حدیث نمبر: 25139
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ ، فَطَلَبْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں سمجھی شاید اپنی کسی باندی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں کہ پروردگار ! میرے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25141
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ عُمَانِيَّانِ أَوْ قَطَرِيَّانِ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : إِنَّ هَذَيْنِ ثَوْبَانِ غَلِيظَين تَرْشَحُ فِيهِمَا ، فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ ، وَإِنَّ فُلَانًا قَدْ جَاءَهُ بَزٌّ ، فَابْعَثْ إِلَيْهِ يَبِيعُكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ ، فبعثَ إليهِ يبيعُهُ ثوبَيْن إلي المَيْسرة . قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبَيَّ أَي لَا يُعْطِينِي دَرَاهِمِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ شُعْبَةُ : أُرَاهُ قَالَ : " قَدْ كَذَبَ ، لَقَدْ عَرَفُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، أَوْ قَالَ : " أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا ، وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمان کے دو کپڑے تھے جو بہت موٹے تھے، انہوں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یہ دونوں کپڑے بہت موٹے ہیں، جب یہ گیلے ہوجاتے ہیں تو اور بھی وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں آدمی کے پاس کچھ کپڑے آئے ہیں، کسی آدمی کو اس کے پاس بھیج دیجئے کہ وہ آپ کو دو کپڑے فروخت کردے اور آپ کشادگی ہونے پر اسے ادائیگی کردیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس ایک آدمی کو بھیج دیا، وہ کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارادہ ہے، یہ چاہتے ہیں کہ میرے کپڑے لیجائیں اور مجھے میرے دراہم نہ دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اس نے غلط کہا، یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، بات میں سب سے زیادہ سچا اور امانت کو سب سے بڑھ کر ادا کرنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25142
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبٍّ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ " ، وَقَالَ : " إِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيُسْقِطَانِ الْوَلَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عن أبيه . وقال روح : قال : أخبرني أشعت بن سليم ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : الدَّائِمُ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : فَقُلْتُ : فَأَيُّ حِينٍ كَانَ يَقُومُ ؟ قَالَتْ : " إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے۔ میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس وقت قیام فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
حدیث نمبر: 25144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ " ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَثُ أَخِيرًا كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ وَطُهُورِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلا وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 25145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تحَدَّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيْضِ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا " ، قَالَتْ أَسْمَاءُ وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا ؟ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَطَهَّرِي بِهَا " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ : تَبْتَغِي أَثَرَ الدَّمِ . وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ : " تَأْخُذِينَ مَاءَِ فَتَطَهَّرِينَ ، فَتُحْسِنِينَ الطُّهُورَ ، أَوْ أَبْلِغِي الطُّهُورَ ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ سے " غسل حیض " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں " غسل جنابت " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 332
حدیث نمبر: 25146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ : " ٍٍسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1182
حدیث نمبر: 25148
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ ، غَمَزَنِي ، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُا ، وَالْبُيُوتُ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
حدیث نمبر: 25149
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍٍ ، فَصَلَّى جَالِسًا ، وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا رَكَعَ ، فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 688، م: 412
حدیث نمبر: 25150
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25151
وَقَالَ : وَقَالَ : عَنْ عَائِشَةَ : " كَانَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ ، وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں، اسی لئے وہ اس کے درمیان کی چیزوں کو چھوڑ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إسناد سابقه
حدیث نمبر: 25152
قَالَ : قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : " إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بعُمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نیک لوگوں کا تذکرہ کیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی تذکرہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر إسناده صحيح إسناد سابقه
حدیث نمبر: 25153
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7549
حدیث نمبر: 25154
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرَفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " رَأَيْتِيهِ ؟ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک ترکی گھوڑے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 25155
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فُلَيْتٍ ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ ، أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ ، فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَفَّارَتُهُ ؟ فَقَالَ : " إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ ، وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا۔ میں اپنے اوپر اور قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25156
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ بُصَاقًا أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھوک دیکھا تو اسے مٹی میں مل دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
حدیث نمبر: 25157
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ رَخَّصَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان
حدیث نمبر: 25158
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ ، فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ ، قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ " . قَالَ : ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ ، فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ ، فَقَالَ : جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ . قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ " . قَالَ : ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَخَرَجَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور جمرے کے پاس پہنچ کر ان سے جا ملا اور وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کے لئے جارہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ اور اسے کے رسول پر ایمان رکھتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے، اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی سوال پوچھا، اس مرتبہ اس نے اثبات میں جواب دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1817
حدیث نمبر: 25159
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ ؟ قَالَتْ : " بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ ، وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ ، وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعتوں پر وتر بناتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چار اور تین پر، چھ اور تین پر، دس اور تین پر، لیکن تیرہ رکعتوں سے زیادہ اور سات سے کم پر وتر نہیں بناتے تھے اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25160
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ؟ فَقَالَتْ : " كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ ، فَنَامَ ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ ، فَنَامَ " . قَالَ : قُلْتُ لَهَا : قَالَ : قُلْتُ لَهَا : كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ : " كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے تھے یا سونے کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا کبھی سونے سے پہلے غسل فرما لیتے تھے اور کبھی سونے کے بعد پھر میں نے یہ پوچھا کہ یہ بتایئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری ؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 307
حدیث نمبر: 25161
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ ، عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ صَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال رکھتے تھے کہ کسی دوسرے مہینے کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال نہیں رکھتے تھے اور چاند دیکھ کر روزہ رکھ لیتے تھے اور اگر آسمان ابر آلود ہوتا تو تیس دن کی گنتی پوری کر کے پھر روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25162
