حدیث نمبر: 24819
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : حَدِّثِينِي بِأَحَبِّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رہا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، راجع: 24628
حدیث نمبر: 24820
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ ، فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : أَمَّا عَلِيٌّ ، فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا ، وَأَمَّا عَمَّارٌ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس ایک آدمی آیا اور حضرت علی و عمار کی شان میں گستاخی کرنے لگا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت علی کے متعلق تو میں کچھ کہہ ہی نہیں سکتی (کہ انکا کیا مقام و مرتبہ ہے ؟ وہ تو واضح ہے) اور جہاں تک حضرت عمار کا تعلق ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان اختیار حاصل ہو تو وہ اسی راستے کو اختیار کرے جو ان میں سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24821
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کا ولیمہ دو مد جو سے بھی کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24822
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا " ، قُلْتُ : فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ ؟ قَالَتْ : " كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا رَكَعَ جَالِسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24823
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , وَمَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَشْهَدُ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ فِي يَوْمِي قَطُّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دور رکعتیں ضرور پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 593
حدیث نمبر: 24824
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ ، وَيَدْخُلُ مَعِي فِي لِحَافِي وَأَنَا حَائِضٌ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " ایام کی حالت میں " بھی میرے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے اور اسی حالت میں میرے لحاف میں بھی آجاتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 302، م: 293
حدیث نمبر: 24825
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ السُّلَمِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْعُمْرَةِ بَعْدَ الْحَجِّ ؟ قَالَتْ : " أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي أَخِي ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْحَرَمِ ، فَاعْتَمَرْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
عیسیٰ بن عبدالرحمن اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے بعد عمرے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیجا، میں نے حرم سے باہر جا کر احرام باندھا اور عمرہ کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل والدة عيسي بن عبدالرحمن، فإنها مجهولة
حدیث نمبر: 24826
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَيَزِيدَ الرِّشْكِ , عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنَّا نَسْتَحْيِي مِنْهُمْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتیں ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24827
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِرَادَةَ أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ ، مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کردیا تھا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر حضرت عائشہ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى أويس، خ: 1585، م: 1333
حدیث نمبر: 24828
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَتْ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو أويس ضعيف، ولكن متابع، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 24829
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ : مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ ، إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا ، فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ ، قَالَ : " اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الاّ یہ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کرلیتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 4891، م: 1866
حدیث نمبر: 24830
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا ، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ انْتُهِكَ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةٌ ، هِيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل أبى أويس، ولكن توبع ، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 24831
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَنْفُثُ " . قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ ، وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده كسابقه، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 24832
حَدَّثَنَا أُرَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ؟ قَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 24833
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 590
حدیث نمبر: 24834
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 521، م: 2445
حدیث نمبر: 24835
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ ، فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ ، فَقَالَتْ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِرِّيهَا ، فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ایک تھالی میں انہیں کچھ کھجوریں ہدیہ کیں، انہوں نے تھوڑی سی کھالیں اور کچھ چھوڑ دیں، اس عورت نے کہا آپ کو قسم دیتی ہوں کہ آپ یہ باقی کھجوریں بھی کھالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم پوری کردو، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن أبا الزاهرية لم يسمع من عائشه
حدیث نمبر: 24836
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنَّا نَسْتَحِي مِنْهُمْ ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا اسْتَسْمَعْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً ، فَإِنَّ عُثْمَانَ جَاءَهُ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ جَاءَهُ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ ، فَحَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ عَلَى أَنْ أَصْغَيْتُ إِلَيْهِ ، فَسَمِعْتُهُ , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُكَ قَمِيصًا تُرِيدُكَ أُمَّتِي عَلَى خَلْعِهِ ، فَلَا تَخْلَعْهُ " . فَلَمَّا رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَبْذُلُ لَهُمْ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا خَلْعَهُ ، عَلِمْتُ أَنَّهُ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات (جب وہ دوسرے سے کر رہے ہوں) کان لگا کر کبھی نہیں سنی، البتہ ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ حضرت عثمان غنی دوپہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سمجھی کہ شاید وہ خواتین کے معاملات میں گفتگو کررہے ہیں تو مجھے غیرت آئی اور میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما رہے تھے، عثمان ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، پھر جب میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان لوگوں کے سارے مطالبات پورے کردیتے ہیں سوائے خلافت سے دستبرداری کے تو میں سمجھ گئی کہ یہ وہی عہد ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذه السياقة، لأن والد إسحاق لم يسمع من عائشة كما صرح بذلك
حدیث نمبر: 24838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ . وَعَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِمَرِيضٍ ، قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 5675، م: 2191
حدیث نمبر: 24839
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِي النِّعْمَةَ " . قَالَ : وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، فَأَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ لَحْمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو انصار کے کچھ لوگوں سے خریدنا چاہا تو انہوں نے " ولاء " کی شرط لگا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا (اپنے خاوند سے نکاح ختم کردیا) اس کا خاوند غلام تھا، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1493، م: 1504
حدیث نمبر: 24840
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟ قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْبَيْتِ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24841
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سمع زائدة من عطاء قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 24842
