حدیث نمبر: 24899
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقُلْنَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا ؟ فَقَالَ : " أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاهَا ، فَكَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا ، فَقَالَتْ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَنَا بِهِ لُحُوقًا ، فَعَرَفْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ ، وَكَانَتْ امْرَأَةً تُحِبُّ الصَّدَقَةَ . وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : قَصَبَةً نَذْرَعُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام ازواج مطہرات جمع تھیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے آکر ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ تم میں سب سے زیادہ لمبا ہوگا، ہم ایک لکڑی لے کر اس سے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگے، حضرت سودہ بنت زمعہ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا نکلا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جلد ہی حضرت سودہ ان سے جاملیں، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد صدقہ خیرات میں کشادگی تھی اور وہ صدقہ خیرات کرنے کو پسند کرنے والی خاتون تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وذكر سودة فيه خطأ، والصواب أنها زينب ، خ: 1420، م: 2452
حدیث نمبر: 24900
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يَرْقُدُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا ، فَيَسْتَيْقِظُ ، إِلَّا تَسَوَّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات یا دن کے جس حصے میں بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ولجهالة أم محمد
حدیث نمبر: 24901
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْكُمْ ، فَلَيُقَطَّعَنَّ رِجَالٌ دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَلَيُقَالَنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو لوگ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے میں ان کا انتظار کروں گا، کچھ لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ پروردگار ! یہ میرے امتی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے پیچھے کیا عمل کئے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹتے چلے گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2294
حدیث نمبر: 24902
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَرْقُدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات راجع: 24083
حدیث نمبر: 24903
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ ، وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24904
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، رُبَّمَا اضْطَجَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دور رکعتیں پڑھ کر بعض اوقات دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: ربما، وقد انفرد بها أبو المؤمل
حدیث نمبر: 24905
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ، قَالَتْ : فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ ، لَمْ أَجِدْ رِيحًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو ان کا سر مبارک میرے حلق اور سینہ کے درمیان تھا اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نکلی تو اس کے ساتھ ایک ایسی مہک آئی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1389، م: 2442
حدیث نمبر: 24906
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا أَنَّمَا هُوَ الْحَجُّ ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ وَلَمْ يَحْلِلْ ، وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، فَطَافَ مَنْ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ ، فَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَحَاضَتْ هِيَ ، فَقَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ حَجِّنَا ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، لَيْلَةُ النَّفْرِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجٍّ ؟ فَقَالَ : " أَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " انْطَلِقِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَتْ : وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ ، فَقَالَ : " عَقْرَى أَوْ حَلْقَى ، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ، أَمَا كُنْتِ طُفْتِ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قَالَتْ : بَلَى . قَالَ : " لَا بَأْسَ ، فَانْفِرِي " . قَالَتْ : فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْلِجًا ، وَهُوَ مُصْعِدٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهِمْ ، أَوْ هُوَ مُنْهَبِطٌ عَلَيْهِمْ ، وَأَنَا مُصْعِدَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ نے بھی طواف وسعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا۔ حضرت عائشہ ایام سے تھیں، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کرکے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کر آؤ اور فلاں جگہ پر آکر ہم سے ملنا۔ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر رہے تھے اور میں اوپر چڑھ رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 24907
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ ؟ فَقَالَ : " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي " . قَالَتْ : كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ؟ قَالَ : " تَوَضَّئِي بِهَا " . قَالَتْ : كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ؟ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " تَوَضَّئِي بِهَا " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! جب میں پاک ہوجاؤں تو غسل کس طرح کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوشبو لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کیا کرو، اس نے پھر یہی سوال کیا تو سبحان اللہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ہی پھیرلیا اور پھر فرمایا اس سے پاکی حاصل کرو، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقصد ہے ؟ چنانچہ میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقصد ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 315، م: 3332
حدیث نمبر: 24908
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَبُو لُبَابَةَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: كان يقرأ، فحسن لأجل مروان
حدیث نمبر: 24909
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِيهِ مَكْحُولٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ ، فَهُوَ لَهَا ، وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جس چیز کے ذریعے کسی عورت کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کرتا ہے مثلاً مہر یا کوئی اور سامان تو وہ اس عورت کی ملکیت میں ہوتا ہے اور جس چیز سے اس عورت کے باپ، بھائی یا سرپرست کا معاملہ نکاح کے بعد اکرام کیا جاتا ہے تو وہ اس کا ہوجا تا ہے اور انسان کی بیٹی یا بہن اس بات کی زیادہ حقدار ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا اکرام کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 24910
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ ، يَعْنِي أَنْ لَا يُفْشِيَ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ ، كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، قَالَتْ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلْيَلِهِ أَقْرَبُ أَهْلِهِ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ ، فَلْيَلِهِ مِنْكُمْ مَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ أَوْ أَمَانَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مردے کو غسل دے اور اس کے متعلق امانت کی بات بیان کردے اور اس کا کوئی عیب " جو غسل دیتے وقت ظاہر ہوا ہو " فاش نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اپنی پیدائش کے دن ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مردے کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ اس کے قریب رہے بشرطیکہ کچھ جانتا بھی ہو اور اگر کچھ نہ جانتا ہو تو اسے قریب رکھو جس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے پاس امانت اور تقویٰ کا حظ و افر موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر وهو الجعفي
حدیث نمبر: 24911
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْحُدَيَّا ، وَالْغُرَابُ ، وَالْعَقْرَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 24912
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ نَاسًا كَانُوا يَتَعَبَّدُونَ عِبَادَةً شَدِيدَةً ، فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ " . وَكَانَ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ عبادت میں بہت محنت مشقت برداشت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایا واللہ میں اللہ کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا لیکن تم اکتا جاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24913
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 24914
