حدیث نمبر: 24939
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ ، قَالَ بَهْزٌ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّخَعِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ ، فَاحْتَلَمَ ، فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ ، وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ ، أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ . قَالَ بَهْزٌ : هَكَذَا قَالَ شُعْبَةُ . فَقَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أَفْرُكَهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . .
مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے یہاں ایک مہمان قیام پذیر ہوا، حضرت عائشہ نے اپنا زرد رنگ کا لحاف اسے دینے کا حکم دیا، وہ اسے اوڑھ کر سوگیا، خواب میں اس پر غسل واجب ہوگیا، اسے اس بات سے شرم آئی کہ اس لحاف کو گندگی کے نشان کے ساتھ ہی واپس بھیجے اس لئے اس نے اسے پانی سے دھو دیا اور پھر حضرت عائشہ کے پاس واپس بھیج دیا، حضرت عائشہ نے فرمایا کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24940
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ هَمَّامَ بْنَ الْحَارِثِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24941
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا ، فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدھی بات کہا کرو، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا کرو اور خوشخبریاں دیا کرو، کیونکہ کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جاسکیں گے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بھی نہیں، الاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائیمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6464، م: 2818
حدیث نمبر: 24942
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24943
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24944
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ جَهْدًا شَدِيدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ " ، فَقُلْتُ : مَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الطَّعَامِ ؟ قَالَ : " مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْمَالِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ مِنَ الْمَاءِ ، وَأَمَّا الطَّعَامُ ، فَلَا طَعَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، میں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف وانقطاع، راجع: 24470
حدیث نمبر: 24945
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ أَوْ ابْنُ مُدْرِكٍ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ . قَالَ : فَأَتَيْتُهَا ، فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى ، فَقُلْتُ : أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرُغَ ، فَقَالُوا : هَيْهَاتَ ، فَقُلْتُ : لِآذِنِهَا كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ؟ فَقَالَ : قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا ، فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : أَخُو عَازِبٍ ، نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ . فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْوِصَالِ ؟ فَقَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا الْهِلَالَ أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ زَادَ لَزِدْتُ " . فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَاكَ أَوْ شَيْئًا نَحْوَهُ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " . وَسَأَلْتُهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ ، قَالَتْ : فَجَاءَتْهُ عِنْدَ الظُّهْرِ ، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، وَشُغِلَ فِي قِسْمَتِهِ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ صَلَّاهَا " ، وَقَالَتْ : " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ " ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ , يَقُولُ : بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي ، وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ . وَسَأَلْتُهَا عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يُخْتَلَفُ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : " لَأَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، قَالَ : أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِذَاكَ مِنَّا . سَمِعْت أَبِي يَقُولُ : يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، صَالِحُ الْحَدِيثِ . قَالَ أَبِي : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُوسَى هُوَ خَطَأٌ ، أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مد رک یا ابن مدرک نے کچھ سوالات پوچھنے کے لئے حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے سوچا کہ ان کے فارغ ہونے تک بیٹھ کر انتظار کرلیتا ہوں لیکن لوگوں نے بتایا کہ انہیں بہت دیر لگے گی، میں نے انہیں اطلاع دینے والے سے پوچھا کہ میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں ؟ اس نے کہا کہ یوں کہو : السَلَا مُ عَلَیکَ اَ یُھَا النَبِیُ وَرَحمَتُ اللہِ وَ بَرَ کَاتُہ، السَلَامُ عَلَینا وَ عَلَی عِبَادِ اللہِ الصَالِحِینَ السَلاَ مُ عَلیَ اُمَھِاتِ المُومِنِینَ میں اس طرح سلام کرکے اندر داخل ہوا اور ان سے سوالات پوچھنے لگا، انہوں نے فرمایا عازب کے بھائی ہو، وہ کتنا اچھا گھرانہ ہے۔ پھر میں نے ان سے مسلسل روزے " جن میں افطاری نہ ہو " رکھنے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ نے اس طرح روزے رکھے تھے لیکن صحابہ کرام مشقت میں پڑگئے تھے اس لئے چاند دیکھتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ مہینہ مزید آگے چلتا تو میں بھی روزے رکھتا رہتا (اس پر نکیر فرمائی) کسی نے کہا کہ آپ خود بھی تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ پھر میں نے ان سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، زکوٰۃ کا وہ مال ظہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور نماز عصر تک اسے تقسیم کرنے میں مشغول رہے، اس دن عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے اوپر قیام اللیل کو لازم کرلو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، اگر بیمار ہوتے تو بیٹھ کر پڑھ لیتے، میں جانتی ہوں کہ تم میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں فرض نمازیں پڑھ لوں، یہی کافی ہے لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ پھر میں نے ان سے اس دن کے متعلق پوچھا جس کے رمضان ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہوجائے تو انہوں نے فرمایا کہ میرے نزدیک شعبان کا ایک روزہ رکھ لینا رمضان کا ایک روزہ چھوڑنے سے زیادہ محبوب ہے، اس کے بعد میں وہاں سے نکل آیا اور یہی سوالات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھے، تو ان میں سے ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہم سے زیادہ یہ باتیں جانتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: لأن أصوم من شعبان.....من رمضان وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 24946
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " . فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَذَهَبْتُ لِأَقُولَ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَاجْعَلْنِي فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرنے فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پروردگار ! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2191
حدیث نمبر: 24947
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ, قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذًا لَدَابَّةُ سُوءٍ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ ، وَهُوَ يُصَلِّي " . قَالَ شُعْبَةُ : بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فِيمَا أَظُنُّ.
