حدیث نمبر: 23845
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سَقْيُ الْمَاءِ " ، قَالَ : فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : مَنْ يَقُولُ تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ ؟ قَالَ الْحَسَنُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔
حدیث نمبر: 23846
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ ، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا ؟ قَالَ : " أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں انہوں نے منت مان رکھی تھی کیا ان کی طرف سے میرا کسی غلام کو آزاد کرنا کفایت کر جائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرسکتے ہو۔
حدیث نمبر: 23847
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الصَّرَّافِ أَوْ هُوَ سَعِيدٌ الصَّرَّافُ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ ، حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ " ، قَالَ عَفَّانُ : وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً وَلَيْسَ فِيهِ شَكٌّ ، أَمَلَّهُ عَلَيَّ أَوَّلًا عَلَى الصِّحَّةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصار کا یہ قبیلہ ایک آزمائش ہے یعنی ان سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے نفرت نفاق کی علامت ہے۔