حدیث نمبر: 24459
حَدَّثَنَا حَسَنْ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24460
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ مِنْ حِينِ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَمَنْ حِينِ تَصُوبُ حَتَّى تَغِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے تاآنکہ وہ بلند ہوجائے اسی طرح غروب کے وقت منع فرمایا ہے تاآنکہ وہ مکمل غروب ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 24461
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ، وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ أَذَانِهِ ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَيَخْرُجَ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤ ذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤ ذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 736
حدیث نمبر: 24462
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا ، قُلْتُ : رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ . قَالَ : " وَرَأَيْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " . قَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ ، قَالَ سُفْيَانُ : الدَّخِيلُ : الضَّيْفُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جب دیا " وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ " اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد، وقد سلف بغير هذا السياق بإسناد صحيح برقم: 24281
حدیث نمبر: 24463
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ ؟ قَالَ : " الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ هُوَ جِهَادُ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یارسول اللہ ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 24464
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الشَّنِّيُّ مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
عمران بن حطان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرتا رہا، اس دوران قاضی کا تذکرہ آگیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن عدل و انصاف کرنے والے قاضی پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ تمنا کرے گا کہ اس نے کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے متعلق بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة صالح بن سرج، وتفرده
حدیث نمبر: 24465
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : شِهَابٌ ، فَقَالَ : " أَنْتَ هِشَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دوسرے سے یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ تمہارا کیا نام ہے ؟ اس نے جواب دیا شہاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام ہشام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24466
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا " ، فَقُلْتُ : أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ ؟ فَسَكَتَ . قَالَتْ : ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَسَارَّهُ ، فَذَهَبَ ، قَالَتْ : فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ ، فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا ، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ ، فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ وَلَا كَرَامَةَ " يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ عائشہ ! اگر ہمارے پاس کوئی ہوتا جو ہم سے باتیں ہی کرتا (تو وقت گذر جاتا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کسی کو بھیج کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد پھر وہی بات دہرائی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خادم کو بلا کر اس کے کان میں سرگوشی کی، وہ چلا گیا، کچھ ہی دیر بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے، پھر فرمایا عثمان ! اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین چاہیں کہ تم اسے اتار دو تو تم اسے اتار نہ دینا، یہ کوئی عزت والی بات نہ ہوگی، یہ جملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح من قوله: يا عثمان إن الله ... أو ثلاثا ، وهذا إسناد فيه ضعف لضعف فرج ابن فضالة
حدیث نمبر: 24467
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لَاحِقٍ ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ لِي : " مَا يُبْكِيكِ ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ ، فَيَنْزِلَ نَاحِيَتَهَا ، وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ ، فَيَخْرُجَ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى الشَّامِ مَدِينَةٍ بِفِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ " ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً : " حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ ، فَيَنْزِلَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقْتُلَهُ ، ثُمَّ يَمْكُثَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے دجال کا خیال آگیا اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دجال میری زندگی میں نکل آیا تو میں تمہاری اس سے کفایت کروں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کا خروج اصفہان کے علاقے " یہودیہ " سے ہوگا اور وہ سفر کرتا ہوا مدینہ منورہ آئے گا اور ایک جانب پڑاؤ کرے گا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہوں گے اور مدینہ منورہ میں جو لوگ برے ہوں گے وہ نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، پھر وہ شام روانہ ہوجائے گا اور فلسطین کے ایک شہر میں باب لد کے قریب پہنچے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوجائے گا اور وہ اسے قتل کردیں گے اور اس کے بعد چالیس سال تک زمین میں منصف حکمران اور انصاف کرنے والے قاضی کے طور پر زندہ رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24468
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْكَعْبَةِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وهو مكرر الحديث: 24351
حدیث نمبر: 24469
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ ، قَالَ : " شِبْرٌ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ ، قَالَ : " فَذِرَاعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جداً، الأن يزيد أبا المهزم منكر الحديث
حدیث نمبر: 24470
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ ، فَقَالُوا : أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ ، وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ " ، قَالُوا : فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو لوگوں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف وانقطاع، على بن زيد وهو ابن جدعان - ضعيف، والحسن لم يصح له سماع من عائشة
حدیث نمبر: 24471
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ . فَقَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ ، وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ، وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ ، كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا، یہ دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! درندے اور درخت آپ کو سجدہ کرسکتے ہیں تو ہمیں اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ آپ کو سجدہ کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبادت صرف اپنے رب کی کرو اور اپنے " بھائی کی عزت کرو، اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حکم دے کہ اس زرد پہاڑ سے اس سیاہ پہاڑ پر یا اس سیاہ پہاڑ سے اس سفید پہاڑ پر منتقل ہوجائے تو اس کے لئے یونہی کرنا اس کے حق میں مناسب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: لو كنت آمرا.... لزوجها صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24472
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُومُ فِي صَلَاةِ الآَيَاتِ ، فَيَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ يَسْجُدُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ يَسْجُدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز توبہ کے لئے کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ رکوع کرتے پھر سجدہ فرماتے، پھر تین مرتبہ رکوع کرتے اور سجدہ فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 901
حدیث نمبر: 24473
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى ، فَكَبَّرَ ، وَكَبَّرَ النَّاسُ ، ثُمَّ قَرَأَ ، فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ ، وَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَرَأَ ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ ر صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ پر پہنچ کر نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی زندگی اور موت سے گہن نہیں لگتا، اس لئے جب ایسا ہو تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح سليمان بن كثير - وإن كان ضعيفا فى الزهري- متابع
حدیث نمبر: 24474
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّ هِلَالٍ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى غَيْمًا إِلَّا رَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ الْهَيْجَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ ، سَكَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور جب بارش ہوجاتی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24475
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ نِسَائِهِ ، فَاتَّبَعْتُهُ ، فَأَتَى الْمَقَابِرَ ، ثُمَّ قَالَ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا بِكُمْ لَلَاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ " ، قَالَتْ : ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَرَآنِي ، فَقَالَ : " وَيْحَهَا ، لَوْ اسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ " قَالَ : ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ بقيع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑ گئی اور فرمایا افسوس ! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24476
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَسْتَأْذِنُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْمَرْأَةِ مِنَّا " بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51 قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا : مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لَهُ ؟ قَالَتْ : كُنْتُ أَقُولُ لَهُ : إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ ، فَإِنِّي لَا أُرِيدُ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کر دیں اور جیسے چاہیں اپنے قریب کر لیں۔۔۔۔ تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیا کرتے تھے، ہم میں سے جس کی بھی باری کا دن ہوتا، عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی تھی کہ یا رسول اللہ ! اگر یہ میرے اختیار میں ہے تو میں آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دینا چاہتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4789، م: 1476
حدیث نمبر: 24477
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ سَوْدَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْسِمُ لَهَا يَوْمَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ جب بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری کا دن مجھے دے دیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کا دن مجھے دیتے تھے اور وہ پہلی خاتون تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5212، م: 1463
حدیث نمبر: 24478
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ ، تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا ، وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا ، وَتَيْسِيرَ رَحِمِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہو جائے اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم سہل ہو (نطفہ قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24479
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ ، وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی کھانے لگتا ہے اور جو شخص بائیں ہاتھ سے پیتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی پینے لگتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 24480
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ ، بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ : إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ : رُدُّوهُ عَلَيَّ ، فَرَدُّوهُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، فَاقْبَلِيهِ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
مطلب بن حنطب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا ! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ، لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آ گئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کر لیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، المطلب بن حنطب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24481
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ ، فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جا رہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جارہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24482
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ ، وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي ، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4446
حدیث نمبر: 24483
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدِّثُهُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ ، فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ : مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ ، ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ ؟ قَالَتْ : " سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ ، فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ ، فَضَحِكْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، بعد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں ؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3625، م: 2450
حدیث نمبر: 24484
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي تَمْرِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً ، أَوْ قَالَ تِرْيَاقًا ، أَوَّلَ بُكْرَةٍ عَلَى الرِّيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24485
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَة ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ : " إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي ، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ " وقَالَ قُتَيْبَةُ : صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24486
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ ، فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ ؟ فَقَالَ : " إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے تھے، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر تم خیر کی بات کرو تو وہ قیامت تک کے لئے اس پر مہر بن جائیں گے اور اگر کوئی دوسری بات کرو تو وہ اس کا کفارہ بن جائیں گے اور وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24487
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا ، فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ " . فَقَالَتْ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَتْ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ . . . . وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ سورة الأحزاب آية 28 - 29 الْآيَةَ كُلَّهَا . قَالَتْ : فَقُلْتُ : قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ ، قَالَتْ : فَفَرِحَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24488
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ ، وَأَنَا حَائِضٌ ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک بستر پر سوجاتی تھی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی، البتہ میرے اوپر کپڑا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن أبى سلمة
حدیث نمبر: 24489
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَمِنْ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے یا طلوع آفتاب سے پہلے ایک رکعت پالے تو اس نے اس نماز کو پالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 609
حدیث نمبر: 24490
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ وَأَشْنَانٍ ، وَدَهَنَهُ بِشَيْءٍ مِنْ زَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ . قَالَتْ : وَحَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً ، فَأَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْمَرْتَ نِسَاءَكَ وَتَرَكْتَنِي ؟ فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ ، فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ، ثُمَّ لِتَقْضِ ، ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ " قَالَتْ : فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے سر کو خطمی اور اشنان سے دھو لیتے اور تھوڑا سا زیتون کا تیل لگا لیتے جو زیادہ نہ ہوتا تھا، ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حج کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دیگر بیویوں کو عمرہ کرادیا اور مجھے چھوڑ دیا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمایا کہ اپنی بہن کو لے جاؤ تاکہ یہ عمرہ کرلے اور تم انہیں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرا لاؤ، ان کا عمرہ مکمل ہوجائے تو حصبہ " سے کوچ کرنے کا رات سے پہلے میرے پاس انہیں لے آؤ، گو یا مقام حصبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف میری وجہ سے قیام فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 24491
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَقَالَ حَيْوَةُ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، هَلُمِّي الْمِدْيَةَ " ، ثُمَّ قَالَ : " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ " ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ، ثُمَّ ذَبَحَهُ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ ، وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا ایک ایسا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں دیکھتا ہوا، سیاہی میں بیٹھتا ہو (مکمل کالا سیاہ ہو) چنانچہ ایسا جانور قربانی کے لئے پیش کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور یہ کہتے ہوئے ذبح کردیا بسم اللہ، اے اللہ ! محمد و آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اسے قبول فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1976
حدیث نمبر: 24492
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا ، ثُمَّ وَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قلادہ باندھ کر اشعار کرتے اور انہیں بیت اللہ کی طرف روانہ کرکے خود مدینہ منورہ میں رہتے اور حلال چیزوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر حرام نہ کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
حدیث نمبر: 24493
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَطْحَاءِ لَيْلَةَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کی رات " حصباء " سے رات کے وقت روانگی اختیار فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 24494
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ ، جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا ، فَقَالَ : " إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً " يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا ، فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا ، وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتْ السِّتْرَ ، فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی بیٹی کے نکاح کا ارادہ فرماتے تو اس کے پردے میں جا کر بیٹھتے اور فرماتے کے فلاں آدمی فلاں عورت کا ذکر کر رہا تھا اور اس میں اس بیٹی کا اور اس سے نکاح کی خواہش رکھنے والے آدمی کا نام ذکر فرماتے، اگر وہ خاموش رہتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نکاح فرمادیتے اور اگر اسے وہ رشتہ ناپسند ہوتا تو وہ پردہ ٹھیک کرنے لگتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نکاح نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
حدیث نمبر: 24495
قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ الْعَيْشِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے لوگ میت پر رو رہے ہوتے ہیں اور اسے قبر میں اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہورہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3979، م: 932
حدیث نمبر: 24496
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ " ، قَالَ الْقَوْمُ : مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ " ، قَالَ : مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ لَهُمْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں چھینک آگئی، اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں کیا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحَمدُ لِلَہِ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں کیا کہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحمدُ للہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم اسے کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے یَرحَمُک اللہ کہو۔ چھینکنے والے نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! میں انہیں کیا جواب دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں یھدیکمُ اللہ وَ یصلح بالکم کہہ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو معشر ضعيف، وشيخه عبدالله بن يحيى مجهول
حدیث نمبر: 24497
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نُجَاهِدُ مَعَكُمْ ؟ فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ أَبَدًا بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بہترین اور خوبصورت جہاد حج ہی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سننے کے بعد اب میں کبھی حج ترک نہ کروں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1861
حدیث نمبر: 24498
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ ، وَأُتِيَ بِجِنَازَتِهِ ، أَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ أَنْ يُمَرَّ بِهِ عَلَيْهَا ، فَشُقَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَتْ لَهُ ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ ، " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، صالح بن عجلان مجهول ولكن توبع