حدیث نمبر: 24859
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيٌّ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، قالَ عَلِيٌّ : أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ عَلِيٌّ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا ، خَرَجَ بِهَا مَعَهُ ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا ، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے، جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے تھے اور ہر زوجہ مطہرہ کو دن اور رات میں اس کی باری دیتے تھے، البتہ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری کا دن اور رات حضرت عائشہ کو ہبہ کردی تھی اور مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2593، م: 2270 مطولا
حدیث نمبر: 24860
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا سَكَتَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب مؤذن اذانِ فجر سے خاموش ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 994، م: 736
حدیث نمبر: 24861
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ ابْنَةُ هَمَّامٍ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَأَخْلَوْهُ لِعَائِشَةَ ، فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ : مَا تَقُولِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحِنَّاءِ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ لَوْنُهُ ، وَيَكْرَهُ رِيحَهُ ، وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَيْكُنَّ بَيْنَ كُلِّ حَيْضَتَيْنِ أَوْ عِنْدَ كُلِّ حَيْضَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین ! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی، البتہ تم پر دو ماہواریوں کے درمیان اسے حرام نہیں کیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام، فإنها مستورة
حدیث نمبر: 24862
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أَنَّ أُمَّهُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 297
حدیث نمبر: 24863
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , وَمَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَخْبَرَتْهُ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَقَبَّلَهُ وَبَكَى ، ثُمَّ قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قَدْ كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر آئے اور سیدھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ایک یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے چادر ہٹائی اور جھک کر بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر فرمایا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا اور جو موت آپ کے لئے لکھی گئی تھی، وہ آپ کو آگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1242، م: 301
حدیث نمبر: 24864
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ ، أَثْنَى عَلَيْهَا ، فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ ، قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا ، فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا ، قَالَ : " مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا ، قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے فرمایا اللہ نے مجھے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کوئی بیوی نہیں دی، وہ مجھ سے اس وقت ایمان لائی جب لوگ کفر کررہے تھے، میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کررہے تھے اپنے مال سے میری ہمدردی اس وقت کی جب کہ لوگوں نے مجھے اس سے دور رکھا اور اللہ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جب کہ میری دوسری بیویوں سے میرے یہاں اولاد نہ ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، لأن مجالد بن سعيد ليس بالقوي
حدیث نمبر: 24865
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ نے ایک مرتبہ عروہ سے فرمایا کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تعجب نہیں ہوتا ؟ وہ آئے اور میرے حجرے کی جانب بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیثیں بیان کرنے لگے اور میرے کانوں تک اس کی آواز آتی رہی، میں اس وقت نوافل پڑھ رہی تھی، وہ میرے نوافل ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے، اگر میں انہیں ان کی جگہ پر پالیتی تو انہیں بات پلٹا کر ضرور سمجھاتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3568، م: 2493
حدیث نمبر: 24866
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ ، وَأَقُولُ دَعْ لِي ، دَعْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 361
حدیث نمبر: 24867
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ بِمَكَّةَ ، مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد جب مجھ سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور مدینہ منورہ میں پھر میری رخصتی اس وقت ہوئی جب میں نو سال کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3894، م: 1422
حدیث نمبر: 24868
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی اور وہ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ جانور اپنی گردن زمین پر ڈال دیتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24869
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ , قَالَ لَهَا : يَا بُنَيَّةُ ، أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : " يَوْمَ الِاثْنَيْنِ " ، قَالَ : فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : " يَا أَبَتِ ، كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ ، جُدُدٍ يَمَانِيَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ ، أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا ؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے پوچھا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا ؟ میں نے عرض کیا ابا جان ! ہم نے انہیں یمن کی تین نئی سفید سحولی چادروں میں کفن دیا تھا، جس میں قمیض تھی اور نہ ہی عمامہ، بس انہیں اس میں لپیٹ دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 1387
حدیث نمبر: 24870
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ تَعْظِيمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَمْرًا عَجِيبًا ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَأْخُذُهُ الْخَاصِرَةُ ، فَيَشْتَدُّ بِهِ جِدًّا ، فَكُنَّا نَقُولُ : أَخَذَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِرْقُ الْكِلْيَةِ لَا نَهْتَدِي أَنْ نَقُولَ : الْخَاصِرَةَ ، ثُمَّ أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَاشْتَدَّتْ بِهِ جِدًّا حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، وَخِفْنَا عَلَيْهِ ، وَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، فَظَنَنَّا أَنَّ بِهِ ذَاتَ الْجَنْبِ ، فَلَدَدْنَاهُ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَفَاقَ فَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ لُدَّ ، وَوَجَدَ أَثَرَ اللَّدُودِ ، فَقَالَ : " ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَلَّطَهَا عَلَيَّ ، مَا كَانَ اللَّهُ يُسَلِّطُهَا عَلَيَّ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ ، إِلَّا عَمِّي " . فَرَأَيْتُهُمْ يَلُدُّونَهُمْ رَجُلًا رَجُلًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَمَنْ فِي الْبَيْتِ يَوْمَئِذٍ ، فَتَذْكُرُ فَضْلَهُمْ ، فَلُدَّ الرِّجَالُ أَجْمَعُونَ ، وَبَلَغَ اللَّدُودُ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلُدِدْنَ امْرَأَةً امْرَأَةً ، حَتَّى بَلَغَ اللَّدُودُ امْرَأَةً مِنَّا ، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ : لَا أَعْلَمُهَا إِلَّا مَيْمُونَةَ ، قَالَ : وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : إِنِّي وَاللَّهِ صَائِمَةٌ ، فَقُلْنَا : بِئْسَمَا ظَنَنْتِ أَنْ نَتْرُكَكِ ، وَقَدْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَدَدْنَاهَا وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي ، وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے بھانجے ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا کی تعظیم کرتے ہوئے، اس دوران ایک تعجب خیز چیز دیکھی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوکھ میں درد ہوتا اور بہت شدید ہوجاتا، ہم سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرق النساء کی شکایت ہے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس عارضے کو " خاصرہ " کہتے ہیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ درد شروع ہوا اور اتنا شدید ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، ہمیں اندیشے ستانے لگے، لوگ بھی خوفزدہ ہوگئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " ذات الجنب " کی شکایت تھی، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی اور طبیعت کچھ سنبھلی تو آپ کو اندازہ ہوگیا کہ ان کے منہ میں دوا ٹپکائی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اثر محسوس کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالا ن کہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، گھر میں میرے چچا کے علاوہ کوئی آدمی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے، چنانچہ میں نے دیکھا کہ ان سب کے منہ میں ایک ایک مرد کو لے کر دواڈالی گئی، پھر حضرت عائشہ نے اس موقع پر گھر میں موجود افراد کی فضیلت کا ذکر کیا اور فرمایا جب تمام مردوں کے منہ میں دوا ڈالی جا چکی اور ازواج مطہرات کی باری آئی تو ایک ایک عورت کے منہ میں دوا ڈالی گئی، فرمایا تم کیا سمجھتی ہو کہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے ؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم دلائی اور ہم نے ان کے منہ میں بھی دوا ڈال دی جبکہ اے بھانجے ! واللہ وہ روزے سے تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لأجل عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24871
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجَمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24872
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَيَشْرَبَ ، قَالَتْ : يَغْسِلُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو کر کھاتے پیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24873
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، ولكن متابع
حدیث نمبر: 24874
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ أَكَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو کر کھاتے پیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، راجع: 26872
حدیث نمبر: 24875
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ نَاسًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَتْ : أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّمَامَ ، فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ ، وَسُورَةَ النِّسَاءِ ، ثُمَّ لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَرَغِبَ ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَاسْتَعَاذَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورت بقرہ، آل عمران اور سورة نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن مخراق
حدیث نمبر: 24876
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَأَهْدَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلَّ ، وَمَنْ أَهَلَّ فَأَهْدَى ، فَلَا يَحِلَّ ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ لوگوں نے عمرے کا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر گئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور وہ ہدی کا جانور نہیں لایا، وہ تو حلال ہوجائے اور جو لایا ہے وہ حلال نہ ہو اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا ہو، وہ اپنا حج مکمل کرے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں سے تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 319، م: 1211
حدیث نمبر: 24877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1036
حدیث نمبر: 24878
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ، لَا أُرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور دو رکعتیں پڑھ لیتے، غالباً وہ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه دون قولها: ويصلي الركعتين تفرد بها زهير، وقد سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 24879
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ ، " فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ ، وَالصُّبْحَ بِغُسْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب ان کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف
حدیث نمبر: 24880