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ ، فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنَ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ . قَالَ : فَكَانَتْ سَبْعَ مِئَةِ بَعِيرٍ . قَالَ : فَارْتَجَّتْ الْمَدِينَةُ مِنَ الصَّوْتِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا " . فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَقَالَ : إِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا ، فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اپنے گھر میں بیٹھی تھیں کہ مدینہ منورہ میں ایک شور و غلغلہ کی آواز سنائی دی، انہوں نے پوچھا کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا قافلہ شام سے آیا ہے اور اس میں ہر چیز موجود ہے، راوی کہتے ہیں کہ یہ قافلہ سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا اور مدینہ منورہ میں اس کا ایک غلغلہ بلند ہوگیا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا اگر میرے لئے ممکن ہوا تو میں کھڑا ہونے کی حالت میں ہی جنت میں داخل ہوں گا، یہ کہہ کر انہوں نے ان اونٹوں کا سارا سامان حتیٰ کہ رسیاں تک اللہ کے راستہ میں خرچ کردیں۔ فائدہ : اس حدیث کو محدثین نے موضوع روایت قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث منكر باطل لأجل تفرد عمارة
حدیث نمبر: 24843
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَفَّانُ : قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " . قَالَ شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ، قَالَ عَفَّانُ : قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِهِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 24844
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں مبارک ورم آلود ہوجاتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 4837، م: 2820
حدیث نمبر: 24845
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ أَبِي قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا ، قَالَتْ : فَغِرْتُ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ ، أَغِرْتِ ؟ " قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ ؟ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَمَعِي شَيْطَانٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت میرے پاس چلے گئے، مجھے بڑی غیرت آئی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور میری کیفیت دیکھ کر فرمایا : عائشہ ! کیا بات ہے ؟ کیا تمہیں غیرت آئی ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے جیسی بیوی آپ جیسے شوہر پر غیرت کیوں نہیں کھائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تمہارے شیطان نے پکڑ لیا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں نے عرض کیا کہ کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه، م: 2815
حدیث نمبر: 24846
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي أَمْرٍ يُنْتَهَكُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُرْمَةٌ ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2560، م: 2327
حدیث نمبر: 24847
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 24848
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَسِطُوهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے کاٹ کردو تکیے بنالو۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پھر ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24849
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَجَعَلْنَاهُنَّ وِسَادَتَيْنِ ، يعني : الستر.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24850
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ عَمْرٍو بِنْتِ خَوَّاتٍ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ : إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَهَا مَرَضٌ ، فَسَقَطَ شَعَرُهَا فَهُوَ مُوَفَّرٌ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُمَشِّطَهُ ، وَهِيَ عَرُوسٌ ، أَفَأَصِلُ فِي شَعَرِهَا ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خوات بن صالح، خ: 5934، م: 2133
حدیث نمبر: 24851
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " عَلَيْكُمْ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَلَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ ، قَالُوا : مَا كَانَ أَبُوكِ فَحَّاشًا ، فَلَمَّا خَرَجُوا ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ ؟ " قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : " فَمَا رَأَيْتِينِي قُلْتُ : عَلَيْكُمْ ، إِنَّهُ يُصِيبُهُمْ مَا أَقُولُ لَهُمْ ، وَلَا يُصِيبُنِي مَا قَالُوا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیکم یہ سن کر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ تم پر ہی اللہ کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت طاری ہو، اس پر وہ یہودی کہنے لگے کہ تمہارے والد تو اس طرح کی گفتگو نہیں کرتے، جب وہ چلے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وَعَلَیکُم (تم پر ہی موت طاری ہو) میں جو کہوں گا وہ انہیں جا پہنچے گا لیکن جو وہ کہیں گے، وہ مجھے نہیں پہنچے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات إلا أن ابا بكر لم يسمع من عائشة، وقد سلف بغير هذه السياقة بإسناد صحيح برقم: 24090
حدیث نمبر: 24852
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ ، فَسَقَطَ شَعَرُ رَأْسِهَا ، وَإِنَّ زَوْجَهَا قَدْ أَشْقَانِي ، أَفَتَرَى أَنْ أَصِلَ بِرَأْسِهَا ؟ فَقَالَ : " لَا ، فَإِنَّهُ لُعِنَ الْمَوْصُولَاتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5205، م: 2123
حدیث نمبر: 24853
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ الْأَيْلِيُّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا ، وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ مَسْحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ ! سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں جمع کرتے اور ان پر سورت اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر پھو نکتے اور جہاں جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر ان ہاتھوں کو پھیر لیتے اور سب سے پہلے اپنے سر اور چہرے اور سامنے کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے اور تین مرتبہ اس طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5017
حدیث نمبر: 24854
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَقْنِي عَلَى مَنْكِبَيْهِ لِأَنْظُرَ إِلَى زَفْنِ الْحَبَشَةِ ، حَتَّى كُنْتُ الَّتِي مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عبدالرحمن بن أبى الزناد متابع، م: 892 نحوه
حدیث نمبر: 24855
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ لِي عُرْوَةُ : إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَئِذٍ لَتَعْلَمُ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً ، إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24856
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عنبسة بن سعيد عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " أَجَلْ ، وَاللَّهِ مَا تَدْرِي , إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ " ، قُلْتُ : أَنْهَارًا ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ أَوْدِيَةً ، " ثُمّ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " أَجَلْ ، وَاللَّهِ مَا نَدْرِي " . حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ : وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سورة الزمر آية 67 ، فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا اچھا واقعی تمہیں معلوم نہیں ہوگا، اہل جہنم کے کانوں کی لو سے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت حائل ہوگی اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی، میں نے عرض کیا " نہریں " فرمایا نہیں بلکہ وادیاں، پھر دوبارہ پو چھا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا اچھا، واقعی تمہیں معلوم نہیں ہوگا، مجھے حضرت عائشہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پو چھا تھا قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان لپیٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تو یارسول اللہ ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم کے پل پر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24857
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " . فَقُلْتُ : عَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، تَرَى مَا لَا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَ عَلیہِ السلاَم وَرَحمَۃُ اللہِ یارسول اللہ ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3617
حدیث نمبر: 24858
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَيُونُسَ . وَعَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , وَيُونُسُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور مرض میں شدت آگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2593، م: 418