حدیث نمبر: 24979
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ " . قَالَ قَالَ قَتَادَةُ : وَحَدَّثَنِي إِمَّا قَالَ : كَثِيرٌ ، وَإِمَّا قَالَ : عَبْدُ رَبِّهِ ، شَكَّ هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ , عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ لِعَائِشَةَ ، عَلَيْهَا بَعْضُهُ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لحاف میں نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
حدیث نمبر: 24980
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا ، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 24981
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " سَابَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَبَقْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
حدیث نمبر: 24982
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْكِرْمَانِيُّ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّتَاهُ ، حَدِّثِينِي شَيْئًا سَمِعْتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ " ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اماں جان ! مجھے کوئی ایسی حدیث سنائے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پرندے بھی تقدیر کے مطابق ہی اڑتے ہیں (اس لئے کسی کے دائیں بائیں اڑنے میں نحوست نہیں ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال سے خوش ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 24983
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ وَبِيصُ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 24984
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ آمُرَهُمْ بِذَلِكَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، مجھے ان سے یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24985
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَنُعْمَانُ ، أو أحدهما ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ ، وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا ، فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کے بعد جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرنے کے لئے آتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت میں تیز آندھی سے بھی زیادہ ہوجاتے تھے۔
حدیث نمبر: 24986
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ ، قَالَتْ : فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ ، قَالَتْ : وَجَعَلَ لَا يَفْطِنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : وَجَعَلْتُ أُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطَنَ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : أَهَكَذَا الْآنَ ، أَمَا كَانَتْ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكَ إِلَّا فِي خِلَابَةٍ كَمَا أَرَى . وَسَبَّتْ عَائِشَةَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهَا فَتَأْبَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبِّيهَا " . فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا ، فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا ، وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ : اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي : إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا ، فَأَتَتْهُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ ، فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا ، فَقَالَ : أَمَا كَفَاكَ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ ، فَقُلْتَ لَهَا : " إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ آئی ہوئی تھیں، رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان سے دل لگی کرتے ہوئے انہیں ہاتھ سے چھیڑنے لگے، انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ وہاں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارے کرنے لگی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے، یہ دیکھ کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا اب اس طرح ہوگا، کیا ہم میں سے کوئی عورت جب آپ کے پاس خلوت میں ہوتی ہے تو کیا اس طرح ہوتا ہے جیسے میں اب دیکھ رہی ہوں، پھر وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سخت ست کہنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ نہ مانیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم بھی ان سے بدلہ لو، چنانچہ میں نے ان سے بدلہ لیا اور ان پر غالب آگئی۔ اس کے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ وہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور انہیں بتایا کہ عائشہ نے انہیں سخت ست کہا ہے اور تمہیں بھی اس طرح کہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عائشہ نے ہمیں اس طرح کہ ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا رب کعبہ کی قسم ! وہ تمہارے باپ کی چہیتی ہے، اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ واپس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلی گئیں اور ان سے یہ بات ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ عائشہ نے ہمیں اس اس طرح کہا ہے اور فاطمہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے ان سے کہہ دیا کہ رب کعبہ کی قسم ! وہ تمہارے باپ کی چہیتی ہے۔
حدیث نمبر: 24987
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ , قَالَتْ : وَكَانَتْ تَغْشَى عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ عِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ ، إِلَّا أَنَّ سُلَيْمًا قَالَ : أُمُّ سَلَمَةَ.
حدیث نمبر: 24988
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے احرام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔
حدیث نمبر: 24989
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24990
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ : أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ بِالْكُوفَةِ ، فَقَالَ : التَّيَمُّنَ بِمَا اسْتَطَاعَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24991
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، يَغْرِفُ قَبْلَهَا وَتَغْرِفُ قَبْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے چلو بھرنے کی کوشش کرتے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے۔
حدیث نمبر: 24992
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْهُ ، يَقُولُ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہوا۔ اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔
حدیث نمبر: 24993
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ ، فَقِيلَ لَهَا : مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ ؟ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ " ، فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ.
مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حدیث نمبر: 24994
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا فَرَغَ مِنْ الْأَحْزَابِ ، دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ لِيَغْتَسِلَ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : أَوَقَدْ وَضَعْتُمْ السِّلَاحَ ؟ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ ، انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا ؟ واللہ میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجایئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دروازے کے درمیان سے نظر آرہے تھے اور ان کے سر پر گردوغبار اٹا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 24995
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ ، فَأَضَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ ، وَأَقُولُ : امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ ، لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر بد سے حفاظت کے لئے دم کرتی تھی اور وہ اس طرح کہ میں اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھتی اور یہ دعا کرتی اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔
حدیث نمبر: 24996
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : فِي رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز میں رکوع میں لا الہ الا انت کہتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 24997
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ ، وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ ، قَالَ بَهْزٌ : تَدْعُونَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک چادر جسے ملبدہ کہا جاتا ہے اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 24998
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ ، فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اعتکاف کیا تو انہیں ایک طے شدہ حد سے زیادہ ایام آنے لگے۔ اور وہ زردی اور سرخی دیکھتی تھیں اور بعض اوقات ہم ان سے نیچے طشت رکھ دیتے تھے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 24999
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔
حدیث نمبر: 25000
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيذِ ؟ فَقَالَتْ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ " . وَدَعَتْ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً ، فَقَالَتْ لِي : سَلْ هَذِهِ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ أُوكِئُهُ وَأُعَلِّقُهُ ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ . قَالَتْ : كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء نقیر، مقیر اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا، پھر انہوں سے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تو جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25001
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ ، قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حدیث نمبر: 25002
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ شُمَيْسَة ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ ، فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ ، وَفِي إِبِلِ زَيْنَبَ فَضْلٌ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ ، فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكِ " . فَقَالَتْ : أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ . قَالَ : فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ ، شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، لَا يَأْتِيهَا ، قَالَتْ : حَتَّى يَئِسْتُ مِنْهُ وَحَوَّلْتُ سَرِيرِي . قَالَتْ : فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ ، إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ . قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ ، عَنْ شُمَيْسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ شُمَيْسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وقَالَ بَعْدُ : فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ . قَالَ : وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ : فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیمار ہوگیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صفیہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو ماہ یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے۔ وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں ناامید ہوگئی اور اپنی چارپائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہوگئے) ۔
حدیث نمبر: 25003
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ ، فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهُ ، فَلَبِسَهَا ، فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ ، قَذَفَهَا ، وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی۔ اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 25004
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ . . . سورة آل عمران آية 7 حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا ، قَالَ : " قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں۔ ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔۔۔۔۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
حدیث نمبر: 25005
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا : " فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ . فَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ ، إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ . قَالَ : فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ ؟ قَالَتْ : فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ . وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا ، فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٌ ، فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أَبَتِ هُوَ خَلِقٌ . قَالَ : إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ ، وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً ، فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا ، فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ . قَالَ : فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ ، فَقَالَ : لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ثُمَّ قَالَ : بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ . فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ ، وَدُفِنَ لَيْلًا ، وَمَاتَتْ عَائِشَةُ ، فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا ؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، انہوں نے پوچھا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس چیز میں کفن دیا تھا، ہم نے بتایا تین سفید یمنی سحولی چادروں میں، جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا، وہ کہتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیرو کے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک دھاری دار یمنی چادر دی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لپیٹ دیا گیا، پھر لوگوں نے وہ چادر نکال کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چادروں میں کفن دے دیا، عبداللہ نے اپنی چادر لے لی اور کہنے لگے میں اس چادر کو اپنے کفن میں شامل کرلوں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم لگا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی رائے یہ ہوئی کہ میں اس چیز کو اپنے کفن میں شامل نہیں کروں گا جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں شامل نہیں ہونے دی، بہرحال ! وہ منگل کی رات کو انتقال کرگئے اور راتوں رات ہی ان کی تدفین بھی ہوگئی، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے انہیں بھی رات ہی کو دفن کیا تھا۔
حدیث نمبر: 25006
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ ، قَالَ : وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَآزِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25007
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : " جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ ! لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہوتی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 25008
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ ، فَيُصَلِّي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَة ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
حدیث نمبر: 25010
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا ، فَلَمْ تَجِدْهُ ، فَقَالَتْ لَهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ نَأْكُلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ ؟ " قَالَتْ : لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " ، فَسَكَبَتْ ، فَقَالَ : " نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ " ، فَفَعَلَتْ ، فَقَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ ، فَسَكَبَتْ ، فَنَاوِلِي عَائِشَةَ " ، فَنَاوَلَتْهَا ، فَشَرِبَتْ ، ثُمَّ قَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " ، فَسَكَبَتْ ، فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَرِبَ . قَالَتْ عَائِشَةُ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ أَسْلَمْ ، وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ ، هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا ، وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ ، وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا ، فَلَيْسُوا الْأَعْرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سنبلہ بارگاہ نبوت میں دودھ کا ہدیہ لے کر حاضر ہوئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور فرمایا اے ام سنبلہ ! یہ تمہارے ساتھ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! دودھ ہے، جو میں آپ کے لئے ہدیہ لائی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سنبلہ ! اسے نکالو، انہوں نے نکالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابوبکر کو دو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، دوسری مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ڈالنے کو کہا، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انڈیل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمانے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کا دودھ نوش فرما رہے تھے اور وہ جگر کو ٹھندک بخش رہا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یارسول اللہ ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! یہ لوگ گنوار نہیں ہیں، یہ تو ہمارا دیہات ہیں اور ہم ان کا شہر ہیں، جب انہیں بلایا جائے تو یہ لبیک کہتے ہیں، یہ گنوار نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 25011
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 25012
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ ، فَإِنَّهُنَّ تُجْزِئُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھروں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25013
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔
حدیث نمبر: 25014
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ : أَمَرَتْ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ تَمُرَّ عَلَيْهَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَبَلَغَهَا أَنْ قِيلَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : " مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
حدیث نمبر: 25015
حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25016
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ بَهْزٌ : إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيَّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ ، أَوْ آذَيْتُ ، فَلَا تُعَاقِبْنِي بِهِ " . قَالَ بَهْزٌ : فِيهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
حدیث نمبر: 25017
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً ، فَاسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ ، وَأَذِنَ لِي ، وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ حَتَّى يَقِفَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کاش ! میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کرلیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
حدیث نمبر: 25018
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔
…