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، أَهْدَاهَا لَهُ ، فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ، مُعْرِضًا عَنْهُ ، ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ ، فَقَالَ : " تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے ہدیہ آیا جس میں سونے کا ایک ہار بھی تھا اور اس میں حبشی نگینہ لگا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بےتوجہی سے لکڑی کے ذریعے اٹھا یا اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا پیاری بیٹی ! یہ زیور تم پہن لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وابن إسحاق صرح بالتحديث عند أبى داود برقم: 4235
حدیث نمبر: 24881
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا ، فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ ، عِنْدَ ذَلِكَ ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، قَالَ : لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ ، فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مردے کو غسل دے اور اس کے متعلق امانت کی بات بیان کر دے اور اس کا کوئی عیب " جو غسل دیتے وقت ظاہر ہوا ہو " فاش نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اپنی پیدائش کے دن ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مردے کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ اس کے قریب رہے بشرطیکہ کچھ جانتا بھی ہو اور اگر کچھ نہ جانتا ہو تو اسے قریب رکھو جس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے پاس امانت اور تقویٰ کا حظ وافر موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 24882
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَكُونُ جُنُبًا ، فَيُرِيدُ الرُّقَادَ ، فَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَرْقُدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، وأبي الزبير، فإنه مدلس، وقد عنعن، خ: 288، م: 355
حدیث نمبر: 24883
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ایسی زمین کو آباد کرے جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو تو وہی اس کا حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة توبع، خ: 2335
حدیث نمبر: 24884
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا مُسْلِمٌ ، إِلَّا كُفِّرَ عَنْهُ ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 24885
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مُنْهَبِطًا ، قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَعَلَيْهِ ثِيَابُ سُنْدُسٍ ، مُعَلَّقًا بِهِ اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی شکل میں اترتے ہوئے دیکھا، انہوں نے زمین و آسمان کے درمیان ساری جگہ کو پر کیا ہوا تھا اور سندس کے کپڑے پہن رکھے تھے جن پر موتی اور یا قوت جڑے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، دون قوله: وعليه ثياب... فصحيح لغيره، رواية حماد عن عطاء قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 24886
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ مُعَاذَةَ حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَتُجْزِئُ إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ ؟ فَقَالَتْ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ كُنَّا نَحِيضُ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا نَفْعَلُ ذَلِكَ ، أَوْ قَالَتْ لَمْ يَأْمُرْنَا بِذَلِكَ . .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 361، م: 335
حدیث نمبر: 24887
حَدَّثَنَاه بَهْزٌ ، وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، وَقَالَ عَنْ ، وَعَنْ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 361، م: 335
حدیث نمبر: 24888
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْمُجَاشِعِيُّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِهَادُ النِّسَاءِ حَجُّ هَذَا الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کا جہاد حج ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 24889
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَتْ : " أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اس پر بعض اوقات اضافہ بھی کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 24890
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتیں ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 24891
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ يَدَهُ ، فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ ، وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ ، أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا کر خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 24892
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيَفُكُّ الْعَانِيَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُحْسِنُ الْجِوَارَ ، فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ ، فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ " . وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : فَأَثْنَتْ عَلَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں مہمان نوازی کرتا، قیدیوں کو چھڑاتا، صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار ! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24893
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْنَى عَلَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّكُنَّ لَأَهَمُّ مَا أَتْرُكُ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي ، وَاللَّهِ لَا يَعْطِفُ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوْ الصَّادِقُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل عمر بن أبى سلمة
حدیث نمبر: 24894
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَدْ اشْتَدَّتْ ، تَغَيَّرَ وَجْهُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دیکھتے کہ ہوا تیز ہوتی جا رہی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 24895
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " , قَالَ : قَالَتْ : وَلَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1390، م: 529
حدیث نمبر: 24896
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل عمر بن أبى سلمة
حدیث نمبر: 24897
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ بِنَحْوِ الْمُدِّ ، وَيَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24898
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ " ، قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : بِقَدْرِ مُدٍّ ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح