يُطَأْطِئُ لِي مَنْكِبَيْهِ ، لِأَنْظُرَ إِلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، تاکہ میں بھی دیکھ سکوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24533
حدیث نمبر: 24534
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي سَائِبَةُ مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَصْنَعُونَ بِهَذَا الرُّمْحِ ؟ قَالَتْ : هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ نَقْتُلُهُنَّ بِهِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ ، كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندھیں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین ! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الأمر بقتل الوزغ صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة مولاة الفاكه
حدیث نمبر: 24535
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ غَيْرَ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْبَتْرَاءِ ، فَإِنَّهُمَا تَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ ، وَتَقْتُلَانِ أَوْلَادَ الْحَبَالَى فِي بُطُونِهِمْ ، فَمَنْ لَمْ يَقْتُلْهُمَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " , حَدَّثَنَا بِهِمَا حَسَينٌ جَمِيعًا , عَنْ جَرِيرٍ الْمَعْنَى ، وَالْإِسْنَادُ : عَنْ ، عَنْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ حدیث نمبر (٢٥٠٣٩ اور ٢٥٠٤٠) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24536
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عن النبي صلى الله عليه وسلم : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کے ساتھ تخلیق میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5954، م: 2107
حدیث نمبر: 24537
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ عِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ، وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 994، م: 736
حدیث نمبر: 24538
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ ، وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، ثُمَّ تُصَلِّي ، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ.
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش " جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں " سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ " معمول کے ایام " نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب جحش کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح