حدیث نمبر: 24170
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ " ، قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 24171
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْفَقَتْ " ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : " إِذَا أَطْعَمَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا " ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيةَ : " إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا ، وَلَهُ مِثْلُ ذَلِكَ بِمَا كَسَبَ ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ " ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : " مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1437، م: 1024
حدیث نمبر: 24172
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2684
حدیث نمبر: 24173
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خِلَاسًا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَبِيتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ ، وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ ، قَالَتْ : فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَهُ لَمْ يَعْدُ مَكَانَهُ ، وَصَلَّى فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چادر میں لیٹ جایا کرتے تھے باوجودیکہ میں ایام سے ہوتی تھی، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر مجھ سے کچھ لگ جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی جگہ کو دھولیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں اور پھر اسی میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24174
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ ، أَوْ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ ، وَأَيُّكُمْ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے یا اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 24175
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ ، يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ ، فَيَقُولُ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 5743، م: 2191
حدیث نمبر: 24176
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا شَاةً ، وَلَا بَعِيرًا ، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1635
حدیث نمبر: 24177
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ " لَا يَنْقُصُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1437، م: 1024
حدیث نمبر: 24178
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : دَخَلَتْ عَلَيْهَا يَهُودِيَّةٌ اسْتَوْهَبَتْهَا طِيبًا ، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ ، فَقَالَتْ : أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَتْ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِلْقَبْرِ عَذَابًا ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، اس نے مجھ سے خوشبو مانگی، میں نے اسے دے دی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، وہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! لوگوں کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے جنہیں درندے اور چوپائے سنتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6366، م: 586
حدیث نمبر: 24179
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ ، فَأَغْلَظَ لَهُمَا ، وَسَبَّهُمَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا ؟ قَالَتْ : فَقَالَ : " أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَاهَدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ؟ " ، قَالَ : " قُلْتُ : اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، أَوْ لَعَنْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً ، وَكَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترشی کے ساتھ انہیں سخت سست کہا، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! جس کو بھی آپ کی جانب سے خیر پہنچی ہو، لیکن ان دونوں کو خیر نہیں پہنچی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے اپنے رب سے عہد کیا ہے کہ کہ اگر میں کسی مومن کو لعنت ملامت کروں تو تو ان کلمات کو اس کے لئے مغفرت اور عافیت وغیرہ کا ذریعہ بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2600
حدیث نمبر: 24180
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ قَوْمٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمایاں ہوگئے، پھر فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، واللہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6101، م: 2356
حدیث نمبر: 24181
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ ، فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5262، م: 1477
حدیث نمبر: 24182
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ح وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، قَالَتْ : فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا ، قَالَتْ : فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ، ثُمَّ قَالَ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ " ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ : فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا ، مَسَحَهُ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " أَذْهِبْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پروردگار ! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام تھا جو میں نے سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، م: 2191
حدیث نمبر: 24183
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَرَقَهَا سَارِقٌ ، فَدَعَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأن حديث حبيب عن عطاء ليس بمحفوظ
حدیث نمبر: 24184
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ؟ قَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 24185
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَيَحْيَى الْمَعْنَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ " ، قَالَ : قِيلَ : فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَكَلَّمَ ؟ قَالَ : " سُكُوتُهَا إِذْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، کسی نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
حدیث نمبر: 24186
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ ، قَالَتْ : وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ ، فَقَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ ، فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا ، وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ ، فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ ، فَقُلْنَا : أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : لَا ، إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ ، قَالَتْ : فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا ؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، وہ کہتی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیروے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ پیر کا دن ختم ہو کر منگل کی رات شروع ہوئی تو وہ فوت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1387
حدیث نمبر: 24187
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ ، أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، قَالَت : وَعُتِقَتْ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، قَالَتْ : وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا ، فَتُهْدِي لَنَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ ، فَكُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کے حوالے سے تین قضیے سامنے آئے، اس کے مالک چاہتے تھے کہ اسے بیچ دیں اور وراثت کو اپنے لئے مشروط کرلیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا ( اپنے خاوند سے نکاح ختم کردیا) نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے تمہارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5279، م: 1057
حدیث نمبر: 24188
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، ح وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 996، م: 745
حدیث نمبر: 24189
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَتْ امْرَأَةٌ تَدْخُلُ عَلَيْهَا تَذْكُرُ مِنَ اجْتِهَادِهَا ، قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
حدیث نمبر: 24190
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمَةَ ، وَأَخَذَ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْخَمِيصَةَ هِيَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْبِجَانِيَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: بعد حديث: 373 معلقا بصيغة الجزم
حدیث نمبر: 24191
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ يَقْرَأُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ ، فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ سَجَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
حدیث نمبر: 24192
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانَ ، فَيَدْعُو لَهُمْ ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِصَبِيٍّ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچوں کو لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی بہا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح من فعله صلى الله عليه وسلم كما فى البخاري، 222، ومسلم: 286
حدیث نمبر: 24193
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 459، م: 1580
حدیث نمبر: 24194
حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، مَعْنَاهُ ، يَعْنِي لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4541
حدیث نمبر: 24195
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ ، لَقَدْ جَاءَتْ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُكَلِّمُهُ ، وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1 ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کو گھیرے ہوئے ہے، ایک جھگڑنے والی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہی تھی، میں گھر کے ایک کونے میں ہونے کے باوجود اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی لیکن اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی : " اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑا کر رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24196
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : جَاءَ حَمْزَةُ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1943، م: 1121
حدیث نمبر: 24197
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةً ، وَإِنَّ مَوَادَّ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کا ایک مادہ ہوتا ہے اور قریش کا مادہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل حجاج وهو ابن أرطاة
حدیث نمبر: 24198
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ تُبَالَةَ بِنْتِ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت " كُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ ، فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ ، فَنَطْرَحُهَا فِي السِّقَاءِ ، ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ لَيْلًا ، فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا ، أَوْ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا کرتے تھے اور وہ اس طرح کہ ہم لوگ ایک مٹھی کشمش یا کھجور لے کر اسے مشکیزے میں ڈال دیتے اور اوپر سے پانی ڈالتے تھے، رات بھر وہ یوں ہی پڑا رہتا اور صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمالیتے، اگر دن کے وقت ایسا کیا جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اسے نوش فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة تبالة
حدیث نمبر: 24199
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : " ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ " ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ ، قَالَ : " أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس شانے کی کوئی ہڈی یا تختی لے کر آؤ کہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھوا دوں جس میں ان سے اختلاف نہ کیا جاسکے، جب عبدالرحمن کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر ! اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کردیں گے کہ آپ کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن أبى بكر
حدیث نمبر: 24200
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ، قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحِسَابِ ، وَلَكِنَّ ذَلِكَ الْعَرْضُ ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، عُذِّبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سر سری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4939، م: 2876
حدیث نمبر: 24201
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1995
حدیث نمبر: 24202
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : قُلْتُ : لِعَائِشَةَ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، أَوْ فِي آخِرِهِ ؟ قَالَتْ : " رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ " ، قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً ، قُلْتُ : أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، أَوْ فِي آخِرِهِ ؟ قَالَتْ : " رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ " ، قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً ، قُلْتُ : أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ، أَوْ يُخَافِتُ بِهِ ؟ قَالَتْ : " رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ ، وَرُبَّمَا خَافَتَ " ، قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً .
مولانا ظفر اقبال
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں ؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں غسل فرمالیتے تھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں، اس پر میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے، اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے یا آخر میں ؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری ؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24203
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 24204
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا ، أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا ، وَأَلْطَفَهُمْ بِأَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کامل ترین ایمان والا وہ آدمی ہوتا ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہوں اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24205
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُكِحَتْ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ مَوْلَاهَا ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَإِنْ أَصَابَهَا ، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا ، فَإِنْ اشْتَجَرُوا ، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، قَالَ : وَكَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ ، قَالَ عَبد اللَّه : قَالَ أَبِي : السُّلْطَانُ : الْقَاضِي ، لِأَنَّ إِلَيْهِ أَمْرَ الْفُرُوجِ وَالْأَحْكَامِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہوجائے گا اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24206
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَعَدَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24207
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا أَصَابَ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادۂ منویہ کو دھو دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 232
حدیث نمبر: 24208
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ ، وَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5262، م: 1477
حدیث نمبر: 24209
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6456، م: 2082