حدیث نمبر: 25019
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ ، عَاجِلِهِ وَآِجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تَقْضِيهِ لِي خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی ہے اے اللہ ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خوہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔
حدیث نمبر: 25020
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ ؟ قَالَتْ : " كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔
حدیث نمبر: 25021
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَنْ تَأْتَزِرَ ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25022
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ . قَالَ : " وَأَنَا صَائِمٌ " . قَالَتْ : فَأَهْوَى إِلَيَّ فَقَبَّلَنِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔
حدیث نمبر: 25023
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَوُادُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ ، وَالسَّمَوَاتُ ، وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " عَلَى الصِّرَاطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تبدل الارض غیر الارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔
حدیث نمبر: 25024
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا يَقُولُونَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ عروہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا عوت اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر، انہوں نے فرمایا پھر تو عورت بہت برا جانور ہوئی، میں نے تو وہ وقت دیکھا ہے جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 25025
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25026
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں تو دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 25027
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ , ومَسْرُوقًا ، يقولان : نشهد على عائشة أنها قَالَتْ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي يَوْمٍ ، إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
حدیث نمبر: 25028
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّها قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، وَعِنْدَنَا جَارِيَتَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثَ ، يَوْمٌ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عِبَادَ اللَّهِ ، أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ ! عِبَادَ اللَّهِ ، أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ ! عِبَادَ اللَّهِ ، أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ ! قَالَهَا ثَلَاثًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا ، وَإِنَّ الْيَوْمَ عِيدُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجاری رہی تھیں اور جنگ بعاث کا ذکر کر رہی تھیں جس میں اوس و خزرج کے بڑے بڑے رؤساء مارے گئے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو ۔ کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
حدیث نمبر: 25029
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ " . قَالَتْ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، قَالَتْ : ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ " . قَالَتْ : ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ . قَالَتْ : فَقُلْتُ : بَلْ السَّامُ عَلَيْكُمْ وَغَضَبُ اللَّهِ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ بِهِ اللَّهُ ؟ قَالَتْ : فَنَظَرَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " مَهْ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ ، وَلَا التَّفَحُّشَ ، قَالُوا قَوْلًا ، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا ، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا ، وَضَلُّوا عَنْهَا ، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا ، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ : آمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک یہودی آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس نے آکر " السام علیک " کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف " وعلیک " کہہ دیا میں نے کچھ بولنا چاہا لیکن رک گئی، تین مرتبہ وہ اسی طرح آیا اور یہی کہتا رہا، آخر کار میں نے کہہ دیا کہ اے بندروں اور خنزیروں کے بھائی ! تم پر ہی موت اور اللہ کا غضب نازل ہو، کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس انداز میں آداب کرتے ہو، جس میں اللہ نے انہیں مخاطب نہیں کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا رک جاؤ، اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کو پسند نہیں فرماتا، انہوں نے ایک بات کہی، ہم نے انہیں اس کا جواب دے دیا، اب ہمیں تو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی البتہ ان کے ساتھ قیامت تک لے لئے یہ چیز لازم ہوجائے گی، یہ لوگ ہماری کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں جس کی ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے اور یہ لوگ اس سے گمراہ رہے، اسی طرح یہ لوگ ہم سے امام کے پیچھے آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25030
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ عَلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 25031
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا ، فَقُلْتُ : لَهَا إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ صَبَبْتُ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتَقْتُكِ . فَاسْتَأْمَرَتْ مَوَالِيَهَا ، فَقَالُوا : لَا ، إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا اگر تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں تو میں ایک ہی مرتبہ تمہاری ساری قیمت ادا کرکے تمہیں آزاد کردیتی ہوں، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 25032
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَقَسَمَ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي ذِي الْحَاجَةِ مِنَ النَّاسِ ، وَفِي أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ الْمِسْوَرُ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا ؟ قُلْتُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَتْ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَحِنُّ عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ " . سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ . .
مولانا ظفر اقبال
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کیا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔
حدیث نمبر: 25033
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَتْ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا يُحْنِي عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ ".
حدیث نمبر: 25034
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَحُتُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اسے (مادہ منویہ کو) کھرچ دیا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 25035
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَفْرُكُهُ.
