حدیث نمبر: 24290
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : خَرَجَتْ سَوْدَةُ لِحَاجَتِهَا لَيْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ امْرَأَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ ، جَسِيمَةً ، فَوَافَقَهَا عُمَرُ فَأَبْصَرَهَا ، فَنَادَاهَا يَا سَوْدَةُ ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا ، إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ ، أَوْ كَيْفَ تَصْنَعِينَ ؟ فَانْكَفَأَتْ ، فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى ، فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ لَهَا عُمَرُ ، وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِي يَدِهِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد ایک مرتبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ قضاء حاجت کے لئے نکلیں، چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر دور سے ہی پکارا سودہ ! واللہ جب تم نکلتی ہو تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتیں اس لئے دیکھ لیا کرو کہ کس کیفیت میں باہر نکل رہی ہو، حضرت سودہ رضی اللہ عنہ الٹے قدموں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات ذکر کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی، اسی لمحے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں وہ ہڈی اسی طرح تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اپنی ضروریات کے لئے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 24291
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُقَبِّلُ الصِّبْيَانَ ؟ ! فَوَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَمْلِكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَزَعَ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بچوں کو چومتے ہیں ؟ واللہ ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو اس بات پر قدرت نہیں ہے کہ جب اللہ ہی نے تیرے دل سے رحمت کو کھینچ لیا ہے (تو میں کیسے ڈال دوں ؟ ) ۔
حدیث نمبر: 24292
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
حدیث نمبر: 24293
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 24294
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ فِي الْأَكْحَلِ ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں ایک تیر آکر لگا جو قریش کے " حبان بن عرقہ " نامی ایک آدمی نے انہیں مارا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ہی ان کا خیمہ لگوا دیا تاکہ قریب ہی سے ان کی عیادت کرلیا کریں۔
حدیث نمبر: 24295
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ ، وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَعَلَى رَأْسِهِ الْغُبَارُ ، قَالَ : قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ ، فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهَا ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيْنَ ؟ " ، قَالَ : هَاهُنَا ، فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، قَالَ هِشَامٌ : فَأَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ . قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقَتَّلَ الْمُقَاتِلَةُ ، وَتُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ ، وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ ، قَالَ هِشَامٌ : قَالَ أَبِي : فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبرائیل اس حال میں حاضر ہوئے کہ ان کے سر پر گردوغبار پڑا ہوا تھا اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا ؟ واللہ میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ ان کی طرف روانہ ہوجائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس طرف ؟ انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہاں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوگئے اور وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اپنے قلعوں سے اتر نے کے لئے تیار ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے سپرد کردیا، انہوں نے فرمایا میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو لوگ قتل کردیئے جائیں، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور ان کا مال و دولت تقسیم کرلیا جائے۔
حدیث نمبر: 24296
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، قَالَتْ : فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ ، فَطَأْطَأَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ ، حَتَّى شَبِعْتُ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
حدیث نمبر: 24297
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الْمَعْنَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ ، لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ، ثُمَّ جَعَلْتُهَا عَلَى أُسِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّ قُرَيْشًا يَوْمَ بَنَتْهَا اسْتَقْصَرَتْ ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ " خِلْفًا ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اس کا ایک دروازہ پیچھے سے بھی نکالتا۔
حدیث نمبر: 24298
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ ، وَيَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي ، فَإِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَمَّعْنَ مِنْهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُهُنَّ عَلَيَّ ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مری ہے کہ کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں اور جوں ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
حدیث نمبر: 24299
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً ، فَهَلَكَتْ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا ، فَوَجَدُوهَا ، فَأَدْرَكَتْهُمْ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ " ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ : " جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا ، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہ سے عاریۃً ایک ہار لیا تھا، دوران سفر وہ کہیں گر کر گم ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وہ ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا، ہار تو انہیں مل گیا لیکن نماز کا وقت ہوگیا تھا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے کا ارادہ کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما دیا، اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، واللہ آپ پر جب بھی کوئی مشکل پیش آئی ہے جسے آپ ناگوار سمجھتی ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے اسی میں آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے خیر رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 24300
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنْ يَفْعَلَ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ ، قَالَتْ : حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ ، أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، شَعَرْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ، جَاءَنِي رَجُلَانِ ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ ، أَوْ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : مَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ أَرْوَانَ " ، قَالَتْ : فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلَّا أَحْرَقْتَهُ ؟ قَالَ : " لَا ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا " ، قَالَتْ : فَأَمَرَ بِهَا ، فَدُفِنَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی " جس کا نام لبید بن اعصم تھا " نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتادیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کو کیا بیماری ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے ؟ اس نے پوچھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے ؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے ؟ دوسرے نے بتایا ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشہ غلاف میں، اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے بتایا کہ " اروان " نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اے عائشہ ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہوتا ہے اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 24301
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : " اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ ، فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں جہنم کے فتنے سے اور عذاب جہنم سے، قبر کے فتنے سے اور عذاب قبر سے، مالداری کے فتنے اور تنگدستی کے فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیتا ہے اور میرے گناہوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ پیدا فرما دے، اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، گناہوں اور تاوان سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 24302
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قِيلَ لَهَا إِنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " ، قَالَتْ : وَهِل أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّمَا قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْمَيِّتِ يَبْكُونَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِجُرْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میت والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں اور اسے اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہورہا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 24303
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي مَرَضِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَصَلَّى وَخَلْفَهُ قَوْمٌ قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 24304
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ ، فقال عمار : السلام عليك يا أمتاه ، فقالت : السلام على من اتبع الهدى ، حتى أعادها عليها مرتين ، أو ثلاثا ، ثم قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِهْتِ ، قَالَتْ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا الْأَشْتَرُ ، قَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي ، قَالَ : نَعَمْ ، قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَهُ ، قَالَتْ : أَمَا لَوْ فَعَلْتَ ، مَا أَفْلَحْتَ ، أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ ، فَقَدْ سَمِعْتَ ، أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مَنْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ ، أَوْ كَفَرَ بَعْدَمَا أَسْلَم ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن غلاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، عمار اور اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان ! السلام علیک انہوں نے جواب میں فرمایا : السلام علی من اتبع الھدی " (اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار نے دو تین مرتبہ انہیں سلام کیا اور پھر کہا کہ واللہ آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں ! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور اے عمار ! تم نے یا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخض کو قتل کرنا جس بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 24305
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " لَمْ تَكُنْ صَلَاةٌ أَحْرَى أَنْ يُؤَخِّرَهَا إِذَا كَانَ عَلَى حَدِيثٍ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، وَمَا صَلَّاهَا قَطُّ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعًا أَوْ سِتًّا ، وَمَا رَأَيْتُهُ يَتَّقِي عَلَى الْأَرْضِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنِّي أَذْكُرُ أَنَّ يَوْمَ مَطَرٍ أَلْقَيْنَا تَحْتَهُ بَتًّا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى خَرْقٍ فِيهِ يَنْبُعُ مِنْهُ الْمَاءُ " . .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی گفتگو میں مشغول ہوتے تو نماز عشاء سے زیادہ کسی نماز کو موخر کرنے والے نہ تھے اور نماز عشاء پڑھ کر جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ضرور پڑھتے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین پر کسی چیز سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ ایک دن کا واقعہ مجھے یاد ہے کہ بارش ہورہی تھی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے موٹا کپڑا بچھا دیا، تو میں نے دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس سے پانی اندر آرہا تھا۔
حدیث نمبر: 24306
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، قَالَ : بَتًّا ، يَعْنِي النِّطَعَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24307
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ ، فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً ، فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَرَّمَةً ، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا عَائِشَةُ ، عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیہات میں جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
حدیث نمبر: 24308
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی تو ڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
حدیث نمبر: 24309
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " إِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات سردی کی صبح میں وحی نازل ہوتی تھی اور ان کی پیشانی پسینے سے تر ہوجاتی۔
حدیث نمبر: 24310
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ، ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھ سے نکاح فرمانے سے تین سال قبل ہی وہ فوت ہوگئی تھیں اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا بکثرت ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو جنت میں لکڑی کے ایک عظیم الشان مکان کی خوشخبری دے دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔
حدیث نمبر: 24311
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعَلَى مَكَّةَ ، وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی حصے سے داخل ہوئے تھے اور عمرے میں نشیبی حصے سے داخل ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 24312
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : فَزِعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، وَفَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَدَدْتُ يَدِي ، فَوَقَعَتْ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مُنْتَصِبَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں سخت خوفزدہ ہوگئی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نے ہاتھ بڑھا کر محسوس کرنے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے ٹکرا گئے جو کھڑے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور یہ دعا فرما رہے تھے کہ اے اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
حدیث نمبر: 24313
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَزَيْدِ ابْنِ حَارِثَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ ، فَذَكَرَ مِنْ بُكَائِهِنَّ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ ، وَإِنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ ، حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَزَعَمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " احْثُوا فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : أَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا قَالَ لَكَ ، وَلَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کردو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، واللہ تو وہ کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دیتے ہیں اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 24314
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ يَجْعَلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ثَوْبًا " ، يَعْنِي الْفَرْجَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کے جسم کے ساتھ اپنا جسم ملا لیتے تھے اور اپنے اور ان کے درمیان کپڑا حائل رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 24315
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 24316
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَى وَيُحِبُّ الْعَسَلَ ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ ، فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقِيلَ لِي : أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ ، وَقُلْتُ : إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ ، فَقُولِي لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلْتَ مَغَافِرَ ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لَا ، فَقُولِي لَهُ : مَا هَذِهِ الرِّيحُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ : سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ، فَقُولِي لَهُ : جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ ، وَسَأَقُولُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقُولِي لَهُ : أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ ، قَالَتْ سَوْدَةُ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي : وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلْتَ مَغَافِرَ ؟ قَالَ : " لَا " ، قُلْتُ : فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ ؟ قَالَ : " سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ " ، قُلْتُ : جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ ، قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي بِهِ " ، قَالَ : تَقُولُ سَوْدَةُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ ، قُلْتُ لَهَا : اسْكُتِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیزیں اور شہد محبوب تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے اور انہیں اپنا قرب عطا فرماتے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو معمول سے زیادہ وقت تک ان کے پاس رکے رہے، میں نے اس کے متعلق پوچھ گچھ کی تو مجھے معلوم ہوا کہ حفصہ کو ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کا ایک برتن ہدیہ میں بھیجا ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ شہد پلایا ہے (جس کی وجہ سے انہیں تاخیر ہوئی) میں نے دل میں سوچا کہ واللہ میں ایک تدبیر کروں گی، چنانچہ میں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ سے اس واقعے کا تذکرہ کیا اور ان سے کہلایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم ان سے کہہ دینا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مغافیر (ایک خاص قسم کا گوند جس میں بدبو ہوتی ہے) کھایا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ نہیں، تم ان سے کہنا کہ پھر یہ بدبو آپ کے منہ سے کیسی آرہی ہے ؟ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے بہت سخت نفرت ہے، اس لئے وہ کہہ دیں گے کہ مجھے حفصہ نے شہد پلایا ہے، تم ان سے کہہ دینا کہ شاید شہد کی مکھی اس کے درخت پر بیٹھ گئی ہوگی، میں بھی ان سے یہی کہوں گی اور صفیہ ! تم بھی ان سے یہی کہنا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے تو وہ کہتی ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تمہارے خوف سے میں یہ بات اسی وقت کہنے لگی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دروازے پر ہی تھے، بہر حال ! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو میں نے حسب پروگرام وہی بات کہہ دی اور وہی سوال جواب ہوئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی یہیں کہا، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کو شہد نہ پلاؤں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی طلب نہیں ہورہی، اس پر حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے کہا سبحان اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کو چھڑادیا، میں نے ان سے کہا کہ تم تو خاموش رہو۔
حدیث نمبر: 24317
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا وَمَا عَلِمْتُ بِهِ ، فَتَشَهَّدَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي نَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي ، وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي سُوءًا قَطُّ ، وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ ؟ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ ، وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ ، وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي " ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كَانُوا مِنَ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، حَتَّى كَادُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ فِي الْمَسْجِدِ شَرٌّ ، وَمَا عَلِمْتُ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَعَثَرَتْ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ : عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَسَكَتَتْ ، فَعَثَرَتْ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ : عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ ثُمَّ عَثَرَتْ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَانْتَهَرْتُهَا ، فَقُلْتُ : عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ ، فَقُلْتُ : فِي أَيِّ شَأْنِي ؟ فَذَكَرَتْ لِي الْحَدِيثَ ، فَقُلْتُ : وَقَدْ كَانَ هَذَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي ، فَكَأنَ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَمْ أَخْرُجْ لَهُ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا ، وَوَعَكْتُ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي ، فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ ، فَدَخَلْتُ الدَّارَ ، فَإِذَا أَنَا بِأُمِّ رُومَانَ ، فَقَالَتْ : مَا جَاءَ بِكِ يَا ابْنَتَهْ ؟ فَأَخْبَرْتُهَا ، فَقَالَتْ : خَفِّضِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتْ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ تَكُونُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقُلْنَ فِيهَا ، قُلْتُ : وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ؟ قَالَتْ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَعْبَرْتُ ، فَبَكَيْتُ ، فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ لِأُمِّي : مَا شَأْنُهَا ؟ فَقَالَتْ : بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ أَمْرِهَا ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ يَا ابْنَتَهْ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ ، فَرَجَعْتُ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي ، فَلَمْ يَزَالَا عِنْدِي حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَقَدْ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، فَتَشَهَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، يَا عَائِشَةُ ، إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا وَظَلَمْتِ تُوبِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ " ، وَقَدْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَحْيِي مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَقُولَ شَيْئًا ؟ فَقُلْتُ لِأَبِي : أَجِبْهُ ، فَقَالَ : أَقُولُ مَاذَا ؟ فَقُلْتُ لِأُمِّي : أَجِيبِيهِ ، فَقَالَتْ : أَقُولُ مَاذَا ؟ فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَاهُ ، تَشَهَّدْتُ ، فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَّا بَعْدُ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ ، وَاللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ ، مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ ، لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُكُمْ ، وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ ، لَتَقُولُنَّ قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ وَمَا أَحْفَظُ اسْمَهُ صَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ، فَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَتَئِذٍ ، فَرُفِعَ عَنْهُ ، وَإِنِّي لَأَسْتَبِينُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ، فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَك " ، فَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا ، فَقَالَ لِي أَبَوَايَ : قُومِي إِلَيْهِ ، قُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا ، لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ ، وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي ، وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ، فَسَأَلَ الْجَارِيَةَ عَنِّي ؟ فَقَالَتْ : لَا وَاللَّه ، مَا أَعْلَمُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَنَامُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ خَمِيرَتَهَا أَوْ عَجِينَتَهَا ، شَكَّ هِشَامٌ ، فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ ، وَقَالَ : اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَى مَنْ قَالَهُ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، مَا أَعْلَمُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ ، وَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ ، فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَمَّا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِدِينِهَا ، فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا ، وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ ، وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيهِ الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ ، وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ ، ومِسْطَحٌ ، وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ سورة النور آية 22 ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ ، أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ سورة النور آية 22 ، يَعْنِي مِسْطَحًا ، أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى وَاللَّهِ ، إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفَرَ لَنَا ، وَعَادَ أَبُو بَكْرٍ لمِسْطَحٍ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میرے متعلق لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے اور جن کا مجھے علم نہیں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، شہادتین کا اقرار کیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کی جو اس کے شایان شان ہو اور امابعد کہہ کر فرمایا کہ مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو جنہوں نے میرے گھر والوں پر الزام لگایا ہے، واللہ میں اپنے گھر والوں پر اور جس شخص کے ساتھ لوگوں نے انہیں متہم کیا ہے، کوئی برائی نہیں جانتا واللہ وہ جب بھی میرے گھر آیا ہے، میری موجودگی میں ہی آیا ہے اور میں جب بھی سفر پر گیا ہوں وہ میرے ساتھ رہا ہے، یہ سن کر حضرت سعد بن معا ذرضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گردنیں اڑا دیں پھر قبیلہ خزرج کا ایک آدمی کھڑا ہوا، ام حسان بن ثابت اسی شخص کے گروہ میں تھی اور کہنے لگا کہ آپ غلط کہتے ہیں، اگر ان لوگوں کا تعلق قبیلہ اوس سے ہوتا تو آپ ان کی گردنیں اڑائے جانے کو کبھی اچھا نہ سمجھتے، قریب تھا کہ مسجد میں ان دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی ہوجاتی۔ بہر حال ! اسی دن کی شام کو میں قضاء حاجت کے لئے نکلی، میرے ساتھ ام مسطح تھیں، راستے میں ان کا پاؤں چادر میں الجھا اور وہ گرپڑیں، ان کے منہ سے نکلا مسطح ہلاک ہو، میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو کیوں برا بھلا کہہ رہی ہیں ؟ وہ خاموش ہوگئیں، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر انہوں نے کہا کہ میں تو اسے تمہاری وجہ سے ہی برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے ان سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے مجھے ساری بات بتائی، میں نے ان سے پوچھا کیا واقعی اس طرح ہوچکا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! جب میں اپنے گھر آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سلام کرکے حال دریافت کیا تو میں نے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہاں جانے سے میری غرض یہ تھی کہ والدین سے یقینی خبر مجھے معلوم ہوجائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے جاکر پوچھا اماں لوگ کیا چرچا کررہے ہیں۔ والدہ نے کہا بیٹی تم کو گھبرانا نہ چاہیے اللہ کی قسم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو عورت خوبصورت ہوتی ہے اور اپنے شوہر کی چہیتی ہوتی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں ہمیشہ اس میں عیب نکالتی رہتی ہیں۔ سبحان اللہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا والد صاحب کو اس کا علم ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں نے پوچھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ؟ انہوں نے کہا ہاں ! اس پر میرے آنسو نکل آئے اور میں رونے لگی، والد صاحب جو گھر کے اوپر تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے میری آواز سنی تو نیچے آکر والدہ سے پوچھا اسے کیا ہوا ؟ انہوں نے بتایا کہ اسے بھی وہ واقعہ معلوم ہوگیا ہے اس لئے رو رہی ہے، انہوں نے فرمایا بیٹا ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اپنے گھر واپس چلی جاؤ، چنانچہ میں چلی گئی، تھوڑی دیر بعد وہ دونوں میرے یہاں آگئے اور میرے پاس ہی رہے یہاں تک کہ عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر کے بعد تشریف لے آئے، میرے دائیں بائیں میرے والدین تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑھا اور حمدوثناء کے بعد فرمایا : عائشہ ! میں نے تیرے حق میں اس قسم کی باتیں سنی ہیں اگر تو گناہ سے پاک ہے تو عنقریب اللہ تعالیٰ تیری پاک دامنی بیان کردے گا اور اگر تو گناہ میں آلودہ ہوچکی ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی کی طالب ہو اور اسی سے توبہ کر کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ معاف کردیتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ کلام کرچکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے اور ایک قطرہ بھی نہ نکلا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے حضرت کو جواب دیجئے۔ والد نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے والدہ سے کہا تم جواب دو انہوں نے بھی یہی کہا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتی کیا جواب دوں۔ میں اگرچہ کم عمر لڑکی تھی اور بہت قرآن بھی پڑھی نہ تھی لیکن میں نے کہا اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ یہ بات آپ نے سنی ہے اور یہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کروں (اور اللہ گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے اللہ کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا فَصَبرُ جَمِیلُ وَاللَہُ المُستَعَا نُ عَلَی ماَ تَصِفُونَ ۔ اسی وقت آپ پر اپنی کیفیت کے ساتھ وحی نازل ہوئی یہاں تک کہ چہرہ مبارک سے موتیوں
حدیث نمبر: 24318
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَاكَ ؟ قَالَ : " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، قُلْتُ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جاتا ہے اور جب تم راضی ہوتی ہو تو مجھے اس کا بھی پتہ چل جاتا ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو اس کا کیسے پتہ چل جاتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ناراض ہوتی ہو تو تم لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ کہتی ہو اور جب تم راضی ہو تو تم لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام کہتی ہو، میں نے عرض کی آپ صحیح فرماتے ہیں لیکن واللہ میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں (دل میں کوئی بات نہیں ہوتی) ۔
حدیث نمبر: 24319
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ ، فَيَقُولُونَ : إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُرَى ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ قَلْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی ایسے کام کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں اور وہ کہتے یا رسول اللہ ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوجاتے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگتے تھے اور فرماتے کہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق سب سے زیادہ جانتا اور تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 24320
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت " كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدْ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ ، وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ ، وَرَفَقُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جنگ بعاث ایک ایسا دن تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پہلے رونما کردیا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس سے قبل اہل مدینہ متفرق ہوچکے تھے، ان کے سردار قتل ہوچکے تھے اور اسلام میں داخل ہونے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے سامنے نرم ہوچکے تھے۔
حدیث نمبر: 24321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " لَمَّا نَزَلَتْ بَرَاءَتِي ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُمْ ، وَحَدَّهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میری برائت کی آیات نازل ہوئیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کر کے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور جب نیچے اترے تو دو آمیوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا چنانچہ انہیں سزا دی گئی۔
حدیث نمبر: 24322
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ . وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَتَحَجَّرُهَا عَلَيْنَا بِاللَّيْلِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، فَسَمِعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ صَلَاتَهُ ، فَأَصْبَحُوا ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّاسِ ، فَكَثُرَ النَّاسُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْوَمَهَا وَإِنْ قَلَّ ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا ، وَقَالَ يَزِيدُ حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ ، وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کردیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔
حدیث نمبر: 24323
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَأَرَانِي الْقَمَرَ حِينَ طَلَعَ ، فَقَالَ : " تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الْغَاسِقِ إِذَا وَقَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
حدیث نمبر: 24324
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيَّ ، عَنْ جَسْرَةَ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَتْ : إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ ، فَقُلْتُ : كَذَبْتِ ، قَالَتْ : بَلَى ، إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَقَدْ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ ، فَقَالَ : " صَدَقَتْ " ، قَالَتْ : فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس نے اس کی تکذیب کی، اس نے اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو کپڑے یا جسم کی کھال پر پیشاب لگ جا نے سے اس کو کھرچ ڈالتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے جاچکے تھے، جبکہ دوران گفتگو ہماری آوازیں اونچی ہوگئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ماجرا ہے ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس یہودیہ کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے، پھر اس دن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز بھی پڑھائی، اس کے بعد بلند آواز سے یہ دعاء ضرور کی کہ اے جبرائیل و میکا ئیل اور اسرافیل کے رب اللہ ! مجھے جہنم کی گرمی اور عذاب قبر سے محفوظ فرما۔
حدیث نمبر: 24325
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حدیث نمبر: 24326
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
حدیث نمبر: 24327
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حدیث نمبر: 24328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْتَى بِالْإِنَاءِ ، فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ ، وَإِنْ كُنْتُ لَآخُذُ الْعَرْقَ ، فَآكُلُ مِنْهُ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 24329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرکے انہیں بوسہ دیتے، پھر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھا دیتے۔
…