حدیث نمبر: 24130
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا ، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي ، فَأَضْرِبَكَ بِهَا ، قَالَ : فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ ، فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " ، قَالُوا : يَا أَبَا شِبْلٍ ، سَلْهَا ؟ قَالَ : لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ ، فَسَأَلُوهَا ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اور ان کے کچھ ساتھی حج کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ ان میں سے کسی نے یہ کہ دیا کہ روزہ دار آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے اور اس کے جسم سے اپنا جسم لگا سکتا ہے۔ تو ان میں سے ایک آدمی جس نے دو سال تک شب بیداری کی تھی اور دن کو روزہ رکھا تھا، کہنے لگا میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی کمان اٹھا کر تجھے دے ماروں، اس نے کہا کہ تھوڑا سا انتظار کرلو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر ان سے یہ مسئلہ پوچھ لینا، چنانچہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے اور اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے، لوگوں نے کہا اے ابوشبل ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی مزید وضاحت پوچھو، انہوں نے کہا کہ آج میں ان کے یہاں بےتکلف کھلی گفتگو نہیں کرسکتا، چنانچہ لوگوں نے خود ہی پوچھ لیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927 ، م: 1106
حدیث نمبر: 24131
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ يَعْنِي أَبَا يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَاحِدَةٌ مِنْ آخِرِ وَجَدَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَت جگا فرماتے اپنے اہل خانہ کو جگاتے اور کمر بند کس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2024 ، م: 1174
حدیث نمبر: 24132
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ صَبِيًّا لِلْأَنْصَارِ لَمْ يَبْلُغْ السِّنَّ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ ، خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا ، وَخَلَقَ النَّارَ ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا ، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک انصاری بچہ فوت ہوگیا تو) میں عرض کیا یا رسول اللہ ! انصار کا یہ نابالغ بچہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہیں کوئی اور بات کہنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور یہ اسی وقت ہوگیا تھا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2662
حدیث نمبر: 24133
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ " ، قَالَتْ : وَفِيهِمْ أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں گناہوں کا غلبہ ہوجائے تو اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ کی اطاعت کرنے والے لوگوں کے ان میں ہونے کے باوجود ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر وہ اہل اطاعت اللہ کی رحمت کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام المرأة التى روى عنها الحسن ابن محمد ولاضطرابه
حدیث نمبر: 24134
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ ، وقرئ على سفيان : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ " فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عطاء بن السائب وقد روي سفيان عنه قبل الاختلاط وسلف بإسناد صحيح دون قوله: ثلاث برقم: 24107
حدیث نمبر: 24135
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره وسلف الكلام على الإسناد فى الرواية: 24032
حدیث نمبر: 24136
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1701 ، م: 1321
حدیث نمبر: 24137
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ عورتیں ان کیلئے حلال نہ کردی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف، وهو، وإن كان رجاله ثقات، قد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 24138
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كُنَّا نَرَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْهُ هَذَا ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ ، لَقَطَعْتُهَا " ، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، کچھ لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! ہم نہیں سمجھتے تھے کہ بات یہاں تک جا پہنچے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس کی جگہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3732
حدیث نمبر: 24139
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاث ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَأَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 514، م: 512
حدیث نمبر: 24140
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا ، هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن وهذا إسناد فيه انقطاع، سالم ابن أبى الجعد لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24141
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍ ، وأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَا يَعْصِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6696
حدیث نمبر: 24142
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامًا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ : لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ ، وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ امْرَأَتُكَ ، فَأَقُولُ : إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5125، م: 2438
حدیث نمبر: 24143
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1765 ، م: 1311
حدیث نمبر: 24144
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا " . قَالَ : وَسَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ : " بِالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ ! موسلادھار ہو اور نفع بخش . شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا مسواک۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1036 ، م: 253
حدیث نمبر: 24145
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي اسْتَحَضْتُ ، فَقَالَ : " دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي ، وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 228، 309، م: 333
حدیث نمبر: 24146
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا نَسِيئَةً ، فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2096، م: 1603
حدیث نمبر: 24147
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1176
حدیث نمبر: 24148
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إبراهيم
حدیث نمبر: 24149
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبِي : وَلَمْ يَرْفَعْهُ يَعْلَى ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ ، فَدَخَل بِهَا ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6084، م: 1433
حدیث نمبر: 24150
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا ، فَلَمَّا أُعْتِقَتْ ، وَقَالَ مَرَّةً : عُتِقَتْ ، خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، قَالَتْ : وَأَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا ، وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ ، قَالَتْ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کا خاوند آزاد آدمی تھا، جب بریرہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خیار عتق دے دیا، اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں کہ اس کے مالک اسے بیچنا چاہتے تھے لیکن ولاء کی شرط نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 24151
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2970
حدیث نمبر: 24152
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جس وقت نکاح کیا تو ان کی عمر نوے سال تھی اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1422
حدیث نمبر: 24153
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِنَّ الصَّلَاةَ يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ، قَالَتْ : أَلَا أَرَاهُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ ! ! رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گذرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا ہے، حالانکہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چارپائی کی پائنتی کی جانب سے کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 24154
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ با جو دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے اور اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 24155
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَلَّدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا اور اس کے گلے میں قلادہ باندھ دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1701، م: 1321
حدیث نمبر: 24156
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْه بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے ایک درجہ بلند اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2572
حدیث نمبر: 24157
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ ، وَكُفِّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے ایک درجہ بلند اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2572
حدیث نمبر: 24158
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ ، فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ ، فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ ، فَاسْتَحَى أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ ، قَالَ : فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ " لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا ؟ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ ، لَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي " .
مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مہمان قیام پذیر ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا زرد رنگ کا لحاف اسے دینے کا حکم دیا، وہ اسے اوڑھ کر سوگیا، خواب میں اس پر غسل واجب ہوگیا، اسے اس بات سے شرم آئی کہ اس لحاف کو گندگی کے نشان کے ساتھ ہی واپس بھیجے اس لئے اس نے اسے پانی سے دھو دیا اور پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس بھیج دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس نے ہمارا لحاف کیوں خراب کیا ؟ اس کیلئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ اسے انگلیوں سے کھرچ دیتا، کئی مرتبہ میں نے بھی اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24159
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، وَعَنِ الْقَاسِمِ بن محمد ، يحدثان ذاك ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، لَا أَحْفَظُ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " انْتَظِرِي ، فَإِذَا طَهُرْتِ ، فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَهِلِّي مِنْهُ ، ثُمَّ الْقَيْنَا " ، وَقَالَ مَرَّةً : " ثُمَّ وَافِينَا بِجَبَلِ كَذَا وَكَذَا " ، قَالَ : أَظُنُّهُ قَالَ : " كَذَا ، وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ أَوْ قَدْرِ نَفَقَتِكِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ دو عبادتیں (حج اور عمرہ) کر کے جا رہے ہیں اور میں ایک ہی عبادت (حج) کر کے جا رہی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انتظار کرلو، جب پاک ہوجاؤ تو تنعیم جا کر وہاں سے عمرے کا احرام باندھ لینا، پھر عمرہ کر کے فلاں فلاں پہاڑ پر ہم سے آملنا، لیکن یہ تمہارے حصے یا خرچ کے مطابق ہوگا، یا جیسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 1787 ، م: 1211
حدیث نمبر: 24160
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ ، فَقَالَتْ : يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ ، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ ؟ ! " لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، فَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت عبدللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر کے بال کھول لیا کریں، انہوں نے فرمایا عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو غسل کرتے وقت سر کے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں، وہ انہیں سر منڈوا دینے کا حکم کیوں نہیں دیتے ؟ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین مرتبہ سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 331
حدیث نمبر: 24161
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ، ثُمَّ يَنَامُ ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَيَغْتَسِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے، پھر جب سونے کے بعد بیدار ہوتے تب غسل فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24162
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ ؟ كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی۔ وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے ؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6466، م: 783
حدیث نمبر: 24163
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " ، يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثر ت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن کریم پر عمل فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4968، م: 784
حدیث نمبر: 24164
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا ؟ قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ ، وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا ، وَلَا مَرِيضًا ، وَلَا غَائِبًا ، وَلَا شَاهِدًا ، فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْر " .
مولانا ظفر اقبال
قابوس اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے ایک عورت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کیلئے بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نماز کی پابندی کرنا زیادہ محبوب تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں طویل قیام فرماتے تھے اور خوب اچھی طرح رکوع و سجود کرتے تھے اور وہ نماز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے خواہ تندرست ہوں یا بیمار، غائب ہوں یا حاضر تو وہ فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة المرأة التى أرسلها والد قابوس - وقابوس فيه لين
حدیث نمبر: 24165
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نعش کو بسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 24166
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 560
حدیث نمبر: 24167
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کی اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1169، م: 724
حدیث نمبر: 24168
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " ، قَالَتْ : فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں، وہ کہتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق وہ اتنی ہی مقدار بنتی تھی کہ جس میں کوئی اتر آئے اور کوئی چڑھ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 622 ، م: 1092
حدیث نمبر: 24169
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ، غَمَزَ ، يَعْنِي رِجْلِي ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ، ثُمَّ يَسْجُدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ بہت بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، حالانکہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانا چاہتے تو میرے پاؤں میں چٹکی کاٹ دیتے، میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور وہ سجدہ کرلیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 519، م: 744