حدیث نمبر: 25179
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَوْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ ، فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ، ثُمَّ خَرَجَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالرزاق، خ: 198
حدیث نمبر: 25180
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : فَمَا تَبْتَغِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ : أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا افْتَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَّتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہوجائے، تو میں لوگوں کو نصیحت کردوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالنے لگے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 485
حدیث نمبر: 25181
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ " . فَكَانَ يُقَالُ لَهَا : أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ ، حَتَّى مَاتَتْ ، وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کے وصال تک انہیں " ام عبداللہ " کہا جاتا رہا، حالانکہ ان کے یہاں اولاد نہیں ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
حدیث نمبر: 25182
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِمْتُ ، فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ " ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَاكَ الْبِرُّ ، كَذَاكَ الْبِرُّ " . وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں، نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں دراصل وہ اپنی والدہ کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25183
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَوْ غَيْرِهِ ، أَنَّ عَائِشَة َقَالَتْ : " مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَةَ ، فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنْه قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت بری نہ تھی بعض اوقات اگر کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بول دیتا تو یہ چیز اسے مستقل ملامت کرتی رہتی حتیٰ کہ پتہ چلتا کہ اس نے اس سے توبہ کرلی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25184
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِذَا انْصَرَفَ ، قَالَ لِي : " قُومِي فَأَوْتِرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے تھے، جب فارغ ہوجاتے تو مجھ سے فرما دیتے کہ کھڑے ہو کر وتر پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 744
حدیث نمبر: 25185
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ ، وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِيَ الْإِرْبَةِ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً . فَقَالَ : إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ ، أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْكُنَّ هَذَا " ، فَحَجَبُوهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آتا تھا، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسے عورتوں کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کی پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگئے، اس وقت وہ مخنث ایک عورت کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ اسے یہ باتیں بھی معلوم ہوں گی، اس لئے آج کے بعد یہ تمہارے پاس کبھی نہ آئے، چنانچہ ازواج مطہرات اس سے پردہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2181
حدیث نمبر: 25186
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ ، عَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرْفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " رَأَيْتِيهِ ؟ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک ترکی گھوڑے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر وهو العمري
حدیث نمبر: 25187
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءٌ أَوْ تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى الرِّيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مقام عالیہ کی کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھانے میں شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 25188
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا ، قَالَتْ : قِفْ بِي . فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ ، وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَآهَا ، قَالَتْ : أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ ، وَقالت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک آزاد کردہ غلام " جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری کو آگے سے ہانکتا تھا " کہتا ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کان میں کسی گھنٹی کی آواز پر جاتی جو آگے سے آرہی ہوتی تو وہ اس سے فرماتیں کہ روکو اور اتنی دیر تک انتطار کرتی رہتیں جب تک کہ وہ آواز آنا بند نہ ہوجاتی اور اگر وہ اسے دیکھ لیتیں تو فرماتیں کہ مجھ جلدی سے لے چلو، تاکہ میں اس کی آواز نہ سن سکوں اور فرماتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، جنات اس کے تابع ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة ، عبدالكريم غير منسوب فإن كان ابن مالك فهو ثقة وإن كان ابن أبى المخارق فهو ضعيف
حدیث نمبر: 25189
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُرْسَلُ عَلَى الْكَافِرِ حَيَّتَانِ وَاحِدَةٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، وَأُخْرَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، تَقْرِضَانِهِ قَرْضًا ، كُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کافر پر دو سانپ مسلط کئے جاتے ہیں، ایک اس کے سرہانے کی جانب سے اور ایک پاؤں کی جانب سے اور وہ دونوں اسے ڈستے ہیں اور جب فارغ ہوتے ہیں تو دوبارہ شروع ہوجاتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم محمد
حدیث نمبر: 25190
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ الْجُمُعَةِ ، وَالْجَنَابَةِ ، وَالْحِجَامَةِ ، وَغَسْلِ الْمَيِّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار چیزوں کی بناء پر غسل کیا جائے گا، جمعہ کے دن اور جنابت کی وجہ سے اور سینگی لگوانے کی وجہ سے اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل مصعب بن شيبة
حدیث نمبر: 25191
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُزَوَّجُ الْمَرْأَةُ لِثَلَاثٍ : لِمَالِهَا وَجَمَالِهَا وَدِينِهَا ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے تین وجوہات کی بناء پر شادی کی جاتی ہے اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، اللہ تمہارا بھلا کرے تم دین والی کو ترجیح دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25192
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا قِيلَ لَهُ : إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
حدیث نمبر: 25193
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا ، فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ " فَقَالَتْ : مَا هُوَ ؟ قَالَتْ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ . . . . . . . إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ سورة الأحزاب آية 28 - 29 الْآيَةَ كُلَّهَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَتْ : فَفَرِحَ لِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25194
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ ، وَخُلِقَتْ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ ، وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہاے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2996
حدیث نمبر: 25195
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَة َقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
حدیث نمبر: 25196
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة ابن ثوبان
حدیث نمبر: 25197
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ ، دَخَلْتُ الْبَيْتَ ، فَأَخْشَى أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ ، فَلَا يَسْتَطِيعُ دُخُولَهُ ، فَيَرْجِعُ وَفِي نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو فرمایا میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25198
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَة َقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسَاءَ بِالْكَلَامِ بِهَذِهِ الْآيَةِ : عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَتْ : وَمَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الاّ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کرلیتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7214، م: 1866
حدیث نمبر: 25199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 25200
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 373
حدیث نمبر: 25201
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ مِنَ الْمَاءِ . قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی شخص نے پوچھا کہ مرد و عورت کے درمیان تعلقات پر غسل کب واجب ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرماتے تھے جب انزال ہوجاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام الرجل من بني سوءة
حدیث نمبر: 25202
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ " أَوْ قَالَ : الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ . شَكَّ ابْنُ الْمُبَارَكِ . قَالَتْ : " وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سب سے پہلے سچے خوابوں کے ذریعے ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے صبح کی روشنی کی طرح اس کی تعبیر نمایاں ہو کر سامنے آجاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4953، م: 160
حدیث نمبر: 25203
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ : قُلْتُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَتْ : " رُبَّمَا رَفَعَ ، وَرُبَّمَا خَفَضَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری ؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25204
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْعَةٍ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 25205
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ ، لَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور دو رکعتیں پڑھ لیتے، غالباً وہ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه دون قولها: ويصلي ركعتين وصلاته الغداة وقد تفرد بها زهير
حدیث نمبر: 25206
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنے ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك ، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25207
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَّهُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ . قَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور فرماتے تھے کہ کیا یہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پوپھیاں نہیں ہوتیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صلاته وهى معترضة بين يديه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25208
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ جَمَعَ يَدَيْهِ ، فَيَنْفُثُ فِيهِمَا ، ثُمَّ يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ " . قَالَ عُقَيْلٌ : وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ! سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں جمع کرتے اور ان پر سورت اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر پھونکتے اور جہاں جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر ان ہاتھوں کو پھیر لیتے اور سب سے پہلے اپنے سر اور چہرے اور سامنے کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5017
حدیث نمبر: 25209
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَائِمًا ، وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آٹھ رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھیں، پھر دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھیں، جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1159
حدیث نمبر: 25210
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ ، فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا ، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ ، فَقُلْتُ : لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ . قَالَتْ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ : رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ جب کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہوگئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہوگیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2437
حدیث نمبر: 25211
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ، ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ ، فَأَنَا وَلِيُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص فرض کا بوجھ اٹھائے اور اسے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوت ہوجائے لیکن وہ قرض ادا نہ کرسکا ہو تو میں اس کا ولی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25212
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ ؟ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ وَقَعَ الطَّاعُونُ فِي بَلَدِهِ ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " طاعون " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنادیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوا اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3474
حدیث نمبر: 25213
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ ، أَوْ فِي جَنَازَةِ قَتِيلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، الاّ یہ کہ وہ مسجد میں ہو یا کسی شہید کے جنازے میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة ولجهالة الوليد
حدیث نمبر: 25214
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ . وَحُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ ؟ فَقَالَ : " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار جانوروں کی کھال کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی دباغت ہی ان کی طہارت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 25215
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ : " فُوَيْسِقٌ " . وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمْرَ بِقَتْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکلی کو (نقصان دہ) قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1831
حدیث نمبر: 25216
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعُثْمَانَ ، حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَاسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ ، فَجَلَسَ ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ : " اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ " فَقَضَيتُ إِلَيْهِ حَاجَتَي ثُمَّ انْصَرَفَ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ " . قَالَ لَيْثٌ : وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ : " أَلَا أَسْتَحِي مِمَّنْ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ؟ ! " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی آپ نے کپڑا سمیٹنے کے لئے فرمایا جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ سے ابوبکر و عمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں واللہ جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2401
حدیث نمبر: 25217
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابِسٌ مِرْطًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2402
حدیث نمبر: 25218
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ ، فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ ، فَقَالَ : لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَسَأَلَهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں سفر سے واپس آئے، ہم نے انہیں قربانی کا گوشت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ میں جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق خود نہ پوچھ لوں، اسے نہیں کھاؤں گا، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ذی الحجہ سے دوسری ذی الحجہ تک اسے کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يزيد