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ عروہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا عورت اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر، انہوں نے فرمایا پھر تو عورت بہت برا جانور ہوئی، میں نے تو وہ وقت دیکھا ہے جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 512
حدیث نمبر: 24948
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ، فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24949
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا ، فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ ، أَوْ يَأْكُلَ ، تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 305
حدیث نمبر: 24950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ وَشُرَيْحَ بْنَ أَرْطَاةَ كَانَا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : سَلْهَا عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : لَا أَرْفُثُ عِنْدَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ اور شریح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، دوسرے نے کہا کہ آج میں ان کے یہاں بےتکلف کھلی گفتگو نہیں کرسکتا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود ہی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے اور تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد صورته الإرسال، خ: 1967، م: 1106
حدیث نمبر: 24951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ ، مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے لہٰذا تم ان کا مال رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم عمارة
حدیث نمبر: 24952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو ، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 952، م:892
حدیث نمبر: 24953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 248، م: 316
حدیث نمبر: 24954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي ، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ ، فَيَأْخَذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي ، وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 24955
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی رات پر دوسری رات کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم، وهو النخعي، لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24956
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنِ الرَّجُلِ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ ، هَلْ يُمْسِكُ عَمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ ؟ قَالَ : فَسَمِعْتُ صَوْتَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ ، ثُمَّ قَالَتْ : " قَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُرْسِلُ بِهِنَّ ، ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایک آدمی اپنی ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے تو کیا وہ ان تمام چیزون سے اجتناب کرے گا جن سے محرم اجتناب کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1361
حدیث نمبر: 24957
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ سَأَلَتْ عَائِشَةَ ، عَنْ يَتِيمٍ فِي حِجْرِهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 24958
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بَكَّارٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ الصَّنْعَانِيَّ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا . قَالَ : وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ : يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ؟ قَالَ : " إِنَّمَا ذَاكُمْ الْعَرْضُ ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4939، م: 2876
حدیث نمبر: 24959
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1967، م: 1106
حدیث نمبر: 24960
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْآيَاتِ آيَاتِ الرِّبَا مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات جو سود سے متعلق ہیں نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 459، م: 1580
حدیث نمبر: 24961
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ ، وَكَانَ إِذَا بَقِيَتْ عَلَيْهِ ثَلَاثُونَ آيَةً أَوْ أَرْبَعُونَ ، قَامَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ سَجَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کا کچھ حصہ بھی بیٹھ کر نہ پڑھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
حدیث نمبر: 24962
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟ فَقَالَتْ : " مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ، وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ . قُلْتُ : فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَضَحِكَتْ ، وَقَالَتْ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنے قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی ؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5623، م: 2970
حدیث نمبر: 24963
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5446، م: 2975
حدیث نمبر: 24964
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : ذَهَبْتُ أَحْكِي امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا ، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا " . أَعْظَمَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں، (میں نے کہہ دیا یارسول اللہ ! صفیہ تو اتنی سی ہے اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24965
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ يَعْنِي امْرَأَتَهُ ؟ قَالَتْ : لَا . قُلْتُ : أَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ روزہ دار اپنے بیوی کے جسم سے اپنا جسم ملا سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اس طرح نہیں کرلیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1967، م: 1106
حدیث نمبر: 24966
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبولگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حماد حسن الحديث، ولكن متابع
حدیث نمبر: 24967
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ " . وَكَانَ يَقُولُ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ، فَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ قَلَّ " . وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً يُدَاوِمُ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریبا شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھے جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالوهاب مختلف فيه، ولكن توبع، خ: 738، م: 1156
حدیث نمبر: 24968
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وإسناده كسابقه، خ: 619، م: 724
حدیث نمبر: 24969
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالوهاب إن كان فيه كلام ولكن متابع
حدیث نمبر: 24970
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَهِيَ صَائِمَةٌ ، وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَفْطِرِي ، فَقَالَتْ : أُفْطِرُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ " إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء خراسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، وہ عرفہ کا دن تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں اور ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ روزہ کھول لیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ ایک سال قبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لا نقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24971
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ امْرَأَتُكَ ، فَاَكْشِفْ عَنْهَا ، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ ، فَأَقُولُ : إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، يُمْضِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3895، م: 2438
حدیث نمبر: 24972
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ فَلَا تَطْهُرُ ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهُ ، فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلْتَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش جو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ معمول کے ایام نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: فلتغتسل عند كل صلاة.....فهو غير محفوظ، والصحيح أنها فعلته أم حبيبة من نفسها
حدیث نمبر: 24973
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1032
حدیث نمبر: 24974
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ . وَأَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وَتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ ، وَسَطَهُ وَآخِرَهُ ، وَأَوَّلَهُ ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے آغاز، درمیان اور آخر ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له إسنادان: الإسناد الأول حسن، والاسناد الثاني صحيح، م: 745
حدیث نمبر: 24975
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ابْنَةَ زَمْعَةَ " . قَالَتْ : فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبدزمعہ رضی عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یارسول ا اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور سعد رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد ! یہ بچہ تمہارا ہے، کیونکہ بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھ سکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6618، م: 1457
حدیث نمبر: 24976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ، ثُمَّ لَا يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھدی کا جانور بھیج دیتے تھے اور پھر وہ کام نہیں کرتے تھے جو محرم کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ ، إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد نبوت کا کچھ حصہ باقی نہیں رہے گا، البتہ مبشرات رہ جائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم نے پوچھا یا رسول اللہ ! مبشرات سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب جو کوئی آدمی اپنے متعلق خود دیکھتا ہے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24978
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَإِنَّا لَجُنُبَانِ ، وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے، ہم تو جنبی ہوتے لیکن پانی جنبی نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر