حدیث نمبر: 25099
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے تو وہ ناقص ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق وقد صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 25100
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فِي سَاعَةٍ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا ، فَرَاثَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَهُ بِالْبَابِ قَائِمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي انْتَظَرْتُكَ لِمِيعَادِكَ " ، فَقَالَ : إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا ، وَلَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ، وَكَانَ تَحْتَ سَرِيرِ عَائِشَةَ جِرْوُ كَلْبٍ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكِلَابِ حِينَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی وقت آنے کا وعدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت مقرہ پر ان کا انتظار کرتے رہے، لیکن جب وہ نہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلے، دیکھا کہ دروازے پر کھڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آپ کے وعدہ کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، انہوں نے جواب دیا کہ گھر کے اندر کتا موجود ہے اور ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویریں ہوں، دراصل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسی وقت باہر نکال دیا گیا اور صبح ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: "ثم أمر بالكلاب..... فقتلت" فصحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 25101
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، لَمْ أَرَهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا ، بَلْ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد
حدیث نمبر: 25102
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَصْبَغُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ الْجُرَشِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ وَبِمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ ؟ قَالَتْ : كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا ، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا ، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " عَشْرًا ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّيقِ يَوْمَ الْحِسَابِ " عَشْرًا .
مولانا ظفر اقبال
ربیعہ جرشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو کیا دعا پڑھتے تھے اور کس چیز سے آغاز فرماتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ تکبیر کہتے تھے، دس مرتبہ الحمد، دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ لا الہ الا اللہ اور دس مرتبہ استغفر اللہ کہتے تھے اور دوسری مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے اے اللہ ! مجھے معاف فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے، اے اللہ ! میں حساب کے دن کی تنگی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 25103
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ ، فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ وَكُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم رمی کر چکو اور سر کا حلق کروالو تو تمہارے لئے خوشبو، سلے ہوئے کپڑے اور دوسری تمام چیزیں " سوائے عورتوں کے " حلال ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: وحلقتم وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 25104
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ایام کی حالت میں ہوتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل حجاج
حدیث نمبر: 25105
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ، وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَته بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ قَامَ ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَيَخْرُجَ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے۔ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھا نے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25106
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا سب کو کفایت کرجاتا اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پرھ لیا کرے بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد منقطع لأن عبدالله بن عبيد لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25107
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : سَأَلَهَا أَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ " فَدَعَتْ بِمَاءٍ قَدْرَ الصَّاعِ ، فَاغْتَسَلَتْ وَصَبَّتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا اور غسل کرنے لگیں، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا، (اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 251، م: 320
حدیث نمبر: 25108
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر شرمگاہ کو دھوتے، پھر دونوں ہاتھ دھو کر کلی کرتے، ناک میں پانی ڈالتے اور سر پر پانی ڈالتے، پھر سارے جسم پر پانی بہاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سمع شعبة من عطاء قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 25109
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ : أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا ؟ قَالَتْ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ " قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم خارجی ہوگئی ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، 321، م: 335
حدیث نمبر: 25110
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ ، فَقُلْتُ : أَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ ؟ قَالَ : " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا : میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: لا تطعموهم مما لا تأكلون
حدیث نمبر: 25111
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ . وَعَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . قَالَ عَفَّانُ : وحَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَيَعْدِلُ . قَالَ عَفَّانُ وَيَقُولُ : " هَذِهِ قِسْمَتِي " ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی باریاں مقرر فرما رکھی تھیں اور وہ ان کے درمیان انصاف سے کام لیتے اور فرماتے تھے اے اللہ ! جتنا مجھے اختیار ہے اس کے اعتبار سے میں یہ کرلیتا ہوں، اب اس کے بعد جس چیز میں تجھے اختیار ہے اور مجھے کوئی اختیار نہیں، مجھے ملامت نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، الطرف الاول منه صحيح والثاني مرسل، انظر الارواء، حديث: 2018
حدیث نمبر: 25112
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَوُادَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، قال : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتَهَا عليه ، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ، أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا تَحَرَّجَ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 . قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا ، فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ جو فرمان ہے فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجے ! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے تو پھر آیت اس طرح ہوتیفَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار کے لوگ " منات " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص اس کا احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کا کیا حکم ہے ؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہٰذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1643، م: 1277
حدیث نمبر: 25113
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ ، فَقُلْتُ : وَارَأْسَاهْ ، فَقَالَ : " وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ ، فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ غَيْرَى : كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ . قَالَ : " وَأَنَا وَارَأْسَاهْ ، ادْعُوا ِلَيَّ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَيَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ : أَنَا أَوْلَى ، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہورہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ زندگی میں ہوجائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کرکے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے ؟ آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہائے میرا سر اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہے گا اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا کہ خلافت کا زیادہ مستحق میں ہوں اور اللہ اور تمام مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی کو نہیں مانیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5666، م: 2387
حدیث نمبر: 25114
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنوں یہاں تک کہ اپنے ہوش وحو اس میں آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 25115
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ : الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا أَوْ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا سورة المؤمنون آية 60 ؟ فَقَالَتْ : " أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ " فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، قَالَتْ : " أَيَّتُهُمَا ؟ " ، قَالَ : الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا ، فَقَالَتْ : " أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ، وَكَذَاكَ أُنْزِلَتْ وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حُرِّفَ " . .
مولانا ظفر اقبال
ابو خلف کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے ؟ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا۔ یا اس طرح ہے يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قرائتوں میں سے کون سی قرأت پسند ہے ؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرأت تو مجھے تمام دنیاو مافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی ؟ عبید نے عرض کیا الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا۔ انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں (دونوں کا مادہ ایک ہی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى خلف
حدیث نمبر: 25116
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 25117
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جُعِلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ صُوفٍ ، فَذَكَرَ بَيَاضَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَادَهَا ، فَلَمَّا عَرِقَ ، وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الصُّوفِ ، فَقَذَفَهَا " . قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَدْ قَالَتْ : كَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلاپن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25118
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى ، وهذا لفظ حديث يزيد لم يختلفوا في الإسناد والمعنى قَالَا : أخبرنا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا مُعَاذَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيَّةُ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ ، الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ ، وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے، اس میں ثابت قدم رہنے والا شہید کی طرح ہوگا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 25119
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً ، أَيْسَرُهُنَّ مَؤْنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل ابن سخبرة
حدیث نمبر: 25120
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاؤُوا اسْتَغْفَرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 25121
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضَرِيُّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَحَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ ، لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ ، وَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ : الصَّلَاةُ ، وَالصَّوْمُ ، وَالزَّكَاةُ ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ : لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ ، يَرْوِيهِ عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاحْفَظُوهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو، اس کی طرح نہیں کرے گا جس کا کوئی حصہ نہ ہو اور اسلام کا حصہ تین چیزیں ہیں، نماز، روزہ اور زکوٰۃ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کا سرپرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا اور تیسرے یہ کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اللہ اسے ان ہی میں شمار فرماتا ہے اور ایک چوتھی بات بھی ہے جس پر اگر میں قسم اٹھالو تو امید ہے کہ میں اس میں بھی حانث نہیں ہوں گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کی دنیا میں پردہ پوشی فرمایا ہے، قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيبة الخضري
حدیث نمبر: 25122
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَقَالَتْ لِي : هَلْ لَكِ إِلَى أَنْ تُرْضِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَأَجْعَلُ لَكِ يَوْمِي ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ اخْتَمَرَتْ بِهِ قَالَ عَفَّانُ : لِيَفُوحَ رِيحُهُ ، ثُمَّ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي يَوْمِهَا ، فَجَلَسَتْ إِلَى جَنْبِهِ ، فَقَالَ : " إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ فَلَيْسَ هَذَا يَوْمَكِ " ، فَقُلْتُ : فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ خَبَرِي . قَالَ عَفَّانُ فَرَضِيَ عَنْهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ عائشہ ! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! پیچھے ہٹو آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرمادے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے راضی ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة سمية
حدیث نمبر: 25123
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ الله " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 25124
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِاللَّبَنِ ، قَالَ : " كَمْ فِي الْبَيْتِ بَرَكَةً أَوْ بَرَكَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ پیش کیا جاتا تو فرماتے گھر میں کتنی برکتیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم سالم الرأسبية
حدیث نمبر: 25125
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4034، م: 1758
حدیث نمبر: 25126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَتْ : " صَلِّ ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَكَ أَهْلَ الْيَمَنِ عَنْ الصَّلَاةِ إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نماز عصر کے بعد قضاء نماز کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا پڑھ سکتے ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم یعنی اہل یمن کو طلوع آفتاب کے وقت نوافل پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مِنْ أَيِّهِ ؟ فَقَالَتْ : لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے راوی نے پوچھا کہ مہینہ کے کس حصے میں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ مہینے کے کس حصے میں رکھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1160
حدیث نمبر: 25128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى فِي مَسَاكِنَ لَهُ بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ لِإِنْسَانٍ ، فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ : اجْمَعْ ثَلَاثَةً فِي مَكَانِ وَاحِدٍ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا ، فَأَمْرُهُ رَدٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إستاده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 25129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ قَوْمًا . وَقَالَ الْخَفَّافُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 436، م: 531
حدیث نمبر: 25130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مُضْطَجِعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سعيد هو ابن أبى عروبة مدلس ومختلط ولكن توبع كما فى الرواية: 24642
حدیث نمبر: 25131
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ ، وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا ، قُلْتُ : رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْك عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ ، قَالَ : " وَرَأَيْتِيهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " . قَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ . قَالَ سُفْيَانُ : الدَّخِيلُ : الضَّيْفُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جواب دیا " وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ برکاتہ " اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل مجالد
حدیث نمبر: 25132
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " قَدْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنَّ بَعْضَ مِرْطِي عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل كثير بن أبى كثير
حدیث نمبر: 25133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ الدِّيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ ، عَنْ دَوُادَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السِّوَاكُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " . " وَفِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : " الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اور کلونجی میں " سام " کے علاوہ ہر مرض کی شفاء موجود ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم نے پوچھا یا رسول اللہ ! " سام " سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو حديثان: "السواك..... للرب" صحيح بطرقه، و فى الحبة السوداء.... فصحيح ايضا دون قوله: "يا رسول الله وما السام؟ فضعيف، وهذا اسناد ضعيف لاجل ابراهيم
حدیث نمبر: 25134
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ : " وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خبر کا انتظار ہوتا اور اس میں تاخیر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر طرفہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ " تیرے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تو نے زادراہ نہ دیا ہوگا۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
حدیث نمبر: 25135
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگاتے اور سو جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: "ولا يمس ماء" ، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 25136
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ لَمِيسَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ . قالت : قلت لها : المرأة تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا ؟ فَقَالَتْ : " أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا " ، قَالَتْ : وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّهْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ ، وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ ، فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ أو شدَّ الإزار وشَمَّر " .
مولانا ظفر اقبال
لمیس کہتی ہیں کی ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایک عورت اپنے شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے، انہوں نے فرمایا اپنے آپ سے اس چیز کو دور کرو جس کو اللہ تعالیٰ نظر کرم نہیں فرماتا، پھر ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خطاب کر کے " اماں جان " کہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں، بلکہ میں تو تمہاری بہن ہوں اور فرمایا کہ ماہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند اور نماز دونوں کام کرتے تھے اور جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوب محنت کرتے اور تہبند کس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ " أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَهَا : " قُولِي : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ ، أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ان کا ارادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کا تھا لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کامل چیزوں کو اختیار کرو، جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا مطلب پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو، اے اللہ ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتاہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کے رقیب کردینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25138
حدَّثناه عبد الصمد ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " عَلَيْكِ بِالْجَوَامِعِ الْكَوَامِلِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه