حدیث نمبر: 24410
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 373
حدیث نمبر: 24411
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ ، فَغَسَلَ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ ، اجْتَزَأَ بِذَلِكَ ، أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ ؟ قَالَتْ : " بَلْ كَانَ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
بنو سواء کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
حدیث نمبر: 24412
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَفُّتِ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران نماز دائیں بائیں دیکھنے کا حکم پو چھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اچک لینے والا حملہ ہوتا ہے جو شیطان انسان کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على أشعث والصحيح أشعث عن أبيه عن مسروق
حدیث نمبر: 24413
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 24414
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا ، فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ ، فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ امور مسلمین میں سے کسی چیز کی ذمہ داری عطاء فرمائے اور اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمالے تو اسے ایک سچا وزیر عطا فرما دیتا ہے جو بادشاہ کو بھول جانے پر یاد دلاتا ہے اور یاد رہنے پر اعانت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم بن خالد الزنجي
حدیث نمبر: 24415
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : الْخُزَاعِيُّ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! معمولی گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہوسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 24416
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ ، فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ ! موت کی بےہوشیوں میں مدد فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 24417
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
حدیث نمبر: 24418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَم ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ ، قَالَتْ : فَأَمَرْتُ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا ، قَالَتْ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا تو وہ کچھ لے کر آیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24419
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زُرْعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ ، وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ ، وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا گھر ہے اس شخص کا جس کا کوئی گھر نہ ہو اور مال ہے اس شخص کا جس کا کوئی مال نہ ہو اور دنیا کے لئے وہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة دويد ولضعف زرعة
حدیث نمبر: 24420
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا خَالَةُ ، فَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ ؟ قَالَتْ : عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگے نہیں چلتی تھی، عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان ! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972، بزيادة يزيد بن رومان بين أبى حازم وعروة
حدیث نمبر: 24421
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رُومَانَ مَوْلَى عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ مَا رَأَى مُنْخُلًا وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ قُبِضَ " ، قُلْتُ : كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ ؟ قَالَتْ : " كُنَّا نَقُولُ أُفٍّ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھلنی نہیں دیکھی اور کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی، بعثت سے لے کر وصال تک یہی حالت رہی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ لوگ جو کی روٹی چھانے بغیر کس طرح کھالیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ " اف " کہتے جاتے تھے (تکلیف کے ساتھ حلق سے اتارتے تھے، یا صرف منہ سے پھونک مار لیا کرتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل ورواية سهل بن سعد السالف 332/5 يغني عنه
حدیث نمبر: 24422
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَخْرُجُ نُجَاهِدُ مَعَكُمْ ؟ قَالَ : " لَا ، جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ ، َهُوَ لَكُنَّ جِهَادٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، يزيد بن عطاء فيه لين ولكن تويع، خ: 1520
حدیث نمبر: 24423
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : وَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ مِنْهُ إِذَا شَرِبْتَهُ ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " . حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرنِي أَبِي ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ يَقْضِي عَلَى بَابِهِ ، قَالَ أَبِي وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَرَوَى عَنْه مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَرَبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہو، اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔ یحییٰ بن واضح کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ میں نے ابوعثمان عمرو بن سلیم کو دیکھا کہ ان کے دروازے پر فیصلہ کیا جا رہا ہے، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وہی ہیں جن سے مہدی بن میمون، مطرف بن طریف، ربیع بن صبیح اور لیث بن ابی سلیم روایات نقل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24425
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : فَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ ، فَقَالَ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ " ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف شريك
حدیث نمبر: 24426
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ السَّائِبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَفَعَتْهُ ، قَالَتْ : قَالَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره دون قوله غير متربع فزيادة منكرة تفرد بها شريك
حدیث نمبر: 24427
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الرِّفْقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرمالیتا ہے تو ان میں نرمی پیدا فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24428
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرْتُهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ : " إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ " ، أَوْ قَالَ " عُرُوقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کردے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم أبى بكر
حدیث نمبر: 24429
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ ، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ ، وَيَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے اور نماز کے لئے چلے جاتے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
حدیث نمبر: 24430
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : " دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ ، فَاغْتَسَلَتْ ، وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا الْحِجَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا اور غسل کرنے لگیں، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 251، م: 320
حدیث نمبر: 24431
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ ابْنِ صُخَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُوا مِنَ الْوِلَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24432
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہو، اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24433
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ آمِنَةَ الْقَيْسِيَّةِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أُوكِيَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صرف انہی مشکیزوں کا پانی پیا کرو جن کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة آمنة القيسية
حدیث نمبر: 24434
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ ، وَقَالَ : " لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھیں، اس دوران انہوں نے اپنے اونٹ پر لعنت بھیجی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دینے کا حکم دیا اور فرمایا میرے ساتھ کوئی ملعون چیز نہیں جانی چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد ابن زيد
حدیث نمبر: 24435
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَالْأَشْيَبُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ . وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا خَالِدُ ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا وَهِيَ حَائِضٌ ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے حائضہ ہونے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، راجع: 24397
حدیث نمبر: 24436
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُبَاشِرُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : " لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کے جسم سے جسم لگا تا ہے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہبند باندھنے کی جگہ سے اوپر کے جسم سے وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المبارك وهو ابن فضالة مدلس ويسوي وقد عنعن
حدیث نمبر: 24437
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْر ، ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد نبوی میں منبر لگوایا تاکہ وہ اشعار کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کریں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ روح القدس سے حسان کی تائید کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے رسول کا دفاع کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره دون قوله: وضع لحسان منبرا فى المسجد وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى الزناد وتفرده
حدیث نمبر: 24438
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: انظر ما قبله
حدیث نمبر: 24439
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ ، فَقِيلَ لَهَا : مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ ؟ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24440
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ : الطَّعَامُ ، وَالنِّسَاءُ ، وَالطِّيبُ ، فَأَصَابَ ثِنْتَيْنِ ، وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً ، أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ ، وَلَمْ يُصِبْ الطَّعَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں اچھی معلوم ہوتی تھیں کھانا، عورتیں اور خوشبو، دو چیزیں تو انہیں کسی درجے میں حاصل ہوگئیں لیکن ایک چیز نہ مل سکی، عورتیں اور خوشبو آپ کو مل گئی لیکن کھانا نہیں ملا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام الراوي عن عائشة
حدیث نمبر: 24441
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِاللَّيْلِ ، فَيَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ ، وَكَانَ نَوْمُهُ ذَلِكَ صَدَقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سوجاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سعيد بن جبير لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24442
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ يَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا لِصَبِيِّكُمْ هَذَا يَبْكِي ، فَهَلَّا اسْتَرْقَيْتُمْ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بچہ کیوں رورہا ہے ؟ تم اس کی نظر کیوں نہیں اتارتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى أويس
حدیث نمبر: 24443
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ ، فَهُوَ حَبْرٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم کی ابتدائی سات سورتیں حا صل کرلے وہ بہت بڑا عالم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24444
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا أَرَى أَنَّ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، وَلَكِنْ كَذَا كَانَ فِي الْكِتَابِ ، فَلَا أَدْرِي أَغْفَلَهُ أَبِي أَوْ كَذَا هُوَ مُرْسَلٌ ؟.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى الزناد
حدیث نمبر: 24445
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوَتْرِ مِنَ الْعَشْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب قدر کو عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2017
حدیث نمبر: 24446
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ طُولِهِنَّ وَحُسْنِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ عَيْنِي تَنَامُ ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پو چھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سوجاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1147، م: 738
حدیث نمبر: 24447
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُنْتَفَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان
حدیث نمبر: 24448
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، قَالَ : أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ، قَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، فَآذِنِّي ، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا ، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ : " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ " ، قَالَتْ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابویونس " جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کے لئے قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھ دوں اور فرمایا جب تم اس آیت حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى پر پہنچو تو مجھے بتانا، چنانچہ میں جب وہاں پہنچا تو انہیں بتادیا، انہوں نے مجھے یہ آیت یوں لکھوائی حَا فِظُوا عَلَی الصَلاۃِ الوُسطَی وَصَلَاۃِ العَصرِ وَ قُو مُوالِلَہِ قَا نِتِینَ اور فرمایا کہ میں نے یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 629
حدیث نمبر: 24449
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر یا بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 560
حدیث نمبر: 24450
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ مِنْ آلِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَنَعَ أَمْرًا مِنْ غَيْرِ أَمْرِنَا ، فَهُوَ مَرْدُودٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1718