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كَتَبَ مَعِي مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهَا كِتَابَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنِّي كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ يَوْمًا مِنْ ذَاكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَبْعَثُ لَكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا " . فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلَا أُرْسِلُ لَكَ إِلَى عُمَرَ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا " ثُمَّ دَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ ، فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ : " يَا عُثْمَانُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُقَمِّصَكَ قَمِيصًا ، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ " ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ؟ فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، وَاللَّهِ لَقَدْ أُنْسِيتُهُ حَتَّى مَا ظَنَنْتُ أَنِّي سَمِعْتُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر میرے ہاتھ حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر وہ خط ان کے حوالے کیا تو وہ کہنے لگیں، بیٹا ! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں اور حفصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش ! ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو خاموش رہے، پھر فرمایا نہیں، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے کہا، تب بھی یہی ہوا، پھر ایک آدمی کو بلا کر کچھ دیر اس سے سرگوشی کی، تھوڑی ہی دیر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوگئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، عثمان ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا : اے ام المومنین ! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی ؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 25163
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25164
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " . قَالَ : وَقَالَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ : فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ : " لَهُمَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " . قَالَ : وَكَانَ قَتَادَةُ يَسْتَمِعُ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَيَقُولُ لَهُمَا : أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 725
حدیث نمبر: 25166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ مِنْ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ يَوْمَ بَدْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں پڑی ہوئی گھنٹیاں توڑ دی جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن جعفر توبع
حدیث نمبر: 25167
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بالغ لڑکی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے کہ وہ قبول نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25168
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الطِّيَرَةَ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ " . فَغَضِبَتْ غَضَبًا شَدِيدًا ، َطَارَتْ شُقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ ، وَشُقَّةٌ فِي الْأَرْضِ ، فَقَالَتْ : إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25169
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ ، إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے ہاہر ہوتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مجاهد لم يسمع هذا الحديث من عائشة
حدیث نمبر: 25170
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ ، فَذُهِبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقِيلَ : إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1493، م: 1504
حدیث نمبر: 25171
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْن عُمَيْرٍ قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ امْرَأَةٍ قَالَ عَفَّانُ : مِنْ عَجُوزَةٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ مِنْ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ . قَالَتْ : فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ تَمَعُّرًا مَا كُنْتُ أَرَاهُ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ ، أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَنْظُرَ أَرَحْمَةٌ أَمْ عَذَابٌ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہوگئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہوگیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2437
حدیث نمبر: 25172
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أخبرنا ابْنُ جُرَيجٍ ، أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ رَقَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ : " إِنَّهُ لَوَقْتُهَا ، لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " . وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : " أَنْ أَشُقَّ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اتنی تاخیر کردی کہ رات کا اکثر حصہ بیت گیا اور مسجد والے بھی سو گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو نماز عشاء کا صحیح وقت یہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 638
حدیث نمبر: 25173
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " فَقَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، تَرَى مَا لَا نَرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ۔ یا رسول اللہ ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3217، م: 2447
حدیث نمبر: 25174
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اجْتَمَعْت أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا : قُولِي لَهُ : إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَتْ : فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبِّينِي ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَحِبِّيهَا " . فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ لَهَا ، فَقُلْنَ : إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا ، فَارْجِعِي إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : هِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ ، وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَتْ : ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتُمُنِي ، فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ ، هَلْ يَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، قَالَتْ : فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا ، فَاسْتَقْبَلْتُهَا ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا ، قَالَتْ : فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا مِنْهَا ، وَأَكْثَرَ صَدَقَةً ، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ ، وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ زَيْنَبَ ، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ غَرْبٍ حَدٍّ كَانَ فِيهَا ، تُوشِكُ مِنْهَا الْفِيئَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیاری بیٹی ! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہونے والی گفتگو بتادی، جسے سن کر انہوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کرسکیں، آپ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کر دئیے (طعنے) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں ؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرادیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے اچھی، کثرت سے صدقہ کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی اور اللہ کی ہر عبادت میں اپنے آپ کو گھلانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، البتہ سوکن کی تیزی ایک الگ چیز ہے جس میں وہ برابری کے قریب آتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري
حدیث نمبر: 25175
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْهَا : أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ ، قَالَتْ : فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً ، فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ ، فَوَاللَّهِ مَا بَايَعَنَا إِلَّا عَلَى هَذَا ، قَالَتْ : فَنَعَمْ إِذًا ، فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے آیت بیعت کی شرائط پر بیعت لینا شروع کردی، اس پر فاطمہ نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں اے خاتون ! مطمئن رہو، واللہ ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انہی شرائط پر بیعت کی ہے، تو فاطمہ نے کہا کہ پھر صحیح ہے اور انہوں نے اس آیت کی شرائط پر بیعت کرلی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25176
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ مُوسى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ ، يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ، وَيَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 25177
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، إِيَّاكِ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! معمولی گناہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہوسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ ، وَإِنِّي لَفِي آخَرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا میں سمجھی کہ شاید اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ کہ رہے ہیں۔ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اس پر میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس حال میں ہیں اور میں کس سوچ میں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج