حدیث نمبر: 24050
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا ، قَالَتْ : فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِهِ ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ كُنْتَ أَقْسَمْتَ شَهْرًا ؟ فَعَدَّتْ الْأَيَّامُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1083
حدیث نمبر: 24051
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ، لَا يُعْرَفْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 372، م: 645
حدیث نمبر: 24052
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْحُدَيَّا ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 24053
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا تَسْتَعِينُهَا وَكَانَتْ مُكَاتَبَةً ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ ؟ فَأَتَتْ أَهْلَهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَاءَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں ؟ وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 24054
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ؟ فَقَالَ : " ائْذَنِي لَهُ " ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، قَالَ : " ائْذَنِي لَهُ ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یا رسول اللہ ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445
حدیث نمبر: 24055
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا ، فَأَعْطَيْتُهَا تَمْرَةً ، فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح رواه الزهري أيضا بواسطه عبدالله بن أبى بكر عن عروة وهو أشبه، خ: 1418، م: 2629
حدیث نمبر: 24056
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ، فَكَانَ يُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرَائِضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 24057
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِشَاءِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فَإِذَا أَصْبَحَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 24058
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : دَخَلَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي الْبَتَّةَ ، وَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ تَزَوَّجَنِي ، وَإِنَّمَا عِنْدَهُ مِثْلُ هُدْبَتِي ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَا تَنْهَى هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! فَمَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ، لَا ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا کہ مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کرلیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر ! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے ؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر فرمایا شاید تم رفاعہ کے پاس واپس جانے کی خواہش رکھتی ہو ؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6084، م: 1433
حدیث نمبر: 24059
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ " ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سوگئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہاہو اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 569، م: 638
حدیث نمبر: 24060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمَا قَالَا : لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَتَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " ، تَقُولُ عَائِشَةُ : يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر 1884 سندا ومتنا، خ: 435، م: 531
حدیث نمبر: 24061
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس : أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ : " مُرْ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا " فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ ، وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ ، وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى ، قَالَتْ : وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَشاءم النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَرَاجَعَتْهُ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی (بقول راوی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا) کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہی حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے فرما دیا تھا کہ لوگوں سے کہہ دو ، وہ نماز پڑھ لیں، عبداللہ واپس جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا کہ اے عمر ! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چنانچہ وہ نماز پڑھانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو فوراً پہچان گئے کیونکہ ان کی آواز بلند تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ عمر کی آواز نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور مومنین اس سے انکار کرتے ہیں، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کردیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوا تھا اور گنہگار بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح دون قول الزهري: فقال النبى صلى الله عليه وسلم وهو فى بيت ميمونة... فهو ضعيف لانقطاعه، تفرد بوصله محمد بن إسحاق كما فى الرواية السالفة: 18906، ولم يثبت تصريح سماعه من وجه صحيح، خ: 665، م: 418، دون قول الزهري
حدیث نمبر: 24062
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتَا : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا ، ثُمَّ يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ان دونوں نے فرمایا بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24063
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 24064
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ ، وَإِلَّا فَرُشَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اس لئے جب تم اسے دیکھا کرو تو کپڑے کو دھولیا کرو، ورنہ پانی چھڑک دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَرِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ مِنْ قَوْلِ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي ، وَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُهَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرَهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 1 - 3 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سبحانَ اللہِ وَ بِحَمدِہِ اَ ستَغفِر اللہ وَ اَ تُو بُ اِ لَیک کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں آپ کو یہ کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِذَا جَاءَ نَصر اللہِ وَ الفَتحُ پوری سورت تلاوت فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
حدیث نمبر: 24066
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ ، وَتَلَا الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میری برأت کی آیات نازل ہوئیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کرکے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور جب نیچے اترے تو دو آدمیوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا چنانچہ انہیں سزا دی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، محمد بن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث عند البيهقي فى «الدلائل»
حدیث نمبر: 24067
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَكَانَتْ امْرَأَتُهُ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ابْتَاعَ جَارِيَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَأَعْتَقَهَا ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ مَعَهُ ، فَابْتَغَى لَهَا نَعْلَيْنِ ، فَلَمْ يَجِدْهُمَا ، فَقَطَعَ لَهَا خُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، قَالَ : ابْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ شِهَابٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ " ، فَتَرَكَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
نافع " جن کی بیوی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ام ولدہ تھی، ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک باندی خریدی اور اسے آزاد کر کے اپنے ساتھ حج پر چلنے کا حکم دیا، اس کے لئے جو تیاں تلاش کی گئیں لیکن وہ نہیں ملیں تو انہوں نے ٹخنوں سے نیچے سے موزوں کو کاٹ کر وہی اسے پہنا دیئے، بعد میں صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو موزے پہننے کی اجازت دیتے تھے چنانچہ انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق وامرأة نافع قد توبعت
حدیث نمبر: 24068
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، وَأَفْتِلُ قَلَائِدَ الْبُدْنِ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْبُدْنُ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف قربانی کے جانور بھیج دیتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے، جب تک کہ جانور مکہ مکرمہ نہ پہنچ جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1321
حدیث نمبر: 24069
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورة إبراهيم آية 48 ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى الصِّرَاطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت یَومَ تُبدَلُ ا لا رضُ غَیرَ الارضِ ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یارسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2791
حدیث نمبر: 24070
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور نماز سے فارغ ہو کر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 24071
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ طَافُوا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ ، وَالَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر جب منیٰ سے واپس آئے تو حج کا طواف اور سعی کی اور جن لوگوں نے حج قران کیا تھا انہوں نے صرف ایک ہی مرتبہ طواف و سعی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1638 ، م: 1211
حدیث نمبر: 24072
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، اضْطَجَعَ ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَانَةً تَحَدَّثَ مَعِي ، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً نَامَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز تہجد پڑھ کر جب فارغ ہوتے تو لیٹ جاتے تھے، اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ باتیں کرتے اور اگر میں سو رہی ہوتی تو خود بھی سوجاتے یہاں تک کہ مؤذن آجاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1161، م: 743
حدیث نمبر: 24073
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّهُ ، أَوْ إِنِّي ، تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1147، م: 738
حدیث نمبر: 24074
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، وَعَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرَ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يَصُومُ " ، وَقَالَتْ فِي حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ : " فِي رَمَضَانَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طور پر وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 24075
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ ، فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ ، فَلَا يَعْصِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6696
حدیث نمبر: 24076
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ، فَأَحَلُّوا حِينَ طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَلَمْ يُحِلُّوا إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ لوگوں نے عمرے کا اور بعض لوگوں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، پھر جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، انہوں نے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے احرام کھول لیا اور جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا وہ دس ذی الحجہ سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1562، م: 1211
حدیث نمبر: 24077
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24078
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ الدِّينَارِ فَصَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6789 ، م: 1684
حدیث نمبر: 24079
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6790 ، م: 1684
حدیث نمبر: 24080
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً ، قُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، كَذَاكُمْ الْبِرُّ ، كَذَاكُمْ الْبِرُّ " ، وَقَالَ مَرَّةً عَنْ عَائِشَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں، نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24081
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَلَمَّا رَآهُ ، تَلَوَّنَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ مَرَّةً : تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، وَهَتَكَهُ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ ، أَوْ يُشَبِّهُونَ " ، قَالَ سُفْيَانُ سَوَاءٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5954، م: 2107
حدیث نمبر: 24082
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ ، فَهُوَ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 242 ، م: 2001
حدیث نمبر: 24083
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 286، م: 305
حدیث نمبر: 24084
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے اجتناب نہیں فرماتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
حدیث نمبر: 24085
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ جَاءَ عَمِّي بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " ائْذَنِي لَهُ ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ " ، قُلْتُ : إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، قَالَ " تَرِبَتْ يَمِينُكِ ، ائْذَنِي لَهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ عَمُّكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے چچا نے میرے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، وہ تمہارے چچا ہیں، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6156، م: 1445
حدیث نمبر: 24086
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ اخْتَصَمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ، قَالَ عَبْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، وَقَالَ سَعْدٌ : أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ ، فَانْظُرْ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، قَالَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد ابن زمعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یارسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد ! یہ بچہ تمہارا ہے، بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ ! تم اس سے پردہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2421، م: 1457
حدیث نمبر: 24087
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " شَغَلَنِي أَعْلَامُهَا ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ ، وَأْتُونِي بأنبجانية " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 752، م: 556
حدیث نمبر: 24088
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 24089
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْقَدَحِ ، وَهُوَ الْفَرَقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے " جو ایک فرق کے برابر ہوتا تھا " غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 250، م: 319