حدیث نمبر: 24210
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7 ، " فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ ، فَهُمْ الَّذِينَ عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَاحْذَرُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24211
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت اور برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 24212
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْنَا لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : " أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَتْ : " كَذَاكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى . .
مولانا ظفر اقبال
ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی ہیں، ان میں سے ایک صحابی افطار میں بھی جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی، جبکہ دوسرے صحابی افطار میں بھی تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی، انہوں نے فرمایا کہ افطار اور نماز میں عجلت کون کرتے ہیں ؟ ہم نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1099
حدیث نمبر: 24213
حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ ، وَقَالَ : " يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السَّحُورَ " . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 24214
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : قُلْنَا لِعَائِشَةَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ ، وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ ، وَيُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ ، فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مؤمل ثقة فى سفيان
حدیث نمبر: 24215
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا " ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ ، فَيَتَجَاوَزَ عَنْه ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ ، هَلَكَ ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ عَنْه ، حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! میرا حساب آسان کر دیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! آسان حساب سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگذر کیا جائے، عائشہ ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہوجائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول فى بعض صلاته: اللهم حاسبني .... فهذه الزيادة تفرد بها محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 24216
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُهُ ، فَمَضَغْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ ، فَسَقَطَ مِنْ يَدِه ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهِ إِذَا مَرِضَ ، فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ ، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ : " الرَّفِيقُ الْأَعْلَى ، الرَّفِيقُ الْأَعْلَى " ، يَعْنِي وَفَاضَتْ نَفْسُهُ ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گرگئی، یہ دیکھ کر میں وہ دعائیں پڑھنے لگیں جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے موقع پر پڑھتے تھے لیکن اس موقع پر انہوں نے وہ دعائیں نہیں پڑھی تھیں، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا رفیق اعلیٰ ، رفیق اعلیٰ اور اسی دم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کرگئی، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4451
حدیث نمبر: 24217
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن بن إسحاق فإنه حسن الحديث
حدیث نمبر: 24218
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ ، فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ ، اسْتَقْبَلَهُ ، فَقَال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، حَوِّلِي هَذَا ، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ، ذَكَرْتُ الدُّنْيَا " ، وَكَانَتْ لَنا قَطِيفَةٌ ، كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ ، فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، جب کوئی آدمی گھر میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے اس کی نظر اسی پر پڑتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ ! اس پردے کو بدل دو ، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں، ہم اسے اوڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2107
حدیث نمبر: 24219
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ سَائِبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ ، " وَأَمَرَنَا بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ " ، قَالَ " إِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24220
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَيَقُولُ : " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونِيهِ ؟ " ، فَتَقُولُ : لَا ، مَا أَصْبَحَ عِنْدَنَا شَيْءٌ كَذَاكَ ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ، فَخَبَأْنَاهَا لَكَ ، قَالَ : " مَا هِيَ ؟ " ، قَالَتْ : حَيْسٌ ، قَالَ : " قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " ، فَأَكَلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے اور روزے سے ہوتے، پھر پوچھتے کہ آج صبح تمہارے پاس کچھ ہے جو تم مجھے کھلا سکو ؟ وہ جواب دیتیں کہ نہیں، آج ہمارے پاس صبح کے اس وقت کچھ نہیں ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ پھر میں روزے سے ہی ہوں اور کبھی آتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ دیتیں کہ ہمارے پاس کہیں سے ہدیہ ہے جو ہم نے آپ کے لئے رکھا ہوا ہے جیسا کہ ایک موقع پر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ حیس (ایک قسم کا حلوہ) ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے صبح تو روزے کی نیت کی تھی، پھر اسے تناول فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1154
حدیث نمبر: 24221
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ وَكَانَ ثِقَةً وَيُقَالُ لَهُ : ابْنُ عَمَّارِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ مَدِينِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فُضِّلَتْ الْجَمَاعَةُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جماعت کے ساتھ نماز کی فضیلت تنہا نماز پڑھنے پر پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24222
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ " ، فَجَاءَتْ مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوْ الثَّمَانِيَةِ أَوْ التِّسْعَةِ ، فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ لَقِيَهُ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ! أَنْفِقِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! وہ سونا کیا ہوا ؟ وہ پانچ سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جبکہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں ؟ انہیں خرچ کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو
حدیث نمبر: 24223
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، رَبِّ اغْفِرْ لِي " ، يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثر ت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ رَبِّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن پر عمل فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 817، م: 484
حدیث نمبر: 24224
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
حدیث نمبر: 24225
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ عُمرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، فَأَقُولُ قَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 24226
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ، فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24227
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : أَتَى مَسْرُوقٌ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ ؟ قَالَتْ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ ، مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ ، فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ ، فَقَدْ كَذَبَ ، ثُمَّ قَرَأَتْ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ سورة الأنعام آية 103 ، وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51 ، وَمَنْ أَخْبَرَكَ بِمَا فِي غَدٍ ، فَقَدْ كَذَبَ ، ثُمَّ قَرَأَتْ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ سورة لقمان آية 34 ، وَمَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ ، فَقَدْ كَذَبَ ، ثُمَّ قَرَأَتْ : يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67 ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور عرض کیا اے ام المومنین ! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! تمہاری بات سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں، تم ان تین باتوں سے کیوں غافل ہو ؟ جو شخص بھی تمہارے سامنے یہ باتیں بیان کرے، وہ جھوٹ بولتا ہے، جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی " نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے، نیز یہ آیت کہ کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ سے اس باتیں کرے، سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو یا پردہ کے پیچھے سے ہو۔ " اور جو شخص تمہیں آئندہ کل کی خبریں دے، وہ جھوٹ بولتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے ؟ اور جو شخص تمہیں یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چھپایا ہے، تو وہ بھی جھوٹ بولتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی " اے رسول ! وہ تمام چیزیں پہنچا دیجئے جو آپ پر نازل کی گئی ہیں۔ " البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل امین کو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4612، م: 177
حدیث نمبر: 24228
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحُمَّى ، أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5725، م: 2210
حدیث نمبر: 24229
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5725، م: 2210
حدیث نمبر: 24230
حَدَّثَنَا يحْيَى ، عن هِشَام ، قال : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ ، وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ ، فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3831، م: 1125
حدیث نمبر: 24231
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : يَحْيَى قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينَا إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ ؟ قَالَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! ابوسفیان ایک ایسے آدمی ہیں جن میں کفایت شعاری کا مادہ کچھ زیادہ ہی ہے اور میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ گھر میں لاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے مال میں سے اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہوجائے لیکن یہ ہو بھلے طریقے سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5364، م: 1714
حدیث نمبر: 24232
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقِدُونَ فِيهِ نَارًا ، لَيْسَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللَّحْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مہینہ مہینہ ایسا گذر جاتا تھا جس میں وہ آگ تک نہیں جلاتے تھے اور ان کے پاس کھجور اور پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا، الاّ یہ کہیں سے گوشت آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6458، م: 2972
حدیث نمبر: 24233
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَيَقُولُ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " ، يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2019، م: 1172
حدیث نمبر: 24234
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي يَقُولُ : " امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ ، لَا يَكْشِفُ الْكَرْبَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5744، م: 2191
حدیث نمبر: 24235
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : قَالَتْ : لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي ، " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجے ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یہاں کبھی بھی عصر کے بعد دو رکعتیں ترک نہیں فرمائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 591، م: 835
حدیث نمبر: 24236
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان بستر پر لیٹی ہوتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگتے تو مجھے جگا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 512، م: 512
حدیث نمبر: 24237
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی نے جادو کردیا، جس کے اثر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے، حالانکہ وہ نہیں کیا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3175، م: 2189
حدیث نمبر: 24238
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَيُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 295، م: 297
حدیث نمبر: 24239
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُوتِرُ بِخَمْسٍ ، لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ ، فَيُسَلِّمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 24240
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ذَبَحُوا شَاةً ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا ، قَالَ : " كُلُّهَا قَدْ بَقِيَ إِلَّا كَتِفَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اب اس کا صرف شانہ باقی بچا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں سمجھو کہ اس شانے کے علاوہ سب کچھ بچ گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24241
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، وَابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، قَالَ : " هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 725
حدیث نمبر: 24242
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ " . وعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، راجع: 24175
حدیث نمبر: 24243
حدثنا يحيى ، حدثنا هشام ، حدثني أبى ، عن عائشة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، مثله.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 24244
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6179، م: 2250
حدیث نمبر: 24245
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، وَعِنْدَهَا فُلَانَةُ ، لِامْرَأَةٍ ، فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا ، فَقَالَ : " مَهْ ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا ، إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، واللہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
حدیث نمبر: 24246
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھانا پیش کردیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 671، م: 558
حدیث نمبر: 24247
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّمَا قَالَ : " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، انہیں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24248
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : جَاءُوا بِعُسٍّ فِي رَمَضَانَ ، فَحَزَرْتُهُ ثَمَانِيَةَ أَوْ تِسْعَةَ أَوْ عَشْرَةَ أَرْطَالٍ ، فَقَالَ مُجَاهِدٌ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِمِثْلِ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ لوگ ماہ رمضان میں ایک بڑا پیالہ لے کر آئے، میں نے اندازہ لگایا کہ اس میں آٹھ نو یا دس رطل پانی ہوگا، تو مجاہد نے بتایا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے پانی سے غسل فرمالیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24249
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالت : دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا وَادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ " ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ يَجْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " ، قَالُوا : الَّذِي نَهَيْتَ عَنْهُ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ، قَالَ : " إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنْهُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ ، فَكُلُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَادَّخِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دفعہ بقر عید کے قریب اہل دیہات میں غونیا کی بیماری پھیل گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کا گوشت کھاؤ اور صرف تین دن تک ذخیرہ کرکے رکھو، اس واقعے کے بعد کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! لوگ اپنی قربانی کے جانوروں سے فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کی چربی پگھلا لیا کرتے تھے اور اس کے مشکیزے بنا لیا کرتے تھے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اب کیا ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اس بیماری کی وجہ سے منع کیا تھا جو پھیل رہی تھی، اب تم اسے کھاؤ صدقہ کرو یا ذخیرہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1971