حدیث نمبر: 25036
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنَامُ حَتَّى يَنْفُخَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سوتے تو خراٹے لینے لگتے، پھر بیدار ہو کر نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھنے لگتے۔
حدیث نمبر: 25037
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 25038
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَبِي بَكْرٍ ، وَلَا عُمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 25039
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ ، وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ ، وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر کی نماز اس کے آخر وقت میں اور عصر کی نماز اول وقت میں، اسی طرح مغرب کی نماز آخر وقت میں اور عشاء کی نماز اول میں پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25040
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي ؟ ! وَمَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 25041
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بغلی بنائی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 25042
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ ؟ فَقَالَ : " رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناگہانی موت کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کے لئے تو یہ راحت ہے اور گنہگار کے لئے افسوس کی پکڑ ہے۔
حدیث نمبر: 25043
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالَتْ : جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ . " فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا " . قَالَتْ : فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ ایک نوجوان عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میرے باپ نے میرا نکاح اپنے بھتیجے کے ساتھ کردیا ہے، وہ میرے ساتھ گھٹیا باتیں کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے معاملے کا اختیار دے دیا، سو کہنے لگی کہ میرے باپ نے جو نکاح کردیا ہے، میں اسی کو برقرار رکھتی ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ عورتوں کو بتادیں کہ باپ کو اس معاملے میں جبر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 25044
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے صفیہ بنت عبدالمطلب ! اور اے بنو عبدالمطلب، میں اللہ کے یہاں تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ مجھ سے جتنا چاہو مال لے لو۔
حدیث نمبر: 25045
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ ، " مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بات بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلاعذر کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 25046
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ عَظِيمَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صحت مند اور بڑے مینڈھوں کی قبربانی فرمائی جو خوبصورت تھے۔ سینگ دار تھے اور خصی تھے۔
حدیث نمبر: 25047
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُرَاعَ ، فَيَأْكُلُهُ بَعْدَ شَهْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور مہینے بعد انہیں کھالیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25048
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَاءِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا سَعَةٌ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَلَبَنَيْنَاهَا ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ " . قَالَتْ : فَلَمَّا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا ، فَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ ، قَالَتْ : فَكَانَتْ كَذَلِكَ ، فَلَمَّا ظَهَرَ الْحَجَّاجُ عَلَيْهِ هَدَمَهَا ، وَأَعَادَ بِنَاءَهَا الْأَوَّلَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میرے پاس وقت کی گنجائش ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے از سر نو اس کی تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے، پھر جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے اس عمارت کو گرا کر اس کے دروازے بنا دیئے اور وہ تعمیر اسی طرح رہی، پھر جب حجاج بن یوسف ان پر غالب آیا گیا تو اس نے خانہ کعبہ کو دوبارہ شہید کر کے پہلی تعمیر پر لوٹا دیا۔
حدیث نمبر: 25049
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَكَتْ امْرَأَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ قِصَرَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ اغْتَبْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود کی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی اور اس کے ٹھگنے ہونے کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی غیبت کی۔
حدیث نمبر: 25050
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَكَتْ امْرَأَةً ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا ، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں۔
حدیث نمبر: 25051
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُرِقَ لِي ثَوْبٌ ، فَجَعَلْتُ أَدْعُو عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
حدیث نمبر: 25052
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ مَرَّةً أُخْرَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهُ سُرِقَ ثَوْبٌ لَهَا ، فَدَعَتْ عَلَى صَاحِبِهَا ، فَقَالَ : " لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
حدیث نمبر: 25053
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً ، وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
حدیث نمبر: 25054
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ ، وَتَرَكَ شَيْئًا ، وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔
حدیث نمبر: 25055
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَائِضُ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حائضہ عورت تمام مناسک حج ادا کرے گی، لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی۔
حدیث نمبر: 25056
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ ، طَيِّبُ النَّفْسِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ ، طَيِّبُ النَّفْسِ ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں سے باہر تشریف لے گئے تو بڑے خوش اور ہشاش بشاش تھے، لیکن تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جب آپ میرے یہاں سے گئے تو خوش اور ہشاش بشاش تھے اور اب واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں، فرمایا میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔
حدیث نمبر: 25057
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 25058
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيذِ ؟ فَقَالَتْ : هَذِهِ خَادِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلْهَا الْجَارِيَةُ حَبَشِيَّةٌ , فَقَالَتْ : " كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ عِشَاءً ، فَأُوكِيِهِ ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی، اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تھی، جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔
…