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ ، اغْتَسَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24915
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، يُبَادِرُنِي مُبَادَرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 361
حدیث نمبر: 24916
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ ، وَيَمُصُّ لِسَانَهَا " . قُلْتُ : سَمِعْتَهُ مِنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دے دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: ويمص لسانها وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار وقد انفرد بهذه اللفظة
حدیث نمبر: 24917
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ ضَبٌّ ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا : میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: لا تطعموهم مما.... وهذا إسناد مختلف فيه راجع: 24736
حدیث نمبر: 24918
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ شِبْرًا " . قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ ؟ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : أَسْوُقُهُنَّ ؟ قَالَ فَذِرَاعٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل أبى المهزم
حدیث نمبر: 24919
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهُ كَانَ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ ، فَأَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدیقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1493، م:1504
حدیث نمبر: 24920
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ . وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ ؟ " قَالُوا : النَّخْلُ يُؤَبِّرُونَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلُحَ " . فَلَمْ يُؤَبِّرُوا عَامَئِذٍ ، فَصَارَ شِيصًا ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنَكُمْ بِهِ ، وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ کھجور کی پیوند کاری ہورہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ پیوند کاری نہ کریں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو، چنانچہ لوگوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی، جس کی وجہ سے اس سال کھجور کی فصل اچھی نہ ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر لوگوں نے پیوند کاری نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور اگر دین کا معاملہ ہو تو اسے لے کر میرے پاس آیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2363
حدیث نمبر: 24921
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَرْقُدُ ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تَسَوَّكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ، يَجْلِسُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَيُسَلِّمُ ، ثُمَّ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ ، لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب سو کر بیدار ہوتے تو مسواک کرتے، وضو کرتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ہر دو رکعتوں پر بیٹھ کر سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ پھر پانچویں رکعت پر ہی بیٹھتے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 24922
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں میں نبیذ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24923
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا : كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا ، ائْتَزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ ، ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ بِثَدْيَيْهَا ، وَنَحْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، پھوپھی اور خالہ نے ان سے پوچھا کہ جب آپ میں سے کسی کو ' ایام " آجاتے تو آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا کرتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم کشادہ تہبند باندھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی چھاتی اور سینہ لگاسکتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 24924
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : يَزِيدُ الرِّشْكُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْهَا : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا ؟ قَالَتْ " نَعَمْ أَرْبَعًا ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 24925
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24926
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا أَيَّامَ الْعَشْرِ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1176
حدیث نمبر: 24927
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، فَلَمَّا ثَقُلَ عَنْ ذَلِكَ ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ ، وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5735
حدیث نمبر: 24928
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله البهي اختلف فى سماعه من عائشة ، خ: 1950، م: 1146
حدیث نمبر: 24929
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ . . . سورة آل عمران آية 7 حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ، قَالَ : " قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔۔۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
حدیث نمبر: 24930
حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ ، وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا ، فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى ، فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ ، ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ ، فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنَ الْعِشَاءِ ، فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى ، فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ ، ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ " . فَقِيلَ لَهُ : أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ ؟ قَالَ : " مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ صبح کے وقت کسی مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ باتے تھے، ہم اسے شراب بننے دیتے تھے اور نہ ہی اس کا تلچھٹ بناتے تھے، شام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اسے بھی نوش فرمالیتے، اگر کچھ پانی بچتا تو میں اسے فارغ کردیتی یا بہا دیتی تھی اور مشکیزہ دھو دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمرة
حدیث نمبر: 24931
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : وَهِمَ عُمَرُ ، إِنَّمَا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلے میں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 8330
حدیث نمبر: 24932
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ ، حَتَّى حَاضَتْ ، فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا ، وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ : " يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَلِعُمْرَتِكِ " . فَأَبَتْ ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچیں لیکن ابھی بیت اللہ کا طواف نہ کرنے پائی تھیں کہ ان کے " ایام " شروع ہوگئے انہوں نے حج کا احرام باندھنے کے بعد تمام مناسک حج ادا کئے، دس ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارا طواف حج اور عمرہ دونوں کے لئے کافی ہوجائے گا، انہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے بھائی عبدالرحمن کے ہمراہ تنعیم بھیج دیا اور انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24933
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِيَ ، قَالَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤ ذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھےأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن ميمون لم يذكر له سماع من عائشة
حدیث نمبر: 24934
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے معدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: بعد أيام، وهذا إسناد حسن لأجل حماد
حدیث نمبر: 24935
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ ، وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا کر خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن الأجل حماد
حدیث نمبر: 24936
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حماد توبع
حدیث نمبر: 24937
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : " جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ ! لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہوتی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وحماد، وهو ابن أبى سليمان متابع
حدیث نمبر: 24938
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ، أَنَّهُ سَمِعَهَا , تَقُولُ : كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ صَعْبٍ ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک مضبوط اونٹ پر سوار ہوئی تو اسے مارنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2094