حدیث نمبر: 23854
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَةَ الْكَلَاعِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ ، يَقُولُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا ؟ " قَالُوا : حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرَةِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ " . قَالَ : فَقَالَ : " مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ ؟ " قَالُوا : حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهِيَ حَرَامٌ ، قَالَ : " لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَةِ أَبْيَاتٍ ، أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ بدکاری کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ قیامت تک حرام رہے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے لئے دس عورتوں سے بدکاری کرنا اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے پھر پوچھا کہ چوری کے متعلق تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ حرام رہے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دس گھروں میں چوری کرنا اپنے پڑوسی کے یہاں